اللہ تعالیٰ نے اس کار گاہ عالم فانی میں خوشی و غم،
اللہ تعالیٰ ہی بے چین و بے قرار کی فریاد سنتا ہے اور اس کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔اس کے علاوہ کسی بھی چیز میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کی قدرت نہیں ہے۔اس کے علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کی سب عاجز،
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَٰفِلُونَ(الأحقاف:5)
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو قیامت تک اس کے پکارنے کا جواب نہ دے سکے اور انھیں ان کے پکارنے کی خبر بھی نہ ہو۔
ایک جگہ فرمایا:
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ(الأعراف:194)
بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھاری طرح بندے ہیں،
ایک اور جگہ فرمایا:
وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ(الأعراف:197)
اور جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی جان کی مدد کر سکتے ہیں۔
مذکورہ آیات سے یہ بات واضح ہو چکی کہ اللہ کے علاوہ سب ہیچ اور بے بس ہیں۔سب کے سب اللہ کے محتاج ہیں۔اس کے علاوہ کوئی کسی کی مدد کر سکتا ہے اور نہ ہی تکلیف دور کر سکتا۔صرف اور صرف اللہ ہی ہے جو سب کی مدد کرتا ہے۔وہی بگڑی بنانے والا،
وَأَنَّ ٱلْمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا(الجن:18)
اور بے شک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
دوسری جگہ فرمایا:
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ(يونس:106)
اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو نہ پکار جو نہ تجھے فائدہ پہنچائے اور نہ نقصان،
قرآن کریم میں اس قسم کی بے شمار آیتیں ہیں کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیے۔اسی سے لو لگانا چاہیے۔بندہ جب اس سے مانگتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے پر ناراض ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن لم يسألِ اللهَ يغضبْ علَيهِ(صحيح الترمذي:3373)
جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔
یعنی دنیا والے مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں،
لا تسأل بني آدم حاجة-واسأل الذي أبوابه لا تحجب
الله يغضب إن تركت سؤاله-وابن آدم حين يسأل يغضب
یعنی کسی انسان سے اپنی حاجت مت مانگو۔اس سے مانگو جس کے کرم و بخشش کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنَّ ربَّكم حييٌّ كريمٌ يستحيي من عبدِه أن يرفعَ إليه يدَيْه فيرُدَّهما صِفرًا (صحيح ابن ماجة:3131)
تمھارا رب بڑا ہی حیا و کرم والا ہے۔جب کوئی بندہ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا اور مانگتا ہے تو اس کو خالی ہاتھ واپس کرتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ انتہائی بخشنے والا اور بے حد مہربان ہے۔بڑے سے بڑا گناہ گار اور مجرم بھی اگر اپنے گناہ اور جرم پر پشیمان ہوکر توبہ واستغفارکرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ارشادِ باری ہے: وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا(النساء:115)
جو شخص کوئی برائی کرے یا (گناہ کا ارتکاب کر کے) اپنی جان پر ظلم کرے،
ایک اور حدیث قدسی میں ہے:
يا ابنَ آدمَ إنَّكَ ما دعوتَني ورجوتَني غفَرتُ لَكَ على ما كانَ فيكَ ولا أبالي،
اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا،
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ باللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ،
بے شک اللہ تعالیٰ اپنا دست رحمت رات کے وقت پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا شخص توبہ کرلے۔اسی طرح دن کے وقت بھی اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا آدمی توبہ کرلے۔یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
دعا اور ماہ رمضان المبارک:
قرآن کریم کی سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 183 سے 187تک رمضان اور روزے کے متعلق بہت سارے احکام ومسائل کو بیان کیا ہے۔لیکن ایک قابلِ غور بات یہ ہے کہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [سورة البقرة:186]
اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں،
اس سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہ رمضان کا دعا سے خاص تعلق ہے۔اس لیے روزے کے دوران میں زیادہ سے زیادہ دعا،
«ثلاثُ دَعَواتٍ لا تُرَدُّ: دَعوةُ الوالِدِ،
تین دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔اپنی اولاد کے لیے والد کی دعا،
ایک روایت میں فرمایا:
«ثلاثُ دعواتٍ مُستجاباتٌ: دعوةُ الصائم،
تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں: روزے دار کی دعا،
خاص طور پر افطاری کے وقت ضرور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے کیوں کہ یہ وقت قبولیت کے اوقات میں سے ہے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
«إنَّ للصَّائمِ عند فطرِه لدعوةً ما تُردُّ»( ابن ماجہ: 1753-قال في الزوائد: إسناده صحيح)
بے شک روزے دار کی،
رمضان المبارک میں دعا کی قبولیت کے بے شمار امکانات و مواقع ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے اپنی امت کو اس ماہ مقدس کی قدر و قیمت کو سمجھنے اور اس کے سنہری لحظات و لمحات سے بھرپور مستفید ہونے کی ترغیب دی ہے۔مختلف احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ بابرکت کی آمد کی بشارت سنائی ہے اور اس کے فضائل و برکات سے بہرہ ور ہو نے کی تلقین کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کے پالینے کو خوش بختی کی علامت قرار دیا ہے۔چنانچہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں بیک وقت مشرف بہ اسلام ہوئے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کی آمد کی بشارت سناتے ہوئے فرمایا:
«أتاكُم رَمضانُ شَهرٌ مبارَك،
تم پر ماہ رمضان سایہ فگن ہو چکا ہے جو کہ ایک با برکت مہینہ ہے،
ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إذا كانَ أوَّلُ ليلةٍ من شَهْرِ رمضانَ: صُفِّدَتِ الشَّياطينُ ومرَدةُ الجنِّ،
جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا۔اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں چھوڑا جاتا۔اور ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہتا ہے:اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ،
ویسے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے بارہ مہینوں میں خیر کا کام کرتے اور اپنی امت کو اس کی ترغیب دیتے تھے لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں آپ کے سخاوت و خیر سگالی کے جذبے میں مزید اضافہ ہو جاتا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أجْوَدَ النَّاسِ بالخَيْرِ،
نبی کریم ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبریل علیہ السلام آپ سے رمضان میں ملتے،
خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کے لیے بالکل کمر بستہ ہو جاتے اور اپنے اہل و عیال کو اس کی ترغیب دیتے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
«كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ إذَا دَخَلَ العَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ،
جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو کر خوب عبادت کرتے،
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
«كانَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يَجْتَهِدُ في العَشْرِ الأوَاخِرِ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات میں جتنی محنت آخری عشرے میں کرتے اتنی کبھی نہیں کرتے تھے۔
آخری عشرے میں عبادت کی سب سے بہتر شکل یہ ہے کہ دنیاوی امور سے بالکل منقطع ہو کر بندہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کے تقرب کے حصول کے لیے بالکل یکسو ہو جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ اس عشرے کو اعتکاف میں گزارتے تھے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
«أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ كانَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأوَاخِرَ مِن رَمَضَانَ حتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف میں بیٹھنے لگیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کی اتباع کرتے ہوئے ہم سب کو اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنا چاہیے۔دعا و مناجات اور توبہ واستغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔بلا شبہ رمضان المبارک کا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔اس میں قیام اللیل کی بھی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَن قَامَ رَمَضَانَ إيمَانًا واحْتِسَابًا،
جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے رمضان مہینے میں قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیےجاتےہیں۔
اس مہینے میں ایک رات آتی ہے جسے شب قدر کہا جاتا ہے،
«مَن قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إيمَانًا واحْتِسَابًا،
جو ایمان کے ساتھ اور طلب اجر و ثواب کی خاطر لیلةالقدر کا قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ مبارک کی قدر و قیمت کو صحیح سے سمجھنے،






