کبھی کبھار کسی بہت قریبی رشتہ دار کے گزر جانے پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا کسی نیک انسان کے گزر جانے پر ہوتا ہے۔آپ کی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنا بڑپن جتاتے ہیں،
دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
سیدنا مصعب ابن عمیر نے جنگ بدر کے روز اپنے سگے بھائی کے بارے میں انصاری صحابی ابو یُسر کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ اس کے ہاتھ کَس کر باندھنا،
اسلام میں خون سے بڑھ کر دین کا رشتہ ہے۔اور یہی رشتہ ہمارا” شیخ محترم“ سے تھا۔آپ کی شخصیت منفرد تھی۔اتنا ہنس مکھ چہرہ اور اتنی پُر کشش شخصیت بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔بڑے علماء اپنی تقریروں اور تحریروں سے جانے جاتے ہیں۔اسٹیج کی چکا چوند میں،
میں نے آپ کو پہلی دفعہ مدرسے کے ہاسٹل میں دیکھا تھا۔آپ اپنے صاحبزادہ کو داخل کروانے آئے تھے۔ہمارے والد سے دوستی تھی سو ہمارے ہی کمرے میں آپ کے صاحبزادے کا انتظام ہوا۔جانے لگے تو دیر تک نصیحتیں کرتے رہے۔میں بہت چھوٹا تھا۔جو بات یاد رہ گئی وہ آپ کا انداز تھا۔اچانک نصیحت کرتے کرتے پوچھا: ” اتنا ڈوز کافی ہے یا اور دوں؟ “ وہ دن اور آج کا دن ہے۔ہر ملاقات،
آپ سنت نبوی سے بڑی شدید محبت رکھتے تھے۔قرآن و حدیث سے عجیب عجیب نکات نکال لاتے تھے۔عجیب اس لیے کہ ہماری ساری زندگی میں ایسے نکات بیان کرنے والا کوئی نہ تھا۔ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی صاحب سے کہنے لگے کہ یہ چہرے کی تازگی کے لیے ڈاکٹر حضرات پتا نہیں کیا کیا نسخے بتاتے رہتے ہیں۔سنو ایک مجرب نسخہ بتاتا ہوں۔راتوں میں تہجد پڑھا کرو اس سے چہرے پر نور آتا ہے۔یہ مہنگی کریمیں اور نسخے سب بیکار ہیں۔
ایک ملاقات میں وقتِ رخصت مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کہنے لگے اس کا ثبوت نہیں ہے۔لوگوں نے عادت بنالی ہے۔
ایک دفعہ نماز کے آداب سکھلاتے ہوئے بتایا کہ امام کے لیے رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے بہت کھینچ کر اللہ اکبر پڑھنا مناسب نہیں۔اللہ کے رسول ایسا نہیں کرتے تھے۔
باتوں باتوں میں ایسی نصیحت کرجاتے کہ انسان تا عمر نہ بھولے۔ایک دفعہ ہمارے بڑے بھائی صاحب سے فرمایا کہ آخرت کی نجات چاہتے ہو؟ کہنے لگے ہاں۔کہا کہ کسی غریب بچے کو حفظ کروا دو۔
یاد داشت کے خانے میں ایسی باتوں کا انبار ہے۔میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔بے عمل ہوں لیکن آپ کی نصیحتوں کو گرہ سے باندھ رکھا ہے۔بڑے خوش الحان تھے۔ترنگ میں ہوتے تو بے ساختہ کوئی شعر گنگنا دیا کرتے تھے۔بڑی باریک نگاہیں تھیں۔ایک دفعہ مدرسہ آئے ہوئے تھے۔تدریس کی عمارت میں بریک کے دوران ملاقات ہوئی۔کہنے لگے چراغ تلے اندھیرا دیکھا ہے کبھی؟ کہا وہ دیکھو۔دیکھا تو شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر لگی تختی میں اعراب کی غلطیاں تھیں۔
آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔جلدی جلدی بولا کرتے تھے۔آپ کا علم پختہ اور یقینی تھا۔سنت پر عمل کا شوق تھا۔خود بھی اہتمام کرتے تھے۔لوگوں سے بھی کرواتے تھے۔
آپ کی زندگی کا ایک لمبا عرصہ گلف میں گزرا۔اس کے باوجود نہ آپ کی زبان میں اور نہ ہی آپ کے رکھ رکھاؤ میں اس کا کوئی اثر آیا۔ہمیشہ بہت سادہ سے لباس میں رہتے تھے۔زبان بھی بہت آسان استعمال کرتے تھے۔کھانے کے شوقین تھے۔کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔
آپ نے بھر پور زندگی گزاری۔زندگی کے آخری پڑاؤ پر آکر مقابلہ بیماری سے ہو گیا۔موت نے زندگی کو پچھاڑنے کے تمام داؤ آزما لیے۔آپ کے لبوں کی مسکراہٹ نہ چھین سکی۔لوگ ملنے آتے تو اس یقین کے ساتھ لوٹتے کہ اچھے بھلے تو ہیں۔لوگوں کےسامنے اپنا دکھڑا رونے کے بجائے آپ نے اپنے رب کو اپنی تکلیفیں سنائیں۔اس کے فیصلے پر راضی رہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب العالمین آپ کی تمام لغزشوں کو در گزر فرمائے۔سئیات کو حسنات سے بدل دے۔آپ کو بہترین اجر سے نوازے۔آپ کے علم کو،
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی






