سنت سے انحراف کی تاریخ بڑی قدیم ہے۔جتنے بھی گمراہ فرقے پیدا ہوئے ان میں ایک مشترک چیز یہ پائی جاتی ہے کہ وہ سنت سے دور ہیں۔عقلی قیاس آرائیاں،
اہل سنت والجماعت تمام ابواب کی طرح اس باب میں بھی وسطیت واعتدال پر قائم ہیں،
محدثین کرام نے دن رات کی انتھک کوششوں سے ان تمام رُوات کی تفصیلی حالاتِ زندگی کو منظر عام پر لایا جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح روایت حدیث سے تھا۔اس کے تحت انھوں نے ہر راوی کے عقیدہ وعمل،
محدثین کے یہاں احادیث کی رد وقبولیت کا یہی معتبر معیار ہے۔نفسانی خواہشات کا اس میں ذرہ برابر عمل دخل نہیں ہوتا،
انکار حدیث در اصل انکار رسالت ہے،
نبیﷺ نے جہاں اپنے بعد واقع ہونے والے تمام فتنوں سے امت کو آگاہ کیا وہیں اس فتنہ کا بھی خصوصی تذکرہ کیا کہ کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن کی آڑ لے کر سنت رسول کا انکار کریں گے۔دوسری پیشن گوئیوں کی طرح نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی بھی صد فیصد سچ ثابت ہوئی،
(1)سنت رسول کو اصول شریعت میں قرآن کریم کے بعد ثانوی حیثیت عطا کرنا:
استخفافِ سنت کی جو مختلف شکلیں عصر حاضر میں رونما ہوئیں ان میں سے ایک شکل یہ تھی کہ بعض منحرفین نے اس بات کا خوب پرچار کیا کہ شریعت سازی میں حدیث رسول کا مقام ومرتبہ قرآن کریم کے بعد ہے۔قرآن کریم کے درجے میں نہیں۔یہ در حقیقت سنت رسول کے استخفاف کی ایک شکل ہے۔
مشہور منحرف مفکر امین احسن اصلاحی اور حمید الدین فراہی وغیرہ نے زور وشور کے ساتھ یہ فکر پیش کی ہے۔اس فکر کو اس قدر شہرت ملی کہ اچھے خاصے اہل حدیث حضرات بھی بسا اوقات یہی بات دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جب کہ سلف صالحین کا منہج یہ ہے کہ شریعت سازی میں قرآن وحدیث کا مرتبہ بالکل برابر ہے،
(2)سنت اور حدیث میں تفریق کرنا اور صرف سنت کو حجت قرار دینا،
بعض مزعوم مفکرین کے یہاں انکار سنت کی ایک شکل یہ پائی جاتی ہے کہ وہ حدیث وسنت کے درمیان تفریق کرتے ہیں اور صرف سنت رسول کو حجت مانتے ہیں،
چنانچہ کہتے ہیں کہ سنت وہ ہے جس پر نبیﷺ نے بار بار عمل کیا ہو،
یہ فکر کتنی خطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جن اعمال کو نبیﷺ نے ایک دو بار انجام دیا ہو،
جب بھی کسی رائج بدعت پر نکیر کی جائےگی توعملی تواتر کی بات کہہ کر اسے سنت ثابت کر دیا جائےگا۔
جب بھی کسی غلط طریقہ عبادت پر ٹوکا جائےگا اسے حدیث کہہ کر اور غلط عمل کو سنت کہہ کر رد کر دیا جائےگا۔حالانکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود فقہی مذاہب میں عبادات کے طریقوں میں اس قدر اختلاف ہے تو عملی تواتر کون سا ہے جو سنت اور حجت ہے؟
ایک نماز ہی کی مثال لے لیں کہ دنیا کے کتنے خطوں میں اس کے کتنے طریقے رائج ہیں۔آخر ان میں سے کون سا طریقہ سنت ہے جسے حدیث رسول پر فوقیت حاصل ہے۔یہ در اصل انکار حدیث کی ہی ایک شکل ہے۔
(3)حدیث کو صرف ایک تاریخی دستاویز قرار دینا:
راشد شاز،
ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ پھر وہ نماز،
اگر حدیث رسول کی حیثیت شرعی مصدر کی نہیں صرف تاریخی دستاویز کی ہے تو آخر کیونکر غزوہ تبوک کے موقع پر ان صحابہ کرام کو سزائیں دی گئیں جنھوں نے حکم رسول کی تعمیل میں کوتاہی کی تھی؟
کیا انھیں یہ سزا قرآن کی کسی صریح آیت کی مخالفت میں دی گئی تھی؟
کیا صحابہ کرام قرآن وحدیث کے مابین یہ تفریق کرتے تھے؟
بلکہ اللہ تعالی نے قرآن میں اسے منافقین کی صفات میں شمار کیا ہے جو قرآن وحدیث کے مابین تشریعی ناحیہ سے کوئی تفریق کرتے ہیں۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا [النساء: 61]
(4)حدیث رسول کو قرآن کے متعارض دکھا کر انکار کا راستہ اختیار کرنا:
محدثین نے تحقیق احادیث کے جو قواعدبیان کیے ہیں ان میں یہ نہیں ہے کہ کوئی حدیث بظاہر قرآن کے مخالف نظر آئے تو اس کے ثبوت کا انکار کر دیا جائے۔کیونکہ اس اصول پر قرآن کا بھی انکار لازم آئےگا،
پہلا: فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ (88) فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ (89) [الصافات: 89]
اور دوسرا: قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ [الأنبياء: 63]
(5)حدیث رسول کو باہم متعارض دکھا کر انکار کا راستہ اختیار کرنا:
یہی بات قرآن کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے،
علما نے اس موضوع پر مستقبل کتابیں تصنیف کرکے ثابت کیا ہے کہ احادیث باہم متعارض نہیں،
(6)صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرنا:
جس کے نتیجے میں پوری ذخیرہ سنت ہی مشکوک ہو جاتی ہے،
صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرنایہ روافض کا طریقہ رہا ہے۔پوری امت میں روافض کے علاوہ اور کسی فرقے میں یہ ناپاک جراثیم نہیں پائے جاتے تھے،
جماعت اسلامی وہ گمراہ جماعت ہے جو اپنے آپ کو اہل سنت کی طرف منسوب کرتی ہے اور صحابہ کرام کے ناموس پر حملے بھی کرتی ہے۔ظاہر ہے کہ جب صحابہ کرام کی عدالت ہی مجروح ہو گئی تو ان کے طریق سے سنت کا جو ذخیرہ منقول ہوگا وہ کیسے پایہ اعتبار کو پہنچ سکتا ہے۔
اس باطل فکر پر ایک مستقل مضمون میں میں نے بالتفصیل رد لکھا ہے جو کہ فری لانسر میں شائع شدہ ہے۔
(7)تجربات کی بنیاد پر احادیث کا انکار کرنا:
مثلا یاجوج ماجوج اور دجال کے متعلق حدیث جساسہ کو یہ کہہ کر غیر معتبر قرار دینا کہ جدید سائنس نے کائنات کے چپے چپے کی دریافت کر لی ہے،
حالانکہ سائنس داں خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سمندر کا صرف پانچ فیصد ہی اب تک انکشاف کر پائے ہیں۔یعنی باقی پچانوے فیصد میں کیا کچھ موجود ہے ہمیں اس کا علم ہی نہیں۔اسی سے مولانا مودودی اور مولاناوحید الدین خان وغیرہ کے اس شبہے کی پول کھل جاتی ہے کہ یہ کتنا پھسپھسا اعتراض ہے۔
نیز یاجوج ماجوج کا ذکر فقط حدیث میں نہیں قرآن میں بھی سورہ کہف میں آیا ہواہے،
(8)نئے اصول وقواعد وضع کرکے انکار سنت کا راستہ ہموار کرنا:
احناف کے یہاں ابھی حال ہی میں اس طرح کی بعض کوششیں ہوئی ہیں۔عبد المجید الترکمانی نے ایک کتاب لکھی ہے”دراسات فی اصول الحدیث علی منہج الحنفیہ“جس میں ان احادیث کونئے قواعد وضع کرکے فقہ حنفی کے مطابق قبول یا رد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کی وجہ سے زمانے سے احناف کو مطعون کیا جاتا تھا۔
(9)علوم حدیث کا سہارا لے کر بعض ثابت شدہ احادیث کو ضعیف قرار دینا،
جیسے کہ قرضاوی وغیرہ نے عورتوں کی سیادت وقیادت والی حدیث کو ضعیف کہنے کی کوشش کی ہے۔
اخوانیوں نے صحیح مسلم کی اطاعت امیر والی حدیث کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
محمود سعید ممدوح نے علامہ البانی کے رد میں اپنی کتابوں میں یہی طریقہ اپنایا ہے۔
(10)عقل کی کسوٹی پر پورا نہ اترنے کی بنا پر صحیح احادیث کا انکار کر دینا:
اس کی فہرست بڑی لمبی ہے۔معاصرین میں سر سید احمد خان اس میدان کے سرخیل شمار ہوتے ہیں۔بے شمار ثوابت اور اصول ایمان کا انھوں نے صرف اس بنا پر انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے،
یہ وہ مسائل ہیں جن پر سلف صالحین کا اجماع ہےاور جن کے انکار کی وجہ سے صرف صحیح احادیث کا ہی نہیں آیات قرآنی کا بھی انکار لازم آتا ہے۔اس لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جو منکر سنت ہوتا ہے وہ منکر قرآن بھی ہوتا ہے۔
مولانا وحید الدین خان کا دجال اور علامات قیامت کے متعلق بھی یہی نظریہ ہے،
(11)احادیث کی تصحیح کو محدثین کا محض اجتہاد اور زعم باور کرانا:
علامہ شبلی نعمانی نے انکار سنت کے اس طریقے کو اپنی کتابوں میں خوب ذکر کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:
”جس طرح ایک فقیہ کسی مسئلہ کو قرآن یا حدیث سے استنباط کرکے اپنی دانست میں صحیح سمجھتا ہے اور اس کی صحت یقینی نہیں ہوتی کیوں کہ استنباط میں جن مقدمات سے اس نے کام لیا ہے،
یہاں انھوں نے جس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے احادیث صحیحہ کے منکر کو محض محدثین کے اجتہادات ومزعومات کا منکر کہا ہے خود ان کے کلام میں اس کی تردید موجود ہے۔
ایک فقیہ جن مسائل کے متعلق قرآن یا حدیث سے استنباط کرکے اپنی دانست میں شرعی حکم لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صحیح ہے،
اب اگر کوئی یہ کہے کہ وضو نماز کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے تو اس کی یہ بات ہر ایک کے نزدیک مردود ہوگی،
اسی طرح بے شمار احادیث کا معاملہ ہے کہ وہ محدثین کے نزدیک بالاجماع صحیح ہیں جیسے کہ صحیحین کی روایات،
رہی وہ بعض احادیث جن کے مابین محدثین کے نزدیک اختلاف ہے تو وہ بھی فقہی مسائل کی طرح دو طرح کے ہیں،
محدثین کرام نے شرعی نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے استقرا کے بعد یہ قواعد وضوابط وضع کیے ہیں۔خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے یہ قواعد وضع نہیں کیے گئے کہ ہر کوئی اسے قبول یا رد کرنے میں آزاد ہو،
اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ جو حدیث تمام محدثین کے نزدیک بالاجماع صحیح ہو آج کوئی ایسا اصول وضع کرے جس سے اسے ضعیف ثابت کیا جا سکے،
اس لیے یہاں ”اجتہادات ومزعومات“سے اختلاف کا معاملہ بالکل نہیں ہے،
(12)قیاس کے مخالف ہونے کی بنا پر احادیث کو قابل حجت نہ ماننا:
مقلدین احناف کے یہاں یہ بیماری بہت پائی جاتی ہے۔در اصل یہ باطل فکر قدیم زمانے سے موجود ہے۔زمانہ قدیم میں معتزلہ نے ایک ایسی بدعت کی ایجاد کی تھی جو ان سے پہلے امت کے اندر موجود نہ تھی۔وہ ہے قیاس کے مخالف ہونے کی صورت میں بعض صحابہ کرام کی روایتوں کو یہ کہہ کر رد کر دینا کہ وہ فقیہ نہیں تھے۔قاضی عیسی بن ابان المعتزلی اس کے علمبردار تھے۔انکار سنت کی یہ شکل آج بھی موجود ہے۔متاخرین احناف کے یہاں یہ فاسد اصول خوب رواج پایا اور حدیث مصراۃ و حدیث عرایا وغیرہ کو بے دردی کے ساتھ اس اصول کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
(13)اپنی طرف سے حدیث گھڑ کر نبیﷺ کی طرف منسوب کر دینا:
یہ گرچہ انکار سنت نہیں لیکن سنت کے اندر دخل اندازی ضرور ہے۔اور جس طرح انکار سنت فتنہ ہے اسی طرح دخل اندازی بھی فتنہ ہے۔
اس ناپاک عمل کے مختلف اسباب میں سے ایک اہم سبب کسی تقلیدی مذہب کی نصرت وتائید ہے۔
تقلید کا مرض اتنا خطرناک ہے کہ ایک مقلد سے جو کچھ کرا لے کم ہے۔تقلیدی بیڑیوں میں گرفتار بہت سے اہل علم نصوص کتاب وسنت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور تحریف وتبدیل کرنے تک سے باز نہ آئے۔
انھی میں سے ایک مثال شیخ حبیب الرحمن اعظمی کی تحقیق سے چھپی مسند حمیدی میں موجود عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی نماز میں رفع یدین والی حدیث ہے۔یہ کتاب اس سے پہلے دار الکتب الظاہریہ سے چھپ چکی ہے۔اس میں اس کے الفاظ اس طرح ہیں:
”رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه،
یہی حدیث حبیب الرحمن اعظمی کی تحقیق سے مطبوع نسخے میں اس طرح ہے:
”رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين“۔
اس پر انھوں نے لمبا نوٹ بھی چڑھایا ہے اور کہا ہے کہ کسی محدث نے اس روایت کے متعلق کوئی تعرض نہیں کیا ہے۔در اصل بات یہ ہے کہ یہ الفاظ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہیں ہی نہیں،
مقلدین کے یہاں انکار سنت اور حدیث رسول کے ساتھ کھلواڑ کا ایک طریقہ یہ پایا جاتا ہے کہ ایک ہی حدیث کا بعض ٹکڑا اگر ان کے مذہب کی موافقت کر رہا ہے تو اسے قابل حجت مانتے ہیں اور اسی کے دوسرے ٹکڑے سے ان کے مذہب کی مخالفت ہو رہی ہو تو اسے قابل حجت نہیں مانتے۔
(14)افادۂ ظنیت کی آڑ لے کر سنت کا انکار کرنا:
تقریبا تمام منکرین سنت میں مشترک طور پر یہ بیماری موجود رہی ہے۔شاید ہی کہ کوئی منکر سنت ہو جس نے انکار سنت کا یہ راستہ نہ اپنایا ہو۔
اسی وجہ سے اس فکر کی تردید میں علما نے کافی کچھ لکھا ہے۔
انکار سنت کی چند موجودہ شکلوں کے بیان کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ معاصرین میں انکار سنت کے بعض علمبرداروں کا مختصرا ذکر دیا جائے:
معاصرین میں جن حضرات نے انکار سنت کا علم بلند کیا ہے ان میں عالم عرب میں سے چند مشہور نام یہ ہیں:
محمد عبدہ:یہ عقیدے کے باب میں خبر واحد کی حجیت کےمنکر ہیں۔اسلام کے دفاع کے لیے کتاب وسنت کو نہیں بلکہ عقل ومنطق کو سب سے بہترین ہتھیار قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر احمد امین: ”فجر الاسلام“،
اسماعیل ادہم:مستشرقین سے متاثر ہیں،
حسین احمد امین: انکار سنت میں اپنے باپ احمد امین سے بھی دو قدم آگے۔نماز کی فرضیت،
محمود ابو ریہ:یہ بندہ نہایت ہی خبیث قسم کا منکرِحدیث ہے۔صحابہ کرام پر بالعموم اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر بالخصوص سب وشتم کرتا ہے۔اس نے اپنی دو زہر آلود کتابوں میں صحابہ کرام اور سنت رسول پر طعن وتشنیع کی تمام حدیں پار کر دیں،
سید صالح ابو بکر:”الأضواء القرآنية في اكتساح الأحاديث الإسرائيلية وتطهير البخاري منها“ نامی ایک کتاب تصنیف کی اور اس میں یہ دعوی کیا کہ صحیح بخاری میں سو ایسی احادیث ہیں جو یہود کی طرف سے وضع کردہ ہیں۔اس کا سب سے اہم مرجع ابو ریہ کی کتاب ”أضواء على السنة المحمدية“ہے۔
احمد زکی ابو شادی:یہ عقل کو بنیاد بنا کر سنتِ رسول کا انکار کرتے ہیں۔
محمد غزالی:یہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں،
سعید الحوی:حدیث رسول میں رخنہ اندازی کا ایک طریقہ انھوں نے یہ نکالا ہے کہ ضعیف وموضوع روایات کو بھی یہ احتمال پیدا کرکےصحیح کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بہت ساری کتابیں بغداد واندلس کے حوادث میں ضائع ہو گئی ہیں،
واضح رہے کہ سعید الحوی کا یہ کوئی نیا شبہ نہیں ہے اور زمانۂِ قدیم سے علما نے اس کا مدلل جواب دیا ہے۔
جہاں تک بر صغیر ہند وپاک کے منکرین سنت یا متشککین کی بات ہے تو ان کی فہرست کافی طویل ہے۔جن میں سے بعض نام یہ ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی،
وہیں بعض جمعیات اور ادارے مستقل طور پر اسی ناپاک کام میں سرگرم ہیں،
بر صغیر کے منکرین سنت کا تذکرہ کیا جائے اور مولانا مودودی کا نام نہ لیا جائے تو نا انصافی ہوگی۔
مولانا مودودی کو گرچہ صریح منکر سنت نہ کہا جائے لیکن ان کا شمار متشککین میں ضرور ہوتا ہے،
مولانا مودودی کے بعد امین احسن اصلاحی کا نام لینا مناسب ہوگا۔ایک زمانے میں جماعت اسلامی میں مولانا مودودی کے بعد انھی کا دوسرا مقام تھا،
آخر میں بطور تنبیہ ایک چیز ذکر کرنا چاہوں گا،
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے،






