جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

لفظ ((سنہری)) کی لغوی و صرفی تحقیق

تحریر: ابوالمرجان فیضی16 مارچ، 20241,871قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۵ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لفظ ((سنہری)) کی لغوی و صرفی تحقیق
فل اسکرین دیکھیں

اردو ایک ہم زبان ہے۔اور اس کے بولنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔اپنی لطافت و چاشنی کی وجہ سے پوری دنیا میں مقبول ہے۔اردو زبان کئی ممالک میں بولی اور پڑھی جاتی ہے۔سب سے اہم یہ کہ یہ ہماری مادری زبان ہے۔

اہل زبان ہمیشہ سے اس کی خدمت کرتے آئے ہیں پھر بھی بعض الفاظ کے تعلق سے عوام میں ابھی بھی کنفیوژن برقرار ہے۔

ان ہی الفاظ میں سے ایک لفظ سنہری بھی ہے۔عوام سمجھ نہیں پاتے کہ مذکر ومونث کے لیے اسے سنہرا اور سنہری استعمال کریں یا صرف سنہری۔

زیر نظر مضمون میں ہم اسی لفظ کی لغوی و صرفی تحقیق کریں گے،تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے۔آئیے شروع کرتے ہیں:

سونا. زر. ذھب. Gold ایک قیمتی دھات

روپا. چاندی. سیم. فضة..Silver ایک قیمتی دھات

ہندی زبان میں سونے اور روپے کے ساتھ نسبت کا معنی دینے کے لیے ہرا ( हरा ) کا لاحقہ لگاتے ہیں۔کبھی ہلا ( हला ) کا لاحقہ۔چنانچہ یہ الفاظ کبھی سنہرا اور روبہرا ہوجاتے ہیں تو کبھی سنہلا اور روپہلا۔

سنہرا اور سنہلا: ( सुनहरा और सुनहला )

سنہرا: کا معنی ہے سونے کا۔طلائی،زریں سونے کی طرف منسوب۔جیسے اکہرا ایک کی طرف منسوب،دوہرا دو کی طرف منسوب وغیرہ۔

سنہلا: زریں. طلائی. سونے کی طرف منسوب جیسے پہلا اول کی طرف منسوب۔نہلا نو کی طرف منسوب۔دہلا دس کی طرف منسوب وغيرہ۔

روپہرا اور روپہلا:( रूपहरा और रूपहला )

چاندی کا. نقرئی. سیمیں. روپے کی طرف منسوب ہے۔یہ دونوں ہی ہندی الفاظ ہیں اور ہندی میں ان کا مذکر الف کے ساتھ روپہرا اور روپہلا آتا ہے جبکہ مونث روپہری اور روپہلی آتی ہے۔

https://educalingo.com/hi/dic-hi/sunahara

اشکال:

اردو میں رنگ کا معنی بتانے کے لیے بہت سے الفاظ ہیں جن کے آخر میں یاء نسبتی لگاتے ہیں۔اور یاء نسبتی مذکر و مونث نہیں ہوتی بلکہ دونوں کے لیے یکساں فارم میں آتی ہے۔لہذا مذکر و مونث دونوں میں الفاظ یاء کے ساتھ آتے ہیں۔جیسے اگر سے اگری،بسنت سے بسنتی،سرمہ سے سرمئی،جامن سے جامنی وغیرہ۔چونکہ اس میں یاء؛تانیث کے لیے نہیں ہے بلکہ نسيت کے لیے ہے۔

اس لیے کہیں گے اگری ٹوپی،اگری کپڑا۔بسنتی ٹوپی،بسنتی کپڑا۔سرمئی ٹوپی،سرمئی کپڑا۔جامَنی ٹوپی،جامَنی کپڑا۔

لفظ کپڑا مذکر ہے پھر بھی یاء کی جگہ پر الف بولنا صحیح نہیں ہوگا یعنی کہ اگرا کپڑا،بسنتا کپڑا،سرمیا کپڑا،جامنا کپڑا بولنا غلط ہے۔

چنانچہ اسی پر قیاس کرتے ہوئے سنہرا رنگ بھی بولنا غلط ہے۔

جیسا کہ نور اللغات میں ہے:

سنہرا: (ہندی) صفت مذکر وہ چیز جو سوئے کے رنگ کا ہو-زرین-سنہری: (ہندی) صفت مونت ہر وہ چیز جو سونے کے رنگ کی ہو،نام ایک رنگ کا جسکو طلائی بھی کہتے ہیں،

ناسخ کا شعر ہے:

وصف جب میں نے کئے تیرے سنہرے رنگ کے

خود بخود ہر صفحہ دیواں سنہری ہو گیا

جلال نے سرمایہ زبان اردو میں لکھا ہے: "یہاں لفظ سنہری کو یائے مجہول کے ساتھ یعنی امالہ کے ساتھ سنہرے پڑھنا خطا ہے۔اس واسطے کہ سنہری نام ایک رنگ کا ہے۔پس اس رنگ کی طرف خواہ شے مونث منسوب ہو خواہ شے مذکر بہر طور اس کو یاء معروف کے ساتھ (سنہری) پڑھیں گے

قیاس بر رنگ اگری،بسنتی،چمپئی،دھانی وغيرہ"

لہذا اردو والوں کے سامنے اشکال پیدا ہوا کہ جب سنہری یا روپہلی میں یاء نسبتی ہے تو اس میں الف لگا کر مذکر کیوں بنایا جاتا ہے۔

اس لیے اہل زبان نے الف لگا کر مذکر بنانے یعنی سنہرا اور روپہلا کے استعمال کا انکار کردیا اور یاء نسبتی کی وجہ سے صرف سنہری اور روپہلی کو جائز ٹھہرایا۔

اس کنفیوژن کو ناسخ کے اس شعر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے:

وصف جب میں نے کئے تیرے سنہرے رنگ کے

خود بخود ہر صفحہ دیواں سنہری ہوگیا

دوسرے مصرعے میں لفظ سنہری،صفحہ کی صفت ہے جو مذکر لفظ ہے۔

اور پہلے مصرعے میں سنہرے منقول ہے،جو سنہرا ہی کی اضافتی شکل ہے۔

حالانکہ سونا اور روپا ہندی الأصل ہیں۔ان دونوں ہی الفاظ کو سنسکرت لفظ سونا ( स्वर्णं ) اور روپا ( रूप्य) سے لیا گیا ہے۔اسی طرح وصف منسوب سنہرا اور روپہلا بھی ہندی الفاظ ہیں۔

واضح رہے کہ ہندی زبان میں سنہرا بلنگ (مذکر ) ہے۔اور سنہری استری لنگ ( مونث) ... نیز اس میں الف تذکیر کے لیے ہے اور یاء تانیث کے لیے ہے جیسے لڑکا اور لڑکی میں ہے۔

لہذا اگر اردو میں ہندی قواعد کا لحاظ کیا جائے گا تو سنہرا مذکر شمار ہوگا اور سنہری مونث...

لیکن اگر اسے اردو بنا لیا گیا ہے تو اس میں اردو کا قاعدہ جاری ہوگا اور اسے ہمیشہ سنہری استعمال کیا جائے گا۔

اسی لیے بعض حضرات سنہرا و سنہری دونوں استعمال کرتے ہیں اور بعض لوگ صرف سنہری کو جائز قرار دیتے ہیں۔

اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور لکھیں .. یا واٹساپ یا میل کریں:

9420735169

Abulmarjanbut@gmail.com

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

لفظ ((سنہری)) کی لغوی و صرفی تحقیق - دی فری لانسر | دی فری لانسر