جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تاریخِ جامعہ رحمانیہ مدن پورہ، بنارس (تاریخِ اہلِ حدیث کا ایک زرّیں باب)

تحریر: فرحان سعید محمد یعقوب بنارسی6 ستمبر، 20262,253قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تاریخِ جامعہ رحمانیہ مدن پورہ، بنارس (تاریخِ اہلِ حدیث کا ایک زرّیں باب)
فل اسکرین دیکھیں

متحدہ ہندوستان میں چند ہی مدارس ایسے تھے جو خالص کتاب و سنت کی تعلیم و ترویج میں مصروفِ عمل تھے،جن میں علامہ فاخر زائر الہ آبادی رحمہ اللہ (م: ۱۱۶۴ھ) کا «دائرہ شاہ اجمل»،بیہقیِ وقت مولانا ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ کی درس گاہ،یحییٰ گنج،لکھنؤ میں مرزا علی صغیر محدث کی درس گاہِ حدیث،اور اسی طرح شاہ ابو اسحاق بن شاہ ابو الغوث اور دہلی میں مرزا مظہر جانِ جاناں بھی فروغِ کتاب و سنت کے لیے کوشاں تھے۔تاہم ان سب میں سب سے نمایاں مجددِ وقت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (م: ۱۱۷۶ھ) کا «مدرسہ رحیمیہ» تھا،جس نے اس کارِ نمایاں میں قائدانہ کردار ادا کیا۔لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں بیشتر مراکزِ اسلامیہ قصۂ پارینہ بن گئے اور جنگ کی نذر ہوگئے۔سلطنتِ مغلیہ کے زوال اور برطانوی حکومت کے جابرانہ تسلط سے ملک میں اسلامی فضا مکدّر ہوگئی تھی اور مسلمان،خصوصاً اہلِ حدیث،مجرم تصور کیے جانے لگے تھے۔تاہم رفتہ رفتہ مایوسی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھٹنے لگا اور نئی امیدیں روشن ہوئیں۔چنانچہ ۱۸۵۷ء کے بعد میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ (م: ۱۹۰۲ء) نے پھاٹک حبش خان میں سلسلۂ درس شروع کیا۔۱۸۶۸ء میں «مدرسہ عالیہ عربیہ» معرضِ وجود میں آیا۔بنارس میں علامہ محمد سعید محدث بنارسی رحمہ اللہ (م: ۱۹۰۴ء) نے ۱۸۸۲ء میں «مدرسہ اسلامیہ عربیہ» کی بنیاد رکھی،جبکہ ۱۸۸۴ء میں «مدرسہ ریاض العلوم» کی داغ بیل ڈالی گئی۔اسی طرح شہرِ بنارس میں ۱۸۹۷ء میں ایک پودا «مدرسہ مصباح الہدیٰ» کے نام سے لگایا گیا،جسے آفاقِ ہند میں «جامعہ رحمانیہ» کے نام سے شہرت ملی اور آزادی کے بعد بھی جس کی شہرت کا غلغلہ اکنافِ ہند میں سنائی دیتا رہا۔زیرِ نظر کتاب اسی «جامعہ رحمانیہ مدن پورہ،بنارس» کی تاریخ اور اس کے تفصیلی احوال و کوائف کی داستان ہے۔

اس کتاب کے مؤلف حافظ عبد الرحمن سلفی ہیں۔وہ مولانا محمد یونس مدنی حفظہ اللہ (سابق شیخ الجامعہ،جامعہ سلفیہ) کے بڑے فرزند ہیں۔حافظ عبد الرحمن اپنے علمی و تحقیقی مزاج کے باعث علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔مؤلف کے سلسلے میں شیخ محمد ابو القاسم فاروقی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

«حافظ عبد الرحمن سلفی جامعہ سلفیہ سے فارغ ہیں،مرشد کے بڑے فرزند ہیں،محنتی اور حلیم الطبع ہیں،مطالعہ اور لکھنے پڑھنے کا اچھا ذوق ہے،تاریخ و تذکرہ کی کتابوں سے خصوصی دل چسپی ہے،اس موضوع کی کتابوں سے ان کی لائبریری بھری ہے،پڑھائی کے زمانے سے میری نگرانی میں ہیں» (ص: ۴۲)۔

کتاب کے سببِ تالیف کے سلسلے میں مولانا محمد ابو القاسم فاروقی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

«نظرِ ثانی (تراجم علمائے بنارس) کے دوران ایک شب مرشد کہنے لگے: استاد! اس کے بعد کوئی اور بڑا کام کیا جائے۔میں نے کہا: آپ کی بات درست ہے،لیکن کس موضوع پر کام کیا جائے،یہ سوچنا پڑے گا۔میں کچھ دیر سوچتا رہا،اچانک دماغ میں بجلی سی کوندی۔میں نے کہا: یار مرشد! جامعہ رحمانیہ بنارس کی تاریخ کیوں نہ مرتب کی جائے؟ یہ کام بڑا اہم تھا اور ضروری بھی۔ابھی تک رحمانیہ کی مختصر یا مفصل کوئی ایسی تاریخ مرتب نہیں کی گئی تھی جس سے قدیم مدارس کی تاریخ میں اس کے مقام اور مرتبے کا تعین کیا جاسکتا اور اس ادارے کی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تدریسی،علمی اور دعوتی خدمات منظرِ عام پر آسکیں» (ص: ۲۶)۔

یہ کتاب عمومی و روایتی ترتیب سے آزاد اور ابواب و فصول کی تقسیم سے بے نیاز ہے،لیکن اس کے باوجود اس کی ترتیب نہایت جامع و موزوں ہے۔مؤلف نے موضوع کے تمام گوشوں کا احاطہ کیا ہے اور بڑی عمدگی اور سلیقے کے ساتھ انھیں پیش کیا ہے۔یہ کتاب ۶۷۲ صفحات پر مشتمل ہے،جس میں مولانا محمد یونس مدنی حفظہ اللہ کی تقریظ،ڈاکٹر وصی اللہ عباس (مفتیِ حرمِ مکہ مکرمہ) حفظہ اللہ کے تاثرات،شیخ محمد ابو القاسم فاروقی حفظہ اللہ کا جامع و علمی مقدمہ اور مؤلف کا پیش لفظ شامل ہے۔ان کے علاوہ مراجع و مصادر بھی درج کیے گئے ہیں اور بطورِ ضمیمہ جامعہ رحمانیہ کی باقیات و آثار کو تصویری آئینے میں پیش کیا گیا ہے۔

مؤلف کا تحقیقی ذوق اور علمی جستجو اس کتاب سے نمایاں ہوتی ہے۔مؤلف نے کس محنت اور لگن سے معلومات کو یکجا کیا ہے،یہ کتاب پڑھنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔جامعہ رحمانیہ کے سلسلے میں جو غلط معلومات مشہور تھیں،صاحبِ کتاب نے دلائل اور تاریخی شواہد کی روشنی میں ان کی چھان بین کی ہے اور راجح و مرجوح میں امتیاز کیا ہے۔جامعہ رحمانیہ کے سنِ تاسیس کے سلسلے میں مختلف اقوال منقول تھے۔مصنف نے ان اقوال کو ذکر کرکے ان کا تجزیہ پیش کیا ہے (ملاحظہ ہو ص: ۹۳)۔اسی طرح ص: ۱۱۷-۱۱۸ میں بھی مدرسے کے نام کے متعلق بعض غلط بیانیوں پر مؤلف نے نکیر کی ہے اور درست موقف بیان کیا ہے۔

دارالحدیث رحمانیہ دہلی کے مہتمم سیٹھ عبد الرحمن اور سیٹھ عطاء الرحمن کی فیاضی،علماء نوازی اور دینی غیرت و حمیت سے کون واقف نہیں؟ یہ حضرات مدرسہ رحمانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر مدارس کا بھی تعاون کرتے تھے۔چونکہ بنارس میں «مدرسہ اسلامیہ» کے نام سے دو مدارس تھے اور جامعہ رحمانیہ بنارس کا نام بھی ایک دور میں «مدرسہ اسلامیہ» تھا،جبکہ حاجی عطاء الرحمن وغیرہ دوسرے مدرسہ کی اعانت کرتے تھے،اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ جامعہ رحمانیہ بنارس کے کفیل بھی وہی حضرات تھے،حالاں کہ یہ درست نہیں۔مؤلف نے اس غلط فہمی کی وضاحت کے ساتھ اس مدرسہ کا بھی ذکر کیا ہے جن کی وہ اعانت کرتے تھے،اور جامعہ رحمانیہ کے مہتمم حاجی عبد الرحمن بنارسی کی فیاضی کے شواہد بھی پیش کیے ہیں (دیکھیں ص: ۳۰۵ تا ۳۰۹)۔

مؤلف نے کتاب میں جامعہ رحمانیہ کے ہر پہلو پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔نہ ایسا ہے کہ وہ صرف عمارت اور اس کی نقاشی کے فضائل بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور نہ یہ کہ صرف تعلیمی معیار کی بلندی کا راگ الاپتے ہیں،بلکہ جامعہ رحمانیہ کی تاریخ اور اس کے مقام و مرتبے کو ایسے انداز سے پیش کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے عہد کا ایک بہترین اور مثالی ادارہ تھا۔بلند معیارِ تعلیم،اکابر علماء کی سرپرستی،وسیع و عریض لائبریری،تحریر،تقریر اور مناظرے کی مشق،اساتذہ و طلبہ کی تبلیغی و دعوتی سرگرمیاں،اصول و ضوابط کی پابندی،طلبہ کے لیے قیام و طعام کا بہترین نظم و نسق،خاص مواقع پر طلبہ و اساتذہ کے لیے نئے لباس کا اہتمام،مہتمم حضرات کا اساتذہ و طلبہ کے ساتھ باغیچوں کی سیر،امتحانات کے اختتام پر دعوت اور انعامات؛الغرض یہ تمام تفصیلات جامعہ رحمانیہ کے حسنِ انتظام،تعلیمی معیار اور مدارسِ اسلامیہ کی تاریخ میں اس کے نمایاں مقام کا اندازہ کراتی ہیں۔

کتاب کا اسلوب،زبان و بیان نہایت سادہ اور عام فہم ہے۔مؤلف نے محض قلم کے زور پر کسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی،بلکہ جن باتوں کا ذکر کیا ہے،ان کے لیے مستند اور تاریخی حوالوں کا اہتمام کیا ہے۔تائید کے لیے مختصر اور طویل اقتباسات بھی نقل کیے ہیں۔قدیم اور تاریخی اخبارات و رسائل سے جو معلومات دستیاب ہوئیں،ان سے محض نتیجہ اخذ کرکے یا انھیں اپنے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے اصل عبارتیں نقل کی ہیں،جس سے کتاب کی افادیت اور لطف دونوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

جامعہ رحمانیہ کے دو ادوار

جامعہ رحمانیہ کی تاریخ کے دو ادوار ہیں: پہلا،سنِ تاسیس سے ۱۹۶۵ء تک؛دوسرا،۱۹۶۶ء سے تاحال۔مؤلف نے پہلے دور کی تاریخ کا مبسوط تذکرہ کیا ہے،لیکن دوسرے دور کے سلسلے میں بھی تسلی بخش بحث کی ہے۔۱۹۶۶ء کے بعد عربی کے ابتدائی درجات،شعبۂ حفظ،پرائمری تعلیم،نسواں اور بنین کے لیے تعلیم کا علاحدہ انتظام،نسواں کے لیے عالمیت اور فضیلت کے درجات کا افتتاح،مزید حسنِ انتظام،تعلیمی معیار اور اساتذہ کرام کا مختصر لیکن جامع تذکرہ کیا گیا ہے۔

مؤلف نے «اساتذۂ جامعہ رحمانیہ،قیام سے ۱۹۶۵ء تک» کے عنوان سے عربی درجات میں چوبیس اور پرائمری درجات نیز شعبۂ تجوید و تحفیظ کے اساتذہ کی تعداد پچیس ذکر کی ہے،لیکن ان میں سے صرف اٹھائیس اساتذہ کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ان میں تئیس اساتذہ عربی درجات سے متعلق ہیں اور پانچ اساتذہ کا تعلق پرائمری اور شعبۂ تحفیظ و تجوید سے ہے۔

جامعہ رحمانیہ کے فارغین

«جامعہ رحمانیہ کے مشہور فارغین اور اہم فیض یافتگان» کے عنوان سے جامعہ رحمانیہ کے فارغین کے علمی مقام و مرتبے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں مولانا ابو الخیر فاروقی رحمہ اللہ،مولانا عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ اور مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی رحمہ اللہ کے اقوال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔اس کے بعد مؤلف نے «مقامی فارغین» کے عنوان کے تحت بنارس کے تئیس علماء کے نام ذکر کیے ہیں جنھوں نے جامعہ رحمانیہ سے کسبِ فیض کیا۔نئے صفحے پر «بیرونِ شہر کے فارغین» کے عنوان سے ایک سو اڑتیس (۱۳۸) علماء کے نام شمار کرائے ہیں،جن کا تعلق ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں سے تھا۔ان میں بعض شخصیات کا تعلق نیپال سے بھی تھا۔اس کے بعد مؤلف لکھتے ہیں: «مذکورہ فارغین اور فیض یافتگانِ مدرسہ میں سے بعض تو اپنے دور میں یکتائے روزگار اور بے مثال تھے،جنھوں نے تبلیغ و تدریس،تنظیم و تعمیر،وعظ و خطابت،ادب و صحافت،سیادت و قیادت میں اپنی مثال قائم کی اور قوم و ملت پر ایسے اثرات چھوڑے کہ آج بھی ان کی یادیں باقی ہیں» (ص: ۵۰۲)۔مؤلف نے بعض ایسے علماء کا تذکرہ بھی قدرے تفصیل سے کیا ہے جن کے ذکر پر گرد و غبار کی دبیز چادریں پڑی ہوئی ہیں۔ان میں شیخ عبید اللہ عنبر پیغمبرپوری،مولانا عبد الستار رحمانی رحمہ اللہ،مولانا عبد الوہاب رحمانی رحمہ اللہ،مولانا عبد الجبار رحمانی رحمہ اللہ،مولانا محمد سلیمان رحمانی رحمہ اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ان علماء کے حالات تذکرہ کی کتابوں میں بہت کم یا سرے سے ملتے ہی نہیں۔

مراجع و مصادر

مؤلف نے کتاب کی ترتیب و تنظیم میں جن کتابوں سے استفادہ کیا ہے،ان کی تعداد ۹۸ ہے،جبکہ قدیم اخبارات و رسائل کی تعداد ۲۲ ہے۔ان میں پندرہ روزہ اخبار اہلِ حدیث،دہلی؛رسالہ تعلیم الاسلام؛ماہنامہ محدث،بنارس؛ماہنامہ محدث،لاہور؛ماہنامہ السراج،جھنڈا نگر؛اخبار اہلِ حدیث،امرتسر؛پندرہ روزہ اخبار محمدی،دہلی؛ماہنامہ التوعیہ،نئی دہلی؛پندرہ روزہ ترجمان،دہلی؛پندرہ روزہ نورِ توحید،لکھنؤ؛سہ ماہی مجلہ افکارِ عالیہ،مئو وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ان کے علاوہ مطبوعہ و غیر مطبوعہ خود نوشتیں،فری لانسر (ویب سائٹ) اور فیس بک پر لکھے گئے مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔مزید برآں مؤلف نے کئی شخصیات کے انٹرویو اور ذاتی استفسارات سے بھی خوب فائدہ اٹھایا ہے۔انٹرویو میں مولانا عبد الرحمن،فرزندِ شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ مبارکپوری،اور مولانا ابراہیم بستوی قابلِ ذکر ہیں۔دونوں شخصیات بقیدِ حیات ہیں اور جامعہ رحمانیہ کے عروج کے چشم دید گواہ ہیں۔

کتاب خاصی ضخیم ہے اور اس کی پروف ریڈنگ بڑی گہرائی سے کی گئی ہے،لیکن اس کے باوجود کچھ اغلاط رہ گئی ہیں۔حاشیے میں پندرہ روزہ اخبار اہلِ حدیث،دہلی کا حوالہ درج ہے،جس میں ۱۵ مئی کی جگہ ۵ مئی لکھا گیا ہے (ص: ۱۲۰)۔اسی طرح ص: ۱۳۲،۱۳۴ اور ۱۳۶ پر لفظ «انتظام» کا الف غائب ہے،جس کی وجہ سے «نتظام» رہ گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر پروف ریڈنگ کی معمولی غلطیاں ہیں،جن کا ذکر باعثِ طوالت ہوگا۔

قصۂ مختصر یہ کہ کتابِ ہٰذا جماعت کی تاریخ نگاری میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔اس میں ذمہ داران اور ناظمین کے لیے نصیحتیں موجود ہیں اور تاریخِ اہلِ حدیث سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔یہ محض ایک ادارے یا مدرسے کی تاریخ نہیں،بلکہ شہرِ بنارس کی دینی،اسلامی اور معاشرتی تاریخ پر مشتمل ایک دستاویزی ریکارڈ بھی ہے۔کتاب اگرچہ حال ہی میں شائع ہوئی ہے،لیکن اسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ قدیم تاریخی اخبارات و رسائل،خطوط،آپ بیتیوں اور قدیم دفتری ریکارڈ کا ایک جدید مجموعہ ہے۔مؤلف نے منتشر اور بکھرے ہوئے مواد کو یکجا کرکے جامعہ رحمانیہ کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا اہم کام انجام دیا ہے۔کتاب کو مرشد پبلیکیشن کے روحِ رواں مولانا عبد القدیر سلفی حفظہ اللہ نے شائع کیا ہے۔نہایت دیدہ زیب سرورق اور عمدہ کاغذ استعمال کیا گیا ہے۔کتاب ضخیم اور مجلد ہونے کے باوجود نہایت مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔مؤلف نے رعایتی قیمت ۴۰۰ روپے مقرر کی ہے،شائقین اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تاریخِ جامعہ رحمانیہ مدن پورہ، بنارس (تاریخِ اہلِ حدیث کا ایک زرّیں باب) - دی فری لانسر | دی فری لانسر