الله تعالى نے دنيا ميں انسان كے لیے مختلف آزمائشيں ركھى ہيں،
عين ممكن ہے كہ توبہ واستغفار سے الله تعالى ان كى مغفرت كردے ليكن الله كى مخلوق اتنى آسانى سے كسى كو كيسے بخش دے گى،
شيطانى مكروفريب كے مراتب
امام ابن قيم رحمہ الله فرماتے ہيں:
’’شيطان كے مكر وفريب بے شمار ہيں،
1) كفر ميں مبتلا كرنا:
شيطان كا سب سے بڑا ہدف يہى ہوتا ہے كہ وه انسان كو كفر ميں مبتلا كرے،
كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِين
’’اس شيطان كى مثال جو انسان كو اكساتا ہے كہ كفر كرو،
جب شيطان كو اپنے اس مقصد ميں كاميابى مل جاتى ہے تو وه اس كے پيچھے مزيد وقت لگانے سے چھٹكارا حاصل كرتا ہے۔
2) بدعت میں مبتلا کرنا:
بدعت میں مبتلا کرنے کا مشغلہ اس کے نزدیک برائی اور نافرمانیوں کا ارتکاب کروانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ بدعت سے براہِ راست دین کو نقصان پہنچتا ہے اور یہ گناہ ہے کہ بدعت شروع کرنے والا اگر توبہ بھی کرے تو اس کا نقصان برابر جاری رہتا ہے کیونکہ لوگوں نے اسے دین کا حصہ بنالیا اور یہ بدعت پوری طرح رائج ہوگئی۔
3) کبائر میں مبتلا کرنا:
شیطان انسان کو متعدد گناہوں میں مبتلا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتا ہے اور بالخصوص ایسے عالم کے پیچھے وہ زیادہ لگا رہتا ہے جس کا معاشرہ میں کچھ وزن ہے کہ ایسے علماء کی کمزوری لوگوں پر عیاں ہونے سے لوگ ان سے متنفر اور دور ہوجائیں گے پھر لوگوں کو مزید گمراہ کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
4) صغائر میں مبتلا کرنا:
اگر انسان اپنے ایمان کی پختگی سے کبائر سے اپنا دامن بچائے رکھتا ہے تو ایسے افراد کو وہ یکے بعد دیگرے صغیرہ گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ سب جمع ہوجاتے ہیں تو آدمی کو تباہ کردیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے:
عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إياكم ومحقرات الذنوب فإنهن يجتمعن على الرجل حتى يهلكنه
حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم چھوٹے گناہوں سے بچتے رہو کیونکہ وہ سب جب جمع ہوجاتے ہیں تو آدمی کو تباہ کرتے ہیں۔"(صحيح الجامع الصغير حديث نمبر: 2687)
5) مباح چیزوں میں حد درجہ منہمک کردینا:
شیطان انسان کو ایسی چیزوں میں مشغول کرنے کی جستجو میں رہتا ہے کہ جس سے انسان نہ کوئی ثواب کماتا ہے نہ کسی عذاب کا مستحق ہوتا ہے بلکہ ایسی چیزوں میں منہمک رہنے سے انسان اپنا وہ قیمتی وقت ضائع کر بیٹھتا ہے کہ جسے کسی بھلائی میں استعمال کرنے سے آخرت میں فائدہ ہوسکتا تھا لیکن اگر کوئی شخص اپنے وقت کا بڑا پابند ہو اور اسے ضائع نہیں کرتا تو اسے دوسرے طریقہ سے بہکاتا ہے جو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔
6) فاضل کے بجائے مفضول میں الجھادینا:
شیطان اگر انسان کو براہِ راست کسی بڑی برائی میں مبتلا نہ کرپائے تو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نیک کام بھی ایسے کرے کہ اس سے زیادہ فضیلت والے جو کام ہیں ان پر اس کی توجہ نہ رہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ستر چھوٹے موٹے نیک کاموں کی ترغیب دلائے تاکہ اس کے ذریعہ وہ آپ سے کسی ایک برائی کروانے میں مدد لے سکے یا پھر اس کے ذریعے ایک ایسے بڑے نیک کام سے آپ کو دور رکھنے میں کامیاب ہوجائے جو ان ستر نیک کاموں سے زیادہ افضل ہو۔(بدائع الفوائد للإمام ابن القيم،
شیطان سے حفاظت کی تدابیر
1) اخلاص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرنا
شیطان نے اللہ تعالی سے قیامت تک کی ایک وسیع مہلت اس لیے مانگ لی تاکہ بنی آدم کو گمراہ کرکے اپنی بھڑاس نکال لے،
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ وَلأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِين إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِين
پھر شیطان نے کہا "اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا،
امام قرطبی رحمہ اللہ نے "مخلصين" کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ اللہ کے وہ بندے ہیں جنھیں اللہ نے چن لیا،
2) اللہ کی پناہ طلب کرنا:
جب شیطان برائی پر اکسائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی پناہ طلب کریں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ ..
اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔(سورة الأعراف:200)
اور اللہ کی پناہ طلب کرنے کے لیے ہم [أعوذ بالله من الشيطن الرجيم] پڑھ لیں تو اس طرح یہ شیطانی وسوسے دور ہوجائیں گے۔امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس ضمن میں سلف سے ایک دلچسپ بات نقل کی ہے کہ ایک استاذ نے اپنے شاگرد سے پوچھا "بتاؤ کہ اگر تمھیں شیطانی وسوسے آنے لگیں تو تم کیا کروگے؟ " شاگرد نے کہا "میں پوری کوشش کروں گا کہ شیطان کا مقابلہ کروں" پھر استاذ نے پوچھا "اگر وہ پھر بھی آپ کو بار بار اکسائے تو کیا کروگے؟" کہا "پھر پوری کوشش کروں گا کہ اس طرح کے خیالات نہ آئیں" جب تیسری بار پوچھنے پر بھی یہی جواب پایا تو کہا یہ تو بڑی محنت کا کام ہوجائے گا،
3) صبح وشام کے اذکار اور آیۃ الكرسی کا اہتمام:
شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صبح وشام کے اذکار ایک مسلمان کے لیے یاجوج ماجوج کے قلعے سے بھی زیادہ محفوظ قلعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس لیے آدمی کو ہمیشہ ان کی پابندی کرتے رہنا چاہیے اور بالخصوص دورحاضر میں جب کہ صبح وشام کے اذکار مختصر کارڈ کی شکل میں طبع ہورہے ہیں اور موبائل میں بھی محفوظ کرنے کی سہولت فراہم ہے۔
علاوہ ازیں آیۃ الكرسی کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیے جیسا کہ ایک طویل حدیث میں وارد ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبیﷺ نے زکاۃ کے مال کی حفاظت کے لیے متعین کیا تھا،
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ رکھے،






