مدارسِ اسلامیہ امتِ مسلمہ کی ان عظیم دینی درس گاہوں اور تربیت کدوں کا نام ہے جہاں کتاب وسنت کے انوار وتجلیات سے قلوب واذہان کی روشنی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جہاں فقہ واستدلال کے کاخہائے بلند استوار کیے جاتے ہیں۔جنھوں نے صدیوں سے علمِ دین کی شمع کو فروزاں رکھا۔قرآن و حدیث کے علوم کو سینہ بہ سینہ منتقل کیا۔اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کی اور نسل در نسل ایسے اساطین علم وفن پیدا کیے جنھوں نے منبر و محراب،میدانِ دعوت و تبلیغ اور معاشرے کے مختلف گوشوں میں دین کی خدمت انجام دی۔تہذیب وتمدن،علوم وفنون اور فقہ وقانون کے خوش رنگ دبستان سجائے اور اس عالم آشفتہ کی زلف وکاکل کو آراستہ کیا۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمان ایک اقلیتی قوم کی حیثیت سے زندگی گزارتے ہیں،مدارسِ دینیہ نے مسلمانوں کے دینی تشخص،اسلامی شعور اور مذہبی شناخت کے تحفظ میں جو کردار ادا کیا ہے،اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر مدارس نہ ہوتے،اگر ان کے فیض یافتہ علما مساجد،مکاتب،بستیوں اور شہروں میں قرآن و حدیث کی تعلیم عام نہ کرتے،اگر انھوں نے ایمان،توحید،رسالت،آخرت،عبادات،معاملات اور اسلامی اخلاق وآداب کی تعلیم لوگوں تک نہ پہنچائی ہوتی تو شاید آج ہندوستان کے مسلمانوں کے درمیان وہ دینی ماحول باقی نہ رہتا جسے ہم اپنے گرد و پیش میں دیکھتے ہیں۔انھی مدارس نے ایسے وقت میں بھی چراغِ دین روشن رکھا جب حالات سازگار نہیں تھے،حق کی روشنی مدھم پڑتی جا رہی تھی،باطل کے گھٹاٹوپ اندھیرے ہر سو چھاتے جا رہے تھے،وسائل محدود تھے اور بسا اوقات انھیں شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔
اس لیے مدارس کی اصلاح کی گفتگو مدارس کی مخالفت یا ان کی اہمیت کو کم کرنے کی گفتگو نہیں،بلکہ ان کے مقام و کردار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔مدارس کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی ماضی میں تھی،بلکہ موجودہ دور کے فتنوں اور چیلنجوں کے پیش نظر اس سے بھی زیادہ ہے۔البتہ آج سوالات بدل گئے ہیں،ذرائع بدل گئے ہیں اور نئی نسل کی ذہنی ساخت بھی پہلے سے مختلف ہے۔اس لیے مدارس کو اپنی بنیادی دینی شناخت پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اپنے نظام اور طریقۂ کار کا جائزہ لینا ہوگا۔اصلاح کا مطلب اپنی شناخت کھونا نہیں،بلکہ اپنی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہوئے زمانے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
نصابِ تعلیم کی اصلاح:
نصاب کسی بھی تعلیمی ادارے کی روح ہوتا ہے۔مدارس کے نصاب میں قرآن و حدیث،عقیدہ،فقہ،اصولِ فقہ،عربی زبان و ادب،سیرت اور اسلامی علوم کی بنیادی حیثیت برقرار رہنی چاہیے،یہی مدارس کی شناخت اور اساس ہیں۔البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علوم کو محض کتابی انداز میں پڑھانے کے بجائے فہم،تحقیق اور عملی زندگی سے جوڑا جائے۔طالب علم کو صرف عبارت پڑھانے اور یاد کرانے کے بجائے یہ سمجھایا جائے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے،اس کا مقصد کیا ہے اور موجودہ حالات میں اس کی تطبیق کیسے ہو سکتی ہے۔
نصاب میں عصرِ حاضر کے بنیادی مسائل،دعوت و ابلاغ،بحث و تحقیق،صحافت،ڈیجیٹل وسائل اور ضروری عصری معلومات کو بھی مناسب جگہ دی جانی چاہیے۔انگریزی اور ہندی سے بنیادی واقفیت بھی پیدا کی جائے تاکہ فارغینِ مدارس معاشرے کے مختلف طبقات سے مؤثر انداز میں رابطہ کر سکیں۔تاہم عصری علوم کو دینی علوم کا متبادل نہیں بلکہ معاون بنایا جائے۔مقصد ایسا متوازن نصاب تیار کرنا ہو جو ایک طرف قرآن و سنت سے مضبوط تعلق پیدا کرے اور دوسری طرف طالب علم کو اپنے زمانے کے سوالات اور حالات کو سمجھنے کے قابل بنائے۔
باصلاحیت اساتذہ کا انتخاب اور معقول تنخواہ:
تعلیمی نظام کی کامیابی کا سب سے بڑا انحصار اساتذہ پر ہوتا ہے۔ایک مدرسے کی عمارت،نصاب اور وسائل اپنی جگہ اہم ہیں،لیکن اگر اساتذہ علمی اعتبار سے مضبوط،تدریسی صلاحیت سے بہرہ مند،مخلص،باکردار اور طلبہ کی تربیت کا شعور رکھنے والے نہ ہوں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔اس لیے اساتذہ کے انتخاب میں محض سند،ادارے یا ملک کے نام کو معیار بنانے کے بجائے علمی قابلیت،تدریسی صلاحیت،اخلاق وکردار اور تربیتی اہلیت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
اس حوالے سے یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ بعض اداروں میں بیرونی جامعات سے فارغ التحصیل افراد کو محض ان کی سندوں کی بنیاد پر ترجیح دی جاتی ہے،جب کہ ہندوستان کے مدارس و جامعات کے فارغین میں بھی ماشاء اللہ ایسے بے شمار باصلاحیت افراد موجود ہیں جو بڑے اداروں میں نہایت عمدگی سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی عملی کارکردگی سے اپنی صلاحیت ثابت کر رہے ہیں۔اس لیے معیار مدنیت،مکیت یا کسی مخصوص جامعہ کی سند نہیں،بلکہ قابلیت اور کارکردگی ہونی چاہیے۔جو شخص واقعی اہل،باصلاحیت اور ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت رکھتا ہو،اسے اس کی اہلیت کے مطابق ترجیح اور مشاہرہ ملنا چاہیے،خواہ اس نے تعلیم کسی بھی ملک یا ادارے سے حاصل کی ہو۔اگر کسی ہندوستانی مدرسے یا جامعہ کے فارغ التحصیل میں علمی و تدریسی صلاحیت موجود ہے تو اسے محض اس وجہ سے نظر انداز کرنا کہ وہ کسی بیرونی جامعہ کا فارغ نہیں،نہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ خود اپنے علمی اداروں کی قدر و وقعت کے شایانِ شان۔آخرکار کسی ادارے کی اصل عظمت اس کی سند کے نام سے نہیں،بلکہ اس کے افراد کی صلاحیت،کردار اور کارکردگی سے ظاہر ہوتی ہے۔
اس لیے راقم الحروف کی رائے کے مطابق بہتر ہوگا کہ تقرری کے لیے ایک واضح اور منصفانہ اہلیتی نظام قائم کیا جائے،جس میں تحریری و عملی امتحان،تدریسی نمونہ،علمی استعداد،زبان دانی اور متعلقہ مضمون میں مہارت کو جانچا جائے۔جو امیدوار مقررہ معیار پر پورا اترے،اسے اس کی قابلیت اور ذمہ داری کے مطابق مناسب اور معیاری مشاہرہ دیا جائے۔اس طرح مدارس میں حقیقی میرٹ کو فروغ ملے گا،باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ادارے محض سند کے بجائے صلاحیت،اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر مضبوط افراد کا انتخاب کر سکیں گے۔
لیکن معیاری اساتذہ کا انتخاب اسی وقت ممکن ہے جب ان کے لیے معیاری اور باوقار تنخواہ کا انتظام بھی ہو۔آج مہنگائی کے اس دور میں اگر ایک استاد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل معاشی پریشانی میں مبتلا رہے تو اس سے کامل یکسوئی اور غیر معمولی تعلیمی کارکردگی کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ہم اگر چاہتے ہیں کہ مدارس میں بہترین اور باصلاحیت افراد تدریس کے میدان کو ترجیح دیں تو ہمیں ان کے معاشی مستقبل کو بھی محفوظ بنانا ہوگا۔تنخواہیں حالات اور مہنگائی کے اعتبار سے مناسب بنانا مدارس کی اصلاح کا بنیادی تقاضا ہے۔استاد کو معاشی عزت دی جائے گی تو وہ زیادہ اطمینان،یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ نسلوں کی تعمیر کر سکے گا۔
اساتذہ کا احترام اور ادارے میں باوقار ماحول:
اساتذہ کا احترام اور ان کے ساتھ باوقار برتاؤ بھی مدارس کی اصلاح کا ایک نہایت اہم پہلو ہے۔مدرسے کے ذمہ داران کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ استاد محض ایک ملازم نہیں بلکہ ادارے کی علمی و تربیتی بنیاد کا اہم ستون ہوتا ہے۔اس لیے اس کے ساتھ گفتگو،معاملہ اور اختلاف ہر صورت میں ادب،احترام اور شائستگی کے دائرے میں ہونا چاہیے۔بدقسمتی سے بعض اداروں میں،خصوصاً بعض شخصی اداروں میں،انتظامی اختیار کبھی کبھی اس حد تک غالب آجاتا ہے کہ اساتذہ کے ساتھ نہایت ہی غیر مناسب اور ناشائستہ طرزِ تعامل اختیار کیا جاتا ہے جس سے ان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔یہ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ سخت لہجے،تحقیر آمیز گفتگو،غیر مناسب سرزنش یا ہر معاملے میں محض حکم چلانے کا انداز کسی بھی تعلیمی ماحول کے لیے مفید نہیں۔
ذمہ دارانِ مدارس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ استاد عزت،اعتماد اور اطمینان کے ماحول میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔اگر ایک باصلاحیت اور مخلص استاد کو ادارے میں احترام،اعتماد اور مناسب مقام حاصل ہو تو وہ محض ملازمت نہیں کرتا بلکہ ادارے کو اپنا سمجھ کر کام کرتا ہے،طلبہ کی تربیت میں دل لگاتا ہے اور اپنی علمی صلاحیتیں پوری یکسوئی کے ساتھ بروئے کار لاتا ہے۔اس کے برعکس اگر اسے مسلسل بے توقیری،عدم اعتماد یا نامناسب رویے کا سامنا ہو تو اس کے دل میں ادارے سے وابستگی کمزور پڑ جاتی ہے،وہ صرف وقت پورا کرنے کی ذہنیت کے ساتھ کام کرنے لگتا ہے اور بالآخر بہتر ماحول کی تلاش میں ادارہ چھوڑ دیتا ہے۔
اساتذہ کا بار بار تبدیل ہونا بھی ادارے کے تعلیمی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔تجربہ کار اور پرانے اساتذہ جب مسلسل ادارہ چھوڑتے رہیں اور ہر سال نئے اساتذہ آتے رہیں تو طلبہ کے ساتھ ایک مضبوط تعلیمی و تربیتی رشتہ قائم نہیں ہوپاتا،تدریس میں تسلسل متاثر ہوتا ہے اور ادارے کی علمی روایت بھی مستحکم نہیں ہو پاتی۔اس لیے ذمہ داران کو چاہیے کہ اچھے اور باصلاحیت اساتذہ کو صرف تنخواہ ہی نہیں بلکہ عزت،اعتماد،مشاورت اور اطمینان کا ماحول بھی فراہم کریں۔
کسی استاد کی قدر و منزلت صرف اس بنا پر ہرگز کم نہ کی جائے کہ وہ ادارے کے انتظامی ذمہ دار کے ماتحت کام کرتا ہے۔بسا اوقات ایک استاد علمی قابلیت،تجربے،فہم اور تدریسی صلاحیت کے اعتبار سے خود ادارے کے ذمہ دار سے بھی زیادہ ممتاز ہو سکتا ہے۔انتظامی منصب اپنی جگہ محترم ہے،مگر منصب کسی شخص کو دوسروں کی تحقیر یا ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے کا حق نہیں دیتا۔ادارے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ دار اور استاد ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے لیے کام کرنے والے رفیق سمجھیں۔
اساتذہ کی مسلسل تربیت اور ٹریننگ کا اہتمام:
اچھے اساتذہ کا انتخاب یقیناً ضروری ہے،لیکن صرف تقرری کے وقت ان کی صلاحیت جانچ لینا کافی نہیں،ایک اچھا استاد بھی مسلسل سیکھنے اور اپنے تدریسی طریقوں کو بہتر بنانے کا محتاج ہوتا ہے۔زمانہ بدل رہا ہے،طلبہ کی ذہنی ساخت،تعلیمی ضروریات اور ذرائعِ تعلیم بدل رہے ہیں،اس لیے اساتذہ کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی پروگرام،علمی ورکشاپ اور تدریسی نشستیں منعقد ہونی چاہئیں۔انھیں جدید طریقۂ تدریس،طلبہ کی نفسیات،کلاس روم مینجمنٹ،تحقیق کے اصول،تعلیمی ٹیکنالوجی اور مؤثر ابلاغ سے واقف کرانا ضروری ہے۔
استاد صرف کتاب کا متن پڑھانے والا نہیں بلکہ طالب علم کی علمی شخصیت بنانے والا ہوتا ہے۔اسے یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ مشکل بات کو آسان انداز میں کیسے سمجھایا جائے،طلبہ میں سوال کرنے کا حوصلہ کیسے پیدا کیا جائے،کمزور طالب علم پر خصوصی توجہ کیسے دی جائے اور علم کو محض حافظے کے بجائے فہم اور عمل کے ساتھ کیسے مربوط کیا جائے۔مدارس میں اساتذہ کی علمی و تدریسی تربیت کو مستقل نظام کا حصہ بنانا تعلیمی اصلاح کے لیے نہایت ضروری ہے۔
امتحانی نظام میں اصلاح:
تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ امتحان بھی ہے،اس لیے امتحان کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ طالب علم نے کتنی عبارت یاد کی ہے یا کتنے اسباق مکمل کیے ہیں،بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے پڑھا ہوا کتنا سمجھا،اسے کس حد تک بیان کرسکتا ہے اور عملی صورتِ حال میں اس سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ضرورت ہے کہ امتحانات میں حفظ و یادداشت کے ساتھ فہم،تجزیہ،تحریر،تقریر،ترجمہ،تحقیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بھی مناسب جگہ دی جائے۔طالب علم سے صرف یہ نہ پوچھا جائے کہ کیا پڑھا؟ بلکہ یہ بھی جانچا جائے کہ کیا سمجھا؟ اور اس علم کو کہاں اور کیسے استعمال کرسکتا ہے؟ اسی طرح سال بھر کی تعلیمی کارکردگی،مطالعہ،تحریری مشق،تقریری صلاحیت اور عملی سرگرمیوں کو بھی طلبہ کی مجموعی تعلیمی پیش رفت کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔اگر امتحان کا نظام صرف نمبر اور کامیابی کی سند تک محدود رہے گا تو طالب علم بھی تعلیم کو امتحان تک محدود کردے گا،لیکن اگر امتحان فہم،صلاحیت اور عملی استعداد کا آئینہ بن جائے تو پورا تعلیمی ماحول خود بخود بہتر ہونے لگے گا۔
مدارس میں صحافت کا خصوصی اہتمام:
آج صحافت اور ذرائع ابلاغ انسانی ذہن سازی کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکے ہیں۔اخبارات،رسائل،ویب سائٹ،سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارم لوگوں کے خیالات،رجحانات اور ترجیحات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ایسے دور میں مدارس کا صحافت کے میدان میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سرگرم ہونا ضروری ہے،اس سے بے تعلق رہنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔
مدارس میں صحافت اور تحریر کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔مدارس کے فارغین عام طور پر اردو زبان میں لکھتے پڑھتے ہیں۔موجودہ ملکی حالات و ظروف کے تناظر میں ہندی اور انگریزی زبانوں کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ برادرانِ وطن کو ہم اپنا مخاطب بنا سکیں اور ان تک اپنی باتیں آسانی کے ساتھ پہنچا سکیں۔اس بات کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ طلبہ کو مضمون نویسی،خبر نویسی،اداریہ،تبصرہ،خلاصہ نگاری،تحقیقی تحریر اور جدید ڈیجیٹل صحافت کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔ہر مدرسے میں کم از کم ایک علمی و ادبی مجلہ یا باقاعدہ تحریری سرگرمی کا نظام ہونا چاہیے،تاکہ طلبہ اپنی علمی صلاحیتوں کو تحریر کے ذریعے بروئے کار لا سکیں۔
صحافت کا مقصد صرف قلم چلانا نہیں بلکہ صحیح فکر،درست معلومات اور ذمہ دارانہ انداز میں دین و علم کو معاشرے تک پہنچانا ہے۔اگر مدارس سے ایسے اربابِ قلم نکلیں جو اردو،ہندی اور انگریزی میں مؤثر اور معیاری تحریر پیش کر سکیں تو یہ مدارس کی دعوتی اور علمی خدمات کے دائرے کو بہت وسیع کر سکتا ہے۔
عربی زبان پر تحریری اور تقریری دونوں اعتبار سے خصوصی توجہ:
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ ایک طالب علم مدرسے میں بارہ،تیرہ بلکہ پندرہ سال تک تعلیم حاصل کرتا ہے،عربی کی متعدد کتابیں پڑھتا ہے،نحو و صرف کے قواعد سیکھتا ہے،قرآن و حدیث کے متون سے گزرتا ہے،لیکن اس کی اکثریت ایسی کیوں ہے کہ وہ عربی زبان میں اپنا مختصر تعارف بھی اعتماد کے ساتھ نہیں کرا سکتی؟ بہت سے طلبہ عربی میں ایک سادہ خط یا چند صفحات کی تحریر لکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے مدارس میں عربی کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے،مسئلہ یہ ہے کہ عربی کو اکثر ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے،ایک زندہ زبان کے طور پر نہیں۔زبان صرف قواعد پڑھنے سے نہیں آتی،اسے سننا،بولنا،پڑھنا اور لکھنا پڑتا ہے۔مدارس میں عربی بول چال کا ماحول پیدا کیا جائے،روزانہ گفتگو کی مشق ہو،عربی میں تقریر اور تحریر کے مواقع فراہم کیے جائیں اور طلبہ کو عربی اخبارات،رسائل اور جدید علمی مواد سے جوڑا جائے۔
عربی زبان میں مضبوط تحریری اور تقریری صلاحیت پیدا کرنا مدارس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے،کیونکہ قرآن و حدیث اور اسلامی علمی سرمایے سے براہِ راست استفادہ اسی وقت زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے جب طالب علم زبان پر عملی قدرت رکھتا ہو۔
طلبہ کا رہن سہن اور بنیادی سہولیات:
تعلیم صرف کتاب اور کلاس روم کا نام نہیں۔طالب علم جس ماحول میں رہتا ہے،وہ بھی اس کی تعلیمی اور جسمانی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔بعض اداروں میں آج بھی ضرورت سے زیادہ طلبہ کو چھوٹے اور تنگ کمروں میں رکھا جاتا ہے،مناسب روشنی اور ہوا کا انتظام نہیں ہوتا،صفائی کے مسائل ہوتے ہیں اور آرام و سکون کی بنیادی سہولیات بھی پوری نہیں ہوتیں۔ایسے ماحول میں طالب علم سے اعلیٰ درجے کی تعلیمی کارکردگی کی توقع کرنا مناسب نہیں۔
مدارس کو اپنے وسائل کے مطابق رہائش کے بہتر انتظام کی کوشش کرنی چاہیے۔کمروں میں گنجائش کے مطابق طلبہ رکھے جائیں،صفائی،روشنی،ہوا،بستر،واش روم اور پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام ہو۔کھانے کے نظام میں بھی صفائی،معیار،مقدار اور غذائیت کا خیال رکھا جائے۔سادہ غذا کافی ہے،لیکن سادہ اور ناقص غذا میں فرق ہے۔وسائل محدود ہوں تو سادگی اختیار کی جائے،مگر صحت اور بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
سرکاری ملازمت کا رجحان اور اصل مقصدِ تعلیم:
مدارس کے طلبہ میں سرکاری ملازمت کے حصول کا رجحان ایک الگ اور قابلِ غور مسئلہ ہے۔بعض اوقات طالب علم مدرسے میں داخل تو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے،لیکن چند ہی سالوں کے بعد اس کی توجہ مختلف سرکاری امتحانات کی تیاری کی طرف زیادہ ہوجاتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث اور دیگر بنیادی دینی علوم کی تعلیم بھی مطلوبہ یکسوئی سے حاصل نہیں کرپاتا اور نہ ہی جس امتحان کی تیاری کررہا ہوتا ہے اس میں ہمیشہ کامیابی حاصل کرپاتا ہے۔
روزگار کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے،لیکن مدارس کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کے علم و عمل اور دعوت و اصلاح کے میدان میں امت کی رہنمائی کرسکیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ مدارس کا علمی معیار اس قدر بلند کیا جائے اور فارغین کی علمی و عملی صلاحیت اس قدر مضبوط بنائی جائے کہ مدرسے سے فراغت کے بعد کسی طالب علم کا بحیثیت مدرس،امام،خطیب،محقق یا داعی تقرر بھی معاشرے میں قابلِ رشک کامیابی سمجھا جائے۔جس دن مدرسے کے فارغ التحصیل عالم کو کسی معتبر ادارے میں علمی منصب ملنے پر لوگ اسی طرح مبارک باد دیں گے جیسے کسی کو سرکاری ملازمت ملنے پر دیتے ہیں،اس دن مدارس کے بارے میں معاشرے کی سوچ بھی بدلے گی اور طلبہ کی ترجیحات بھی۔
اس کے لیے محض طلبہ کو سرکاری ملازمت سے دور رہنے کی نصیحت کافی نہیں،مدارس کو اپنی علمی حیثیت،معیارِ تعلیم اور فارغین کے مقام کو اس سطح تک بلند کرنا ہوگا کہ علمِ دین خود ایک باوقار اور قابلِ قدر مستقبل بن جائے۔
مدارس کا مالی نظام:
کسی بھی ادارے کی مضبوطی کے لیے مستحکم اور شفاف مالی نظام ناگزیر ہے۔مدارس کا نظام صرف وقتی چندوں اور غیر منظم عطیات پر منحصر نہ ہو،بلکہ آمدنی اور اخراجات کا باقاعدہ حساب،بجٹ سازی،آڈٹ،ریکارڈ کی حفاظت اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ہونی چاہیے۔مالی معاملات میں شفافیت سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے،اور یہی اعتماد مدارس کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
اہلِ خیر اور مخیر حضرات سے تعاون حاصل کرنے کے ساتھ مدارس کو مستقل آمدنی کے ذرائع،اوقاف اور ایسے منصوبوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے جن سے ادارے کے بنیادی اخراجات مستقل طور پر پورے ہوسکیں۔مالی وسائل صرف عمارتیں بنانے پر خرچ نہ ہوں بلکہ اساتذہ کی تنخواہوں،طلبہ کی بنیادی ضروریات،کتابوں،لائبریری،تعلیمی وسائل،تربیتی پروگراموں اور علمی ترقی کے منصوبوں کو بھی ترجیح دی جائے۔مالی نظام میں دیانت،شفافیت اور جواب دہی ہوگی تو مدرسہ نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ اس کے تعلیمی اور انتظامی فیصلوں میں بھی استحکام پیدا ہوگا۔
اصلاح تنقید نہیں،تعمیر کا نام ہے:
مدارس کی اصلاح کا مقصد مدارس کی اہمیت کم کرنا نہیں بلکہ ان کے عظیم کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔جو شخص مدارس سے محبت کرتا ہے،اسے ان کی کمزوریوں کی اصلاح کی فکر بھی ہونی چاہیے۔ہمیں ماضی کی خدمات پر فخر ضرور کرنا چاہیے،لیکن صرف ماضی کے سہارے مستقبل نہیں بنایا جاسکتا۔پدرم سلطان بود کی رٹ لگانے سے کوئی سلطان نہیں بن جاتا ہے،استخواں فروشی عزم وحوصلے کے ضعف واضمحلال کی عکاسی کا اشاریہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس اپنی دینی شناخت،قرآن و سنت سے وابستگی اور علمی روایت کو مضبوط رکھتے ہوئے اپنے نصاب،اساتذہ،صحافت،عربی زبان،طلبہ کی رہائش،مالی نظام اور تعلیمی ماحول میں ضروری اصلاحات پیدا کریں۔یہ کام کسی ایک فرد یا ایک کمیٹی سے نہیں ہوگا۔انتظامیہ،علما،اساتذہ،طلبہ،والدین اور اہلِ خیر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
مدارس نے امت کے ماضی کو محفوظ کیا ہے،اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے حال کو سنواریں تاکہ وہ امت کے مستقبل کو بھی روشن کرسکیں۔وقت صرف شکوے کا نہیں،عمل کا ہے،صرف تنقید کا نہیں،تعمیر کا ہے۔اصلاحِ مدارس وقت کی اہم ضرورت ہے،اور اس ضرورت سے آنکھیں چرانا آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔