انگریزوں کے دور حکومت سے متعصبین اہل مذہب نے عاملین بالکتاب والسنۃ کو وہابیت کا خطاب ناصواب دے رکھا ہے،
وہابی کون اور کب سے؟(اس موضوع پر ایک مختصر مقالہ علامہ محمد ابو القاسم سیف بنارسی رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا تھا جو "أخبار اہل حدیث امرتسر" میں۱۹۲۴ م کی فائل میں شائع ہوا تھا)
وہابیہ قدیم زمانہ میں خارجیوں کا ایک فرقہ تھا جو کہ اہل سنت کا سراسر مخالف تھا۔اور اس کا وجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سے شروع ہوا۔جیسا کہ مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
"ثم فشت دعوة الإباضيّة والصّفريّة منهم في هوارة ولماية ونفزة ومغيلة وفي مغراوة وبني يفرن من زناتة".
وقال: "ففي بلاد زناتة بالصحراء منها أثر باق لهذا العهد في قصور ربع وواديه،
پھر اباضیوں اور صفریوں کی دعوت ھوارۃ،
اور کہتے ہیں: زنانہ کے صحراوی علاقہ میں رابع اور ودادیہ کے محلوں میں آج بھی ان کے آثار باقی ہیں،
امام لخمی سےان وھبیہ کے بارے میں پوچھا گیا جو اہل سنت والجماعت کے بیچ میں رہنے لگے ہوں؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں قرآن پڑھتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے یہ خوارج ہیں،
فرد بل اپنی کتاب "الفرق الإسلامية في الشمال الإفريقي"(ص: ۱۴۰ سے ۱۵۲ تک) میں کہتا ہے:
"عبد الوهاب بن رستم هذا الذي سميت فرقته بالوهابية نسبة إليه"۔یعنی وھابیہ عبدالوھاب بن رستم کا فرقہ جو اسی کی طرف منسوب ہے (یہی بات آزاد انسائیکلو پیڈیا (ویکی پیڈیا میں) ان کے متعلق درج ہے)
اسی کی تائید زرکلی نے اپنی کتاب (الاعلام:۴/۳۳۳،
یہ اور اس جیسے لاتعداد ایسے ثبوت اور حوالے موجود ہیں جو دلیل ہے کہ اہل حدیث یا عاملین کتاب وسنت یا ہندوستان کے عاملین بالحدیث جو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پیرو،
وہابی کسی بھی حال میں اہل حدیث نہیں ہوسکتے،
کیونکہ ان کا اصول ہے مسلمانوں کی جماعت سے نکلنا اور اہل سنت والجماعت کا اصول ہے ان کی جماعت کو لازم پکڑنا تو دونوں میں دن رات جیسا فرق ہے۔
اب ہم اہل حدیث کی چند صفات اور ان کی فضیلت ذکر کرتے ہیں جس سے یہ بات اور زیادہ واضح ہوجائے گی کہ اہل حدیث وہابی نہیں ہیں،
اہل حدیث کب سے ہیں:
اہل حدیث زمانہ نبوی سے ہیں جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ "میں پہلا اہل حدیث ہوں۔"(دیکھیں:سیر أعلام النبلاء از ذھبی: سیرۃ أبوھریرہ) غالبا اسی جرم میں ان حضرات نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ بنا دیا جیسے اہل حدیث کو لا مذہب۔{وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ}(الشعراء: ۲۲۷)
اہل حدیث ایک صفاتی نام ہے جو قرون اولی سے آج تک چلا آ رہا ہے اور یہ وہی جماعت ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ،
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "هم أصحاب الحديث"(سنن ترمذی: أبواب الفتن،
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں کہتے ہیں کہ: اگر یہ گروپ اہل حدیث کے علاوہ ہے تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے(معرفۃ علوم الحدیث از: حاکم: ۲)۔یعنی یہ وہی اہل حدیث لوگ ہی ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "يعني أهل الحديث"(سنن ترمذی: أبواب الفتن،
امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے: "ذكر إثبات النصرة لأصحاب الحديث إلى قيام الساعة" (صحيح ابن حبان:۱/۲۶۱) یعنی قیامت تک اہل حدیث کی مدد کے ثبوت کا ذکر۔
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: "اہل حدیث وہ لوگ ہیں جو حدیثوں پر عمل کرتے ہیں،
بدعتی کی پہچان:
امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ بدعتی کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ليس في الدنيا مبتدع إلا وهو يبغض أهل الحديث"(معرفۃ علوم الحدیث از: حاکم:۶) دنیا میں کوئی بھی بدعتی نہیں ہوگا مگر وہ اہل حدیث سے بغض رکھے گا۔
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إذا رأيت الرجل يحب أهل الحديث ... فإنه على السنة"(شرف أصحاب الحدیث از خطیب بغدادی: (ص: ۱۳۴)،
یعنی جب کسی کو دیکھو کہ وہ اہل حدیث سے بغض کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ سنت پر نہیں ہے اور جب سنت پر نہیں ہوگا تو بدعت پر ہوگا۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ اہل حدیث سے بغض رکھنے والوں کو شیطان سے یاری کی بشارت سناتے ہوئے کہتے ہیں: "اے اہل حدیث سے بغض رکھنے والے اور گالیاں دینے والے،
اہل حدیث کیسے لوگ ہیں:
امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ اس سوال کا جوب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "هم خير أهل الدنيا"(معرفۃ علوم الحدیث از: حاکم: (ص: ۳) اور اس کی سند صحیح ہے) وہ دنیا میں سب سے بہترین لوگ ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں: "إذا رأيت رجلا من أصحاب الحديث فكأني رأيت رسول الله ﷺ حيا"(شرف أصحاب الحدیث،
یہ اقوال جہاں اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اہل حدیث عہد نبوی سے ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے بہترین لوگ ہیں وہیں اس بات کی گواہی ہے کہ اس جماعت کا صفاتی نام اہل حدیث ہے،
یہاں ان لوگوں کا بھی جواب ہوگیا جو پوچھتے ہیں کہ کیا اپنے آپ کو صرف مسلمان کہنا چاہیے یا اس کے ساتھ سلفی یا اہل حدیث لگانا چاہے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ نبی کریم ﷺ نے ہمارا نام طائفہ منصورہ اختیار کیا ہے جس کو صحابہ کرام اور محدثین نے ایک وصف دیتے ہوئے اہل حدیث سے اس کا معنی بیان کیا ہے،
اب یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ اہل حدیث کا وہابیہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی اہل حدیث وہابی کبھی تھے اور کبھی ہو سکتے ہیں،
وباللہ التوفیق






