گناہ انسان کے دل،
روزہ چھوڑ کر کھلے عام کھانا پینا اب نمازیں ترک کرنے کے مثل ہوتا جا رہا ہے۔جس طرح نماز کا تارک نماز چھوڑ کر مطمئن ہوتا ہے اور اس کو گناہ تک تصور نہیں کرتا بالکل یہی معاملہ روزہ خوروں کا بھی ہوتا جا رہا ہے۔
اس بے حیائی اور بے شرمی کے دور میں ایک مُربِّی اور سرپرست کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی اولاد اور زیرِ تربیت افراد کی بہترین تربیت کریں۔انھیں نماز کا پابند بنانے کے لیے فکر مند ہوں اور بچپن ہی سے روزے کی عادت ڈالیں۔تاکہ بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھیں تو صوم و صلوۃ کے پابند ہو جائیں۔
صحابیات کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تربیت کے لیے اس قدر فکر مند ہوا کرتی تھیں کہ انھیں بچپن سے ہی نفلی روزے رکھوایا کرتی تھیں۔حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے اطراف بسنے والوں کو یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تو ہم نے خود بھی روزے رکھے اور اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے بھی روزے رکھوائے اور جب بچے بھوک پیاس کی شدت سے بلکنے لگے تو ہم نے اُن کے ہاتھوں میں کھلونے تھما دیے تاکہ وہ کھیل کود میں مصروف ہو جائیں اور اپنا روزہ مکمل کرلیں۔(صحیح مسلم:١١٣٦)
تو ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی تلقین کریں،
اور جب بچے روزہ رکھنے کی وجہ سے نڈھال ہو جائیں۔تو ان کی دلجوئی اور ہمت افزائی کریں۔اس طرح اچھے کاموں میں انھیں استحکام حاصل ہوگا اور روزہ کی حالت میں پیش آنے والی تلخیوں میں لذت اور چاشنی محسوس کریں گے۔
ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کا گزر عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے پاس سے ہوا وہ کفار کی اذیتوں کا نشانہ بنے ہوئے تھے،
اسی طرح آپ کی زبان سے نکلے ہوئے ہمت افزا کلمات بھی آپ کے بچوں کو حوصلہ فراہم کریں گے۔
اور جب بچے روزہ مکمل کرلیں تو ان کی پیٹھ ٹھونکیں اور اس پر خوشی کا اظہار کریں جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی پیٹھ تھپتھپائی اور خوشی کا اظہار فرمایا تھا جب انھوں نے اپنا سب سے قیمتی باغ اللہ کی راہ میں دے دیا۔
اور روزہ خوروں کی اصلاح کی بھی فکر کریں،
اس کے ساتھ کھلے عام روزہ خوری کا گناہ کرنے والوں کے لیے عام مسلمانوں کا رویہ روکھا اور حوصلہ شکن ہونا چاہیے،
اللّٰہ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو رمضان کا مبارک مہینہ صحت و عافیت کے ساتھ نصیب فرمائے اور اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں بٹورنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین






