خطبۂ جمعہ ایک عظیم عبادت ہے اور خطبہ سننے کے لیے اہتمام کے ساتھ تیار ہونا اجر و ثواب کا باعث ہے۔جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے،
خطبۂ جمعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دورانِ خطبہ گفتگو کرے،
اس کے برعکس جو شخص خاموشی اور توجہ کے ساتھ خطبہ سنے،
چنانچہ جمعہ کے دن غسل کرنا،
خطبۂ جمعہ دعوت وتبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کا نہایت ہی موثر ذریعہ ہے۔لہٰذا خطیب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامعین کے حالات سے اچھی طرح واقف ہو کہ وہ کن مسائل سے نبرد آزما ہیں،
ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر موسم اور حالات کے مطابق موضوع کا انتخاب کرے اور مکمل تیاری کے بعد خطبہ دے تو بہترین نتائج برآمد ہوں گے اور ایک صالح و پاکیزہ معاشرہ تشکیل پائے گا۔
اس کے بر خلاف اگر ان امور کا اہتمام کیے بغیر خطبہ دیا جائے تو خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص کے کندھوں پر خطبے کی ذمہ داری ڈالی جائے جو سامعین اور معاشرے کے حالات سے خوب اچھی طرح واقف ہو۔اور یہ فریضہ مسجد کا مستقل امام و خطیب ہی بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے،
حالانکہ نبی کریم ﷺ،
البتہ کسی معقول عذر کی بنا پر باہر سے خطیب بلانے یا کبھی کبھار کسی دینی مصلحت کی وجہ سے جید عالم کو بطورِ خطیب مدعو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ یہ تنوع بسا اوقات سامعین کے لیے مزید افادہ اور تازگی کا باعث بن جاتا ہے۔لیکن مستقل طور پر خطیب تبدیل کرتے رہنا درست عمل نہیں ہے۔اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔
فائدہ بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ خطیب تبدیل کرتے رہنے سے سامعین کا انٹرٹینمنٹ بنا رہتا ہے اور نئے نئے اندازِ خطاب سے محظوظ ہونے کا موقع ملتا ہے نیز باہر سے آنے والے خطیب کو کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔
جبکہ نقصانات درج ذیل ہیں:
١-سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مہمان خطیب عوام کے حالات سے اچھی طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صوابدید کے مطابق موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور خطبہ دے کر رخصت ہو جاتا ہے،
اس کے برعکس،
۲۔دوسرا نقصان یہ ہے کہ بعض خطباء سستی اور کاہلی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ایک خطبہ تیار کرکے مختلف مقامات پر وہی دہراتے رہتے ہیں۔اس تکرار سے ان کی تخلیقی اور فکری صلاحیتیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔
اور بسا اوقات وہی تیار شدہ موضوع اس مسجد میں بھی بیان کر آتے ہیں جہاں اس پر گفتگو کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی-
خطیب کے اس رویے سے خطبہ جمعہ کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
٣-اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی مسجد میں ایک ہی موضوع پر کئی بار گفتگو ہوتی ہے۔کیوں کہ باہر سے آنے والے خطیب کو علم نہیں ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے کس موضوع پر بات ہوئی تھی اور کون کون سے نصوص بیان کیے گئے تھے۔
٤-کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر آدھے پونے گھنٹے میں سیر حاصل گفتگو نہیں ہو سکتی ہے اس کے لیے تسلسل درکار ہوتا ہے۔مہمان خطیب ہر ہفتے نہیں آسکتا ہے اس لیے موضوع ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔اور اس کے کئی اہم گوشے اجاگر نہیں ہو پاتے۔
اس کے برعکس جب مسجد کا مستقل امام خطبہ دیتا ہے تو سلسلہ وار گفتگو کرکے موضوع کو مکمل کرتا ہے۔اس سے خطیب کو بھی اپنی بات مدلل انداز میں پیش کرنے کا موقع ملتا ہے اور سامعین کو بھی بھرپور علمی و عملی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
میں نے مفسرِ قرآن مولانا حنیف ندوی رحمہ اللہ کے بارے میں پڑھا کہ آپ نے مسجد مبارک ریلوے روڈ لاہور میں انیس (۱۹) برس تک مستقل خطبۂ جمعہ دیا اور تقریباً تین مرتبہ پورا قرآن کریم خطباتِ جمعہ میں مکمل فرمایا۔
آپ کے خطبے سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے،
مہمان خطیب سامعین کو اس طرح فیض نہیں پہنچا سکتا ہے۔
۵-ہزار پانچ سو روپے میں خطیب دستیاب ہوجانے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض مساجد کے ذمہ داران اپنی مسجد میں مستقل امام و خطیب نہیں رکھتے ہیں یا ایک کم پڑھے لکھے طالب علم کو معمولی معاوضے پر رکھ لیتے ہیں جس کا کام صرف نماز پڑھانا ہوتا ہے۔
جمعہ کے روز جماعت و جمعیت یا کسی ادارے سے رابطہ کرکے خطیب کا انتظام کرلیتے ہیں۔خطیب خطبہ دیتا ہے اور لفافہ لے کر رخصت ہو جاتا ہے۔
اب اگر کسی سامع یا مصلی کو کوئی دینی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اپنا مسئلہ کس سے حل کرائے؟ کس سے فتویٰ پوچھے؟
٦-بسااوقات حالات کی نزاکت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مہمان خطیب ایسا موضوع چھیڑ دیتا ہے جو بعد میں اختلاف و انتشار کا سبب بنتے ہیں۔
٧-مستقل خطیب کی موجودگی میں مہمان خطیب کو مدعو کرنا اپنے خطیب کی خاموش توہین اور اسے نااہل قرار دینے کے مترادف ہے،
مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ مسجد کے خطیب سے مشورہ اور اجازت لے کر کسی کو مدعو کیا جائے لیکن تنخواہ کی مجبوری سارے دینی و منصبی اختیارات سلب کرلیتی ہے اور ایک مسجد کے امام اور کارخانے کے مزدور میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔
یہ رویہ بتاتا ہے کہ اب خطبہ اور خطیب بھی عوامی ذائقے کی چیز ہیں جن کا بدلتے رہنا ہی مقدر ہوتا ہے۔
یہ طرزِ عمل محلِ نظر ہے اور دینی سنجیدگی کے بھی منافی ہے کہ محض لطف اندوز ہونے کے لیے خطیبوں کو ادھر ادھر سے بلایا جائے۔مسجد کوئی تفریح گاہ نہیں کہ ہر ہفتے نیا مقرر آئے اور سامعین کو لطف اندوز کرے،
لوگوں کی تربیت اور سماج و معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب مسجد کا امام موسم و حالات کے مطابق موضوع چنے اور مکمل تیاری کے ساتھ مستقل خطبہ دے۔
بلا کسی معقول عذر کے خطیبوں کی تبدیلی حکمت کے خلاف ہے اور اس سے خطبۂ جمعہ کا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا ہے۔اس لیے اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔






