جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

گرد و غبار راہ رہا، عمر بھر رہا

کلام: حمود حسن مبارکپوری26 ستمبر، 20261,662قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گرد و غبار راہ رہا، عمر بھر رہا
فل اسکرین دیکھیں
یاران تیز گام نہ شوق سفر رہا
گرد و غبار راہ رہا، عمر بھر رہا
دائم نہیں رہا، یہ بجا ہے، مگر رہا
اس پر بھی چند روز وفا کا اثر رہا
الجھی رہیں حیات سے وحشت کی تیلیاں
وضع جنوں سے دل کو اگرچہ مفر رہا
آنکھوں کے احترام میں سجتا رہا لہو
سانسوں کے واسطے کبھی سوز جگر رہا
گو ہجر طے ہوا تھا بہت اعتماد سے
لیکن وداع لیتے ہوئے دل میں ڈر رہا
کیا سمت اختیار مرے ولولوں نے کی
چلنے کو پاؤں اور نہ اٹھنے کو سر رہا
چھوڑا نہ ایک پل بھی ترے غم نے گھر مرا
دیوار سے اٹھا تو یہ مرہون در رہا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

گرد و غبار راہ رہا، عمر بھر رہا - دی فری لانسر | دی فری لانسر