جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہوائیں

کلام: ابوالمیزان12 مئی، 20251,327قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہوائیں
فل اسکرین دیکھیں
ہوائیں کررہی ہیں کیا
کہ سانسیں ٹوٹتی ہیں
لوٹتی ہیں
جاں کے نذرانے
بلائیں
اک عجب سی بے بسی ہے
درد کے چارہ گروں نے
اوڑھ رکھی ہیں
کفن سی وحشتیں
قبروں کا سناٹا
ہوا ہے بھنگ
شمشانوں میں ہلچل ہے
دھوئیں کے ساتھ
لپٹوں نے مچا رکھا ہے ہنگامہ
نئے درماں پہ سنکٹ ہے
نہ ہے او ٹو ضرورت بھر
کہ اب تو
آکسیجن کے سلینڈر
بن گئے ہیں
زندگی کی بوٹ
دنیا اک سمندر
پھٹ پڑا ہے
جس میں اک آتش فشاں
پانی میں ایسی
لگ گئی ہے آگ
چاروں اور برپا ہیں کراہیں
گونجتی رہتی ہیں آہیں
گھر میں بازاروں میں
راہوں میں
شفاخانوں میں
کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں لوگ
سانسیں
پھر بھی
شمشانوں کے باہر ہیں قطاریں
زندہ لاشیں
جل رہی ہیں
بھوگ پیڑا کی تپش سے
چل رہی ہیں ارتھیاں
کندھوں پہ نازک آبگینوں کے
گری پڑتی ہیں ایمبولینس سے لاشیں
کہ قبرستان بھی اب پیر پھیلانے لگے ہیں
جا نہیں سکتے ابھی
دربار میں اس کے
سبھی کو لے کے
پوچھیں
کیا ہوا ہے
کیوں خفا ہے
چپکے سے جاؤ
ہوائیں
اس کی مرضی کے بنا
چلتی نہیں ہیں
(٢٥/اپریل ٢٠٢١)
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہوائیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر