اللہ عزوجل نے انسان کی تخلیق فرمائی تو ایسا نہیں بنایا کہ اس سے کبھی کسی لغزش،
شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔اور انسان کی نس نس سے واقف ہوتا ہے۔مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کی سعی کرتا ہے۔اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ نفسِ امارہ بھی انسان کو گناہوں پر ابھارتا ہے۔لہٰذا بشری تقاضے کے تحت اگر انسان سے کوئی لغزش ہو جائے تو ایسا بھی نہیں ہے کہ گناہ کا داغ ہمیشہ اس کے دامن پر باقی رہے۔بلکہ اگر انسان بارگاہِ الٰہی میں اپنے دامن کو پھیلائے،
”التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ “
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔(سنن ابن ماجہ)
زندگی دراصل گناہ و ثواب،
انسان اگر گناہ کے بعد اس کا ڈھنڈورا پیٹے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ہے۔
”كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ“
میری تمام امت کو معافی مل سکتی ہے،
اس لیے ہر شخص کو اپنے گناہوں کی تشہیر اور دوسروں کی چھپی ہوئی لغزشوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔اور گناہوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے کیونکہ اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
«وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(صحیح مسلم: 2699)
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی خامیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے تھے اور کسی کی ایک لغزش کی بنیاد پر اس کی تمام خوبیوں کو فراموش نہیں کرتے تھے۔بلکہ اس کی اچھی صفات کو ہائی لائٹ کیا کرتے تھے۔
فتحِ مکہ کے موقعے پر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔
رسول اللہ ﷺ نہایت رازداری کے ساتھ فتحِ مکہ کی تیاری فرما رہے تھے اور آپ کی خواہش تھی کہ یہ خبر اہلِ مکہ تک نہ پہنچے۔لیکن حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہلِ مکہ کو ایک خط لکھ کر اس تیاری سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے بذریعۂ وحی نبی ﷺ کو اس معاملے سے آگاہ فرما دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی،
”يَا حَاطِبُ،
(اے حاطب! یہ کیا معاملہ ہے؟)
حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے یہ کام کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام سے پھرنے کی وجہ سے،
رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا:
”صَدَقَ،
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
”يَا رَسُولَ اللَّهِ،
(اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا،
(صحیح بخاری: 3007)
دیکھیں نبی ﷺ نے کس طرح حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی غلطی کو نظر انداز کیا اور ان کی اچھائیوں کو بیان کیا۔
اسی طرح ایک اور صحابی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔وہ شراب نوشی میں مبتلا ہوگئے تھے اور اس جرم کی وجہ سے ان پر حد بھی جاری کی گئی۔ایک مرتبہ جب انھیں حد کے لیے لایا گیا تو حاضرین میں سے کسی شخص نے ان پر لعنت بھیجی۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”لَا تَلْعَنُوهُ،
ان پر لعنت نہ بھیجو۔اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں۔(صحیح بخاری: 6780)
حدیث پر غور کیجیے! ایک طرف آپ ﷺ نے شراب نوشی کے جرم پر شرعی حد جاری فرمائی،
نبی ﷺ کا یہ طرزِ عمل ہمیں بھی اپنانا چاہیے۔لوگوں کی لغزشوں کو اچھالنے کے بجائے ان کی چھپی ہوئی خامیوں پر پردہ ڈالنا چاہیے اور ان کی خوبیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔
البتہ یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر عیب پر پردہ ڈالنا بھی درست نہیں ہے۔اگر کسی برائی کو چھپانے سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،






