جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

شیطان کے مکر و فریب اور اس سے بچنے کی تدابیر

تحریر: محمد راشد مومن عمری28 ستمبر، 20261,355قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۰ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شیطان کے مکر و فریب اور اس سے بچنے کی تدابیر
فل اسکرین دیکھیں

الله تعالى نے دنيا ميں انسان كے لیے مختلف آزمائشيں ركھى ہيں،مال واولاد،بھوك وافلاس،بدامنى اور خوف وہراس الغرض دنيا كى ہر نعمت ونقمت دونوں ميں انسان كى آزمائش اور اس كا امتحان ہوتا ہے ليكن انسان كے لیے سب سے بڑى آزمائش اور مشكل ترين امتحان شيطان كے مكر وفريب سے بچ نكلنے كا ہے،يہ بات ہر انسان كے ذہن ودماغ ميں ثبت ہے كہ شيطان ہمارا كھلا دشمن ہے اور اس كے بہكاوے ميں آنا گويا اپنى دنيا وآخرت دونوں برباد كرنا ہے،اس كے باوجود شيطان ہميں گمراه كرنے ميں لگا ہے اور ہم جانتے بوجھتے اس كى گمراہى كا شكار ہوتے جارہے ہيں،كيا عالم كيا ظالم،كيا پارسا كيا الله والے سبھى اس كى گرفت ميں آتے جارہے ہيں۔يہى وجہ ہے كہ ہمہ وقت دين كى پابندى كو اپنا شعار بنانے والے حضرات بھى جب اس كے بہكاوے ميں كوئى اخلاقى برائى كر بیٹھتے ہيں تو ان كے سارے كارنامے كالے كرتوتوں ميں بدل جاتے ہيں اور وه لوگوں كو منہ دكھانے كے قابل نہيں رہتے۔

عين ممكن ہے كہ توبہ واستغفار سے الله تعالى ان كى مغفرت كردے ليكن الله كى مخلوق اتنى آسانى سے كسى كو كيسے بخش دے گى،جیتے جى تو جينا دو بھر كیے ہى تھے مرنے كے بعد بھى جب ذكرخير ہوگا تو ذكرشر كا لاحقہ جزء لا ينفك بنا ہى رہے گا،بہرحال جب شيطان كے مكروفريب كا معاملہ اتنا سنگين ہے تو ہر آدمى كو اس سے چوكنا رہنا اور اس سے حفاظت كى تدابير اپنانا بہت ضرورى ہے۔

شيطانى مكروفريب كے مراتب

امام ابن قيم رحمہ الله فرماتے ہيں:

’’شيطان كے مكر وفريب بے شمار ہيں،ان ميں ايك ايك كى گنتى تو مشكل ہے ليكن اتنا كہا جاسكتا ہے كہ دنيا ميں ہر برائى كى جڑ وہى ہے،اگر ہم اس كے مكر وفريب كے مراتب كى درجہ بندى كرنا چاہيں تو اس كى چھ قسميں ہوسكتى ہيں،ان ميں سے وه انسان كو كسى ايك ميں يا اس سے زياده ميں مبتلا كرنے كے لیے كوشاں رہتا ہے۔‘‘

1) كفر ميں مبتلا كرنا:

شيطان كا سب سے بڑا ہدف يہى ہوتا ہے كہ وه انسان كو كفر ميں مبتلا كرے،جيسا كہ الله تعالى كا ارشاد ہے:

كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِين

’’اس شيطان كى مثال جو انسان كو اكساتا ہے كہ كفر كرو،پھر جب وه كفر كربيٹھتا ہے تو كہتا ہے ميں تم سے بيزار ہوں،ميں تو الله رب العالمين سے ڈرتا ہوں۔‘‘(سورة الحشر:16)

جب شيطان كو اپنے اس مقصد ميں كاميابى مل جاتى ہے تو وه اس كے پيچھے مزيد وقت لگانے سے چھٹكارا حاصل كرتا ہے۔

2) بدعت میں مبتلا کرنا:

بدعت میں مبتلا کرنے کا مشغلہ اس کے نزدیک برائی اور نافرمانیوں کا ارتکاب کروانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ بدعت سے براہِ راست دین کو نقصان پہنچتا ہے اور یہ گناہ ہے کہ بدعت شروع کرنے والا اگر توبہ بھی کرے تو اس کا نقصان برابر جاری رہتا ہے کیونکہ لوگوں نے اسے دین کا حصہ بنالیا اور یہ بدعت پوری طرح رائج ہوگئی۔

3) کبائر میں مبتلا کرنا:

شیطان انسان کو متعدد گناہوں میں مبتلا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتا ہے اور بالخصوص ایسے عالم کے پیچھے وہ زیادہ لگا رہتا ہے جس کا معاشرہ میں کچھ وزن ہے کہ ایسے علماء کی کمزوری لوگوں پر عیاں ہونے سے لوگ ان سے متنفر اور دور ہوجائیں گے پھر لوگوں کو مزید گمراہ کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

4) صغائر میں مبتلا کرنا:

اگر انسان اپنے ایمان کی پختگی سے کبائر سے اپنا دامن بچائے رکھتا ہے تو ایسے افراد کو وہ یکے بعد دیگرے صغیرہ گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ سب جمع ہوجاتے ہیں تو آدمی کو تباہ کردیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے:

عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إياكم ومحقرات الذنوب فإنهن يجتمعن على الرجل حتى يهلكنه

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم چھوٹے گناہوں سے بچتے رہو کیونکہ وہ سب جب جمع ہوجاتے ہیں تو آدمی کو تباہ کرتے ہیں۔"(صحيح الجامع الصغير حديث نمبر: 2687)

5) مباح چیزوں میں حد درجہ منہمک کردینا:

شیطان انسان کو ایسی چیزوں میں مشغول کرنے کی جستجو میں رہتا ہے کہ جس سے انسان نہ کوئی ثواب کماتا ہے نہ کسی عذاب کا مستحق ہوتا ہے بلکہ ایسی چیزوں میں منہمک رہنے سے انسان اپنا وہ قیمتی وقت ضائع کر بیٹھتا ہے کہ جسے کسی بھلائی میں استعمال کرنے سے آخرت میں فائدہ ہوسکتا تھا لیکن اگر کوئی شخص اپنے وقت کا بڑا پابند ہو اور اسے ضائع نہیں کرتا تو اسے دوسرے طریقہ سے بہکاتا ہے جو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔

6) فاضل کے بجائے مفضول میں الجھادینا:

شیطان اگر انسان کو براہِ راست کسی بڑی برائی میں مبتلا نہ کرپائے تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نیک کام بھی ایسے کرے کہ اس سے زیادہ فضیلت والے جو کام ہیں ان پر اس کی توجہ نہ رہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ستر چھوٹے موٹے نیک کاموں کی ترغیب دلائے تاکہ اس کے ذریعہ وہ آپ سے کسی ایک برائی کروانے میں مدد لے سکے یا پھر اس کے ذریعے ایک ایسے بڑے نیک کام سے آپ کو دور رکھنے میں کامیاب ہوجائے جو ان ستر نیک کاموں سے زیادہ افضل ہو۔(بدائع الفوائد للإمام ابن القيم،جلد: 2،ص: 799 ـ 802)

شیطان سے حفاظت کی تدابیر

1) اخلاص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنا

شیطان نے اللہ تعالی سے قیامت تک کی ایک وسیع مہلت اس لیے مانگ لی تاکہ بنی آدم کو گمراہ کرکے اپنی بھڑاس نکال لے،لیکن اللہ تعالی نے جہاں اسے یہ موقعہ فراہم کیا وہیں بنی آدم کے لیے شیطان سے حفاظت کے کئی طریقے بھی بیان کیے تاکہ انسان اس کے مکر وفریب سے محفوظ رہ سکے،ان میں سب سے پہلے اخلاص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنا ہے جیسا کہ سورۂ حجر میں ارشاد ہے:

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِين إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِين

پھر شیطان نے کہا "اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا،میں بھی زمین میں ان کے لیے (گناہوں کو) خوشنما بناکر پیش کروں گا،سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کرلیے گئے۔"(سورة الحجر:39 ـ 40)

امام قرطبی رحمہ اللہ نے "مخلصين" کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ اللہ کے وہ بندے ہیں جنھیں اللہ نے چن لیا،یا پھر وہ بندے جو اپنی زندگی میں مخلص ہیں اور ریاکاری سے دور ہیں۔

2) اللہ کی پناہ طلب کرنا:

جب شیطان برائی پر اکسائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی پناہ طلب کریں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ ..

اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔(سورة الأعراف:200)

اور اللہ کی پناہ طلب کرنے کے لیے ہم [أعوذ بالله من الشيطن الرجيم] پڑھ لیں تو اس طرح یہ شیطانی وسوسے دور ہوجائیں گے۔امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس ضمن میں سلف سے ایک دلچسپ بات نقل کی ہے کہ ایک استاذ نے اپنے شاگرد سے پوچھا "بتاؤ کہ اگر تمھیں شیطانی وسوسے آنے لگیں تو تم کیا کروگے؟ " شاگرد نے کہا "میں پوری کوشش کروں گا کہ شیطان کا مقابلہ کروں" پھر استاذ نے پوچھا "اگر وہ پھر بھی آپ کو بار بار اکسائے تو کیا کروگے؟" کہا "پھر پوری کوشش کروں گا کہ اس طرح کے خیالات نہ آئیں" جب تیسری بار پوچھنے پر بھی یہی جواب پایا تو کہا یہ تو بڑی محنت کا کام ہوجائے گا،پھر پوچھا "اچھا بتاؤ اگر تمھیں بکریوں کے پاس سے گزرنا پڑجائے اور وہاں موجود کتا تمھیں گزرنے نہ دے تو تم کیا کروگے؟ کہا پوری کوشش کروں گا کہ اس سے نمٹ لوں" تو کہا یہ بھی بڑا لمبا کام ہوجائے گا،لیکن اگر تم بکریوں کے نگہبان سے مدد حاصل کرلو کہ وہ کتے کو تم سے روک لے تو تمھارا کا م بآسانی حل ہوجائے گا،ٹھیک اسی طرح شیطان سے حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ طلب کرو تو تمھیں اتنی محنت نہیں کرنی پڑے گی۔

3) صبح وشام کے اذکار اور آیۃ الكرسی کا اہتمام:

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

صبح وشام کے اذکار ایک مسلمان کے لیے یاجوج ماجوج کے قلعے سے بھی زیادہ محفوظ قلعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس لیے آدمی کو ہمیشہ ان کی پابندی کرتے رہنا چاہیے اور بالخصوص دورحاضر میں جب کہ صبح وشام کے اذکار مختصر کارڈ کی شکل میں طبع ہورہے ہیں اور موبائل میں بھی محفوظ کرنے کی سہولت فراہم ہے۔

علاوہ ازیں آیۃ الكرسی کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے جیسا کہ ایک طویل حدیث میں وارد ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبیﷺ نے زکاۃ کے مال کی حفاظت کے لیے متعین کیا تھا،شیطان کے مسلسل تین روز چوری کرنے پر جب حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے اسے نبیﷺ کی خدمت میں پیش کرنے کی ٹھان لی تو اس نے شیطان سے حفاظت کی تدبیر بتلائی کہ تم سونے سے قبل آیۃ الكرسی مکمل پڑھو تو شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا اور اللہ کی جانب سے ایک نگہبان تمھاری حفاظت کرے گا،جب حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ نے یہ سارا ماجرا نبیﷺ سے سنایا تو آپ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور کہا یہ سچ بات ہے۔(رواه النسائي وصححہ الألباني في صحيح الترغيب برقم: 610)

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ رکھے،آمین۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

شیطان کے مکر و فریب اور اس سے بچنے کی تدابیر - دی فری لانسر | دی فری لانسر