﴿أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
سنت سے تمسک اور بدعت سے اجتناب دین کی اساس ہے۔جس طرح بدعت اور اہل بدعت سے قربت ناجائز اور خطرناک ہے،
مشہور تابعی عبید بن فیروز رحمہ اللہ نے جب براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کس کس قسم کے معیوب جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔تو براء بن عازب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کے رسول نے صرف چار عیوب کا تذکرہ ہے: ایسا اندھا جانور جس کا اندھا پن واضح ہو،
آپ کو جو نا پسند ہو اسے ترک کر دیں،
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ ہمیں بہت اہم سبق سکھاتا ہے کہ غیرت ایمانی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنی طرف سے ایک حلال اور جائز چیز پر عدم جواز کا حکم لگائیں۔
لیلۃ القدر میں جاگ کر عبادت میں مشغول رہنا شرعا مقصود ومطلوب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تحروا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان» (صحیح البخاری 2020)
لیکن کیسے یہ رات عبادت میں گزاری جائے سنت رسول کی روشنی میں اسے حل کرنا بھی ضروری ہے۔
ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ سنت کے مطابق لیلۃ القدر میں عبادت کی جائے تاکہ اس رات میں عبادت کی عظیم فضیلت اسے حاصل ہو سکے۔اسی مقصد کے تحت ہم نے کتب حدیث میں ان عبادتوں کو تلاشنا شروع کیا جو لیلۃ القدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔اس جستجو میں ہمیں جو احادیث ملیں وہ درج ذیل ہیں:
1- «من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا،
(جو ایمان اور نیکی کی امید سے لیلۃ القدر میں قیام کرے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں)
قیام کا مطلب ہے عشاء وفجر کے مابین رات کو نماز پڑھنا۔
یہ حدیث بالکل صریح ہے کہ قیام اللیل لیلۃ القدر کی خصوصی عبادت ہے۔اس لیے قیام اللیل کے لیلۃ القدر کی خصوصی عبادت ہونے میں ذرہ برابر بھی کوئی شک وشبہ نہیں۔
2–ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ،
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قدر کی تین راتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ باجماعت قیام کیا۔
23 ویں رات صرف رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک ہی یہ نماز جاری رہی۔25 ویں شب کو بھی باجماعت قیام کیا،
اس حدیث میں یا کسی دوسری حدیث میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ جس 23 ویں شب آپ نے اور آپ کے صحابہ نے صرف ثلث اللیل تک ہی قیام کیا،
اس بارے میں شرعی مصادر بالکل خاموش ہیں۔والعلم عند اللہ تعالی۔
اس بات کا تو تذکرہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل وعیال پوری رات جاگ کر گزارتے تھے،
لیکن تئیسویں وپچیسویں شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا اکثر حصہ کن کن عبادتوں میں گزارا اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔
اب ایک متبع سنت اگر آدھی رات سے پہلے ہی قیام ختم کر دیتا ہے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 ویں شب خود ایسا کیا تھا،
کیا ایسے ہی بیٹھے بیٹھے رات بھر بس جاگتا رہے؟
ظاہر ہے اس کا کوئی قائل نہیں،
شریعت نے رات بھر جاگنے اور عبادت کرنے کی تو بات کی،
ظاہر ہے کہ 23 ویں شب جاگ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے جو بھی عبادتیں انجام دی ہوں گی 27 ویں شب وہ عبادتیں انجام نہیں دیں،
یعنی قیام کے علاوہ جو بھی عبادتیں ہیں وہ انجام بھی دی جا سکتی ہیں،
اور ان عمومی عبادتوں میں جہاں تلاوت قرآن،
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ آخرے عشرے میں آپ کے دروس میں شرکت کرنا زیادہ سنت کے موافق ہوگا یا عبادت اور ذکر کے لیے الگ تھلگ رہنا؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا:
الذي أرى أن يفعل الإنسان ما هو أصلح لقلبه،
وقد يكون بالعكس،
وأقول: إن شاء الله إذا تمكن من الحضور في هذه الساعة الوجيزة وعنده بقية الليل والنهار فيكون هذا في نظري أفضل لا سيما إذا كان يستفيد علميا من الحضور في مجالس العلم.
(العلامة محمد بن صالح العثيمين رحمه الله،
خود شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اپنی وفات تک آخری عشرے میں بعد تراویح ہر رات درس دیا کرتے تھے۔بلکہ آخری عشرے میں بعد تراویح اس درس کے آپ حد درجہ حریص تھے۔
یہی عمل ہم نے استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا بھی پایا۔مدینہ طیبہ میں میرا جو آخری رمضان 1444 ھ کا گزرا اس سال بھی طاق راتوں میں بعد تراویح آپ کے دروس ہوا کرتے تھے۔
اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شیخ اصولی ہونے کے ساتھ ساتھ منہج سلف پر چلنے کے کتنے حریص ہیں۔شیخ سے یہی حسن ظن ہے کہ اگر اس عمل میں بدعت کا شائبہ بھی ہوتا تو آپ اس کے لیے راضی نہ ہوتے۔
3- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ،
اس حدیث کے ثبوت کے بارے میں علما کے مابین اختلاف ہے۔بعض اسے ثابت مانتے ہیں،
اگر اس حدیث کو ثابت مانا جائے تو یہ حدیث لیلۃ القدر کی ایک خصوصی عبادت پر دلالت کرتی ہے،
لیکں واضح رہے کہ اس حدیث سے صرف اس دعا کا ثبوت فراہم ہوتا ہے،
مثلا: کھانا کھانے کے بعد یا کھانا کھانے سے پہلے،
لہذا اللھم انک عفو والی حدیث بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس دعا کے ضمن میں دوسری تمام عام دعائیں بھی داخل ہیں۔یہ حدیث لیلۃ القدر میں صرف اس دعا کی خصوصیت پر دلالت کرتی ہے،
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری عام دعاؤوں کو ہم نا جائز یا بدعت کہہ رہے ہیں۔بس یہ کہنا ہے کہ لیلۃ القدر میں دوسری عام دعاؤوں کے لیے صراحت کے ساتھ ہمیں کوئی حدیث نہیں مل سکی جس طرح قیام اللیل اور اللھم انک عفو کے لیے صراحت کے ساتھ حدیث موجود ہے۔
4- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في رمضان العشر التي في وسط الشهر،
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے جو مہینے کے بیج میں پڑتا ہے۔بیس راتوں کے گزر جانے کے بعد جب اکیسویں تاریخ کی رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے۔جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں میں واپس آ جاتے۔ایک رمضان میں آپ جب اعتکاف کیے ہوئے تھے تو اس رات میں بھی (مسجد ہی میں) مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آ جانے کی تھی،
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔(دیکھیں: صحیح بخاری 2018،
اس متفق علیہ حدیث میں صاف الفاظ میں موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کو صحابہ کرام کے سامنے خطبہ دیا،
محمد الامین الہرری الشافعی صحیح مسلم کی شرح ” الکوکب الوھاج“ میں اس جملہ کی شرح میں فرماتے ہیں:
(تلك الليلة التي كان يرجع فيها) إلى مسكنه وهي الليلة الحادية والعشرون (فخطب الناس) في بداية تلك الليلة أي ذكرهم بالترغيب والترهيب (فأمرهم) في تلك الخطبة (بما شاء الله) سبحانه الأمر به من المعروف والاجتهاد بالعبادة في العشر الأخير۔(الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم لمحمد الأمين بن عبد الله الهَرَري الشافعي (13/ 203)
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لیلۃ القدر میں درس و تقریر کی جا سکتی ہے۔اکیسویں تاریخ کی رات کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے۔لہذا اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
واضح رہے کہ صحیح بخاری (2016) کی ایک روایت میں ”فخرج صبيحة عشرين فخطبنا“ کے الفاظ ہیں،
اس کی تائید صحیح بخاری (ح2040) کی ہی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ ہیں: ”فلما كان صبيحة عشرين نقلنا متاعنا“۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباري لابن حجر (4/ 283) میں اس روایت کی شرح میں امام مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کا موقف نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”حَمَلَهُ الْمُهَلَّبُ عَلَى نَقْلِ أَثْقَالِهِمْ وَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ مِنْ آلَةِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالنَّوْمِ إِذْ لَا حَاجَةَ لَهُمْ بِهَا فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ خَرَجُوا خِفَافًا وَلِذَلِكَ قَالَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا وَلَمْ يَقُلْ خَرَجْنَا“۔
یعنی کوئی اس روایت سے یہ نہ سمجھے کہ صحابہ کرام صبح کو ہی نکل گئے تھے،
جب کہ بعض علما نے اسے تعدد واقعہ پر محمول کیا ہے۔(دیکھیں: المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (7/ 329)
بہرحال صحیحین کی روایت بالکل صریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں تاریخ کی رات کو صحابہ کرام کو خطاب کیا تھا،
خلاصۂ کلام یہ کہ مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ قیام کے بعد باقی بچے ہوئے اوقات میں کوئی بھی مناسب عبادت انجام دی جا سکتی ہے،
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جو لوگ درس وتقریر کو باقی رات میں ناجائز یا بدعت کہتے ہیں وہ قیام کے علاوہ دوسری عبادتوں پر یہی حکم نہیں لگاتے،
شریعت میں بہت سارے مسائل ایسے ہیں جہاں عبادت کی ترغیب تو ہے لیکن شارع کی طرف سے تفصیل اور تحدید نہیں کہ صرف فلاں فلاں عبادت ہی انجام دی جا سکتی ہے۔ایسی جگہوں پر وسعت کو تنگ کرنا شارع کے مقصد کے خلاف ہے۔
مثلا: ایام تشریق کھانے پینے اور ذکر الہی کے ایام ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَيَّام التَّشْرِيق أَيَّام أكل وَشرب وَذكر لله“ رَوَاهُ مُسلم 144- (1141)
یہاں ذکر کے عموم میں دوسری عبادتوں کے ساتھ درس وتقریر بھی شامل ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ ایام تشریق میں مسجد خیف میں ہر نماز کے بعد کبار علما کے دروس چلتے رہتے ہیں۔میں خود اس طرح کے بے شمار دروس میں شرکت کر چکا ہوں،
مجھے ایک بھی ایسے عالم دین کے بارے میں نہیں پتہ جنھوں نے ایام تشریق میں مسجد خیف کے ان دروس کو نا جائز یا بدعت کہا ہو۔جب کہ اس کے بر عکس ان دروس میں شرکت کرنے والے کبار علما ہوتے ہیں جو سلفیت کے اعلام ورموز کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔اگر اس طرح کا عمل بدعت کے دائرے میں آتا تو یہ علما قطعا اسے اختیار نہ کرتے۔
جس طرح لیلۃ القدر میں ”أحیا لیلہ“ کا لفظ آیا ہے،
اسی طرح عشرہ ذی الحجہ میں بھی دروس کا مسئلہ ہے۔جس طرح رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت ہے اسی طرح عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت میں حدیث کے الفاظ بالکل واضح ہیں۔
مَا مِنْ أَيَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ العَشْرِ،
کیا عشرہ ذی الحجہ میں بھی درس وتقریر کو صرف اس لیے نا جائز یا بدعت کہا جائے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے خصوصیت کے ساتھ ان ایام میں درس وتقریر ثابت نہیں؟
ہم نے آج تک کسی سلفی عالم سے ایسا فتوی نہیں سنا۔بلکہ اس کے بر عکس آج کے دور کے جو علما سلفیت کے رموز کے طور پر جانے جاتے ہیں حرمین شریفین میں عشرہ ذی الحجہ میں ان کے دروس خوب زور وشور سے چلتے رہتے ہیں۔
لہذا شریعت کی جانب سے ہی جہاں وسعت موجود ہے وہاں تنگی پیدا کرنا مناسب نہیں۔
تمسک بالسنہ یقینا قابل قدر پہلو ہے،
بعض اشکالات اور ان کا ازالہ
طاق راتوں میں درس وتقریر پر ہمارے بعض فاضل مشایخ بعض مشہور بدعات کو بطور مثال پیش کر رہے ہیں اور انھیں طاق راتوں میں درس وتقریر کے مشابہ اور مماثل قرار دے رہے ہیں جو در حقیقت طاق راتوں میں درس وتقریر والے عمل کے بالکل بھی مشابہ نہیں ہیں۔دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ طاق راتوں میں عبادت کرنے کا حکم شریعت نے ہی دیا ہے،
اور جن بدعات کا حوالہ دیا جا رہا ہے یا تو ان اوقات میں سرے سے شریعت نے عبادت کا حکم ہی نہیں دیا ہے،
اگر ہمارے مشایخ اس بنیادی نکتے پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرلیں توان شاء اللہ تمام اشکالات رفع ہو جائیں گے۔
مثلا کہا جاتا ہے کہ جب عمومی دلائل سے طاق راتوں میں تقریر کرنا جائز ہو سکتا ہے تو انہی عمومی دلائل کی بنیاد پر بارہ ربیع الاول میں سیرت النبی پر کانفرس منعقد کرنا یا تقریر کرنا درست کیوں نہیں ہوسکتا؟
جس کے جواب میں کہا جائے گا کہ دونوں عمل میں بنیادی فرق وہی ہے جس کا ابھی اوپر تذکرہ کیا گیا۔بارہ ربیع الاول کو الگ سے شریعت نے عبادتوں میں گزارنے کا ہمیں حکم نہیں دیا کہ اس دن کون کون سی عبادت انجام دی جائے یہ ہم تلاشنے جائیں۔جب کہ لیلۃ القدر میں پوری رات جاگنے اور عبادت کرنے کا حکم دیا ہے،
اس لیے دونوں کو ایک کہنا درست نہیں ہے۔
ایک اور اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ایک شخص ہر چار رکعت تراویح کے بعد یومیہ عوام کی دینی مصلحت کی خاطر درس کا اہتمام کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
ایک دوسرا شخص عشاء کی نماز کے بعد اور تراویح سے قبل درس کا یومیہ اہتمام کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جس کے جواب میں کہا جائے گا کہ:
اس کا وہی حکم ہے جو عشاء کی نماز اور سنت راتبہ کے مابین درس کا حکم ہے۔
یا عشاء کی اذان اور جماعت کے مابین درس کا حکم ہے۔
ہر ہفتے اتوار کے دن مغرب وعشاء کے درمیان اہتمام کے ساتھ درس کا حکم ہے۔
یا ہر ہفتے اہتمام کے ساتھ جمعرات کے دن ٹھیک 9 بجے انجمن شروع کرنے کا حکم ہے۔
یا مدارس میں اہتمام کے ساتھ سال بھر گھنٹے اور منٹ کی تعیین کے ساتھ قرآن وحدیث کی گھنٹیاں اٹینڈ کرنے کا حکم ہے۔
یا اہتمام کے ساتھ ہر انگریزی سال کے پہلے اتوار کو کانفرنس منعقد کرنے کا حکم ہے۔
شیخ جیزانی نے قواعد معرفۃ البدع / معیار البدعہ میں اس اصول کو بیان کیا ہے۔
اگر وہ اس وقت یا دن وتاریخ کو درس یا انجمن یا کانفرنس کے لیے سنت/ مشروع سمجھتا ہو،
اس سلسلے میں شیخ البانی اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ کے فتؤوں کو اسی ضمن میں دیکھا جائے گا،
اس طرح کے اعمال (یعنی وقت/ دن/ تاریخ کی تعیین کے ساتھ کوئی عمل کرنے) میں نیت کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے،
مثلا: اگر کوئی شب برات منانے کے لیے پندرہویں شعبان کا روزہ رکھے تو بدعت ہے،
اگر کہیں وقت یا دن کی تعیین کی وجہ سے بدعت یا بدعتیوں سے مشابہت کا شبہہ پیدا ہو تو علما ایسے حالات میں بسا اوقات سد باب کے طور پر بھی ایسے عمل سے روکتے ہیں۔یعنی فی نفسہ وہ عمل جائز ہوتا ہے لیکن حالات کے مد نظر سد باب کے طور پر منع کرتے ہیں۔شیخین کے فتؤوں کو اس نظریے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
وقس بقیۃ الاشکالات علی ہذا۔
ایک اہم تنبیہ:
چونکہ لیلۃ القدر کی اصل عبادت قیام اللیل ہے جیسا کہ مضمون کے شروع میں گزرا۔اور سلف صالحین نے قیام اللیل کی احادیث سے یہی سمجھا ہے کہ گیارہ رکعت سے بھی زیادہ کوئی عام نفلی نمازیں پڑھنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔
ہم یہ مانتے ہیں کہ فہم سلف حجت ہے۔کتاب وسنت کے نصوص کا وہی فہم معتبر ہے جو ہمارے اسلاف نے سمجھا ہے،
اگر کوئی گیارہ رکعت کے بعد عام نفلی نمازیں پڑھنا بھی بدعت کہے تو انھیں اس بارے میں فہم سلف کی طرف ضرور رجوع کرنا چاہیے۔
اس پر ایک اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تین طلاق کے مسئلہ میں بھی سلف کا فہم یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین واقع ہو جاتی ہے پھر آپ تین طلاق کے مسئلہ میں فہم سلف کو حجت کیوں نہیں مانتے؟
جس پر ہمارا کہنا ہے کہ واللہ اگر طلاق ثلاثہ والے مسئلہ میں بھی سلف صالحین کا متفقہ فہم ہوتا کہ وہ ایک مجلس کی تین طلاق کو تین سمجھتے ہیں تو اس سے روگردانی کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے،
طلاق ثلاثہ والے مسئلہ میں سلف کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے،
لہذا ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ لیلۃ القدر میں زیادہ سے زیادہ وقت نماز میں ہی گزاری جائے۔اگر کوئی درس وتقریر کرنا چاہے تو کوشش ہو کہ عام نمازیوں کو ڈسٹرب نہ ہو،
جس طرح عام عبادتوں میں درس وتقریر شامل ہے اسی طرح قرآن کی تلاوت،
کئی کئی مقررین کو بلا کر رات بھر اجلاس منعقد کرنا،
نیز عوام کو بتایا جائے کہ درس وتقریر کرنا یہ لیلۃ القدر کی کوئی مخصوص عبادت نہیں ہے۔اسے قائم کرنا جس طرح جائز ہے،






