آگ گرمی دیتی ہے اور جلاکر راکھ بھی کردیتی ہے۔ہوا سفوکیشن سے بچاتی ہے اور توڑ مروڑ کر بھی رکھ دیتی ہے۔پانی زندگی دیتا ہے اور ڈبوکر مار بھی ڈالتا ہے۔ انسان بھی اللہ کی ان تینوں سہولتوں کا اپنی سمجھ اور ضرورت کے حساب سے غلط اور صحیح دونوں استعمال کرسکتا ہے۔آگ،
علم اللہ کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے،
علم میں اللہ نے یہی تاثیر رکھی ہے،
آگ،
صرف جادو بیانی ہو تو بندہ اشراف کی ٹوپیاں اڑاتا پھرتا ہے،
زیر نظر مضمون میں جو شخصیت زیر بحث ہے وہ حیرت سے زیادہ برکت کا عنوان ہے۔ایک دن میں سے آٹھ گھنٹے سونے،
چالیس سالہ ایک شخصیت کے متذکرہ پہلو کے بیان میں نشانیاں ہیں تمام اہل علم بالخصوص طالبان علوم نبوت کے لیے جو زندگی بھر علم کی تلاش میں یعنی جنت کے راستے پر چلنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتے ہیں۔اللہ رب العزت ہم سب کو ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے ہمیشہ کی طرح نادر موضوع کا انتخاب کیا ہے۔یہ انتخاب بھی علم و علماء پسندی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔نرگسیت زدہ معاشرے میں ایسے موضوعات کا انتخاب اور پھر اتنی کشادہ ظرفی کے ساتھ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ساری لسانی و قلمی آلودگیوں کے باوجود عالمی سماج میں کچھ لوگ ایسے ابھی بھی موجود ہیں جو ہوا کے رخ پر نہیں بہتے،
مدینہ یونیورسٹی کے ٹاپ کلاس پروفیسر صالح بن عبد العزیز سندھی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔سعودی عرب کی علمی دنیا کا یہ جانا پہچانا نام بن چکا ہے۔عقیدہ آپ کا تخصص ہے۔آپ کے علم میں گہرائی،
آج سے تقریبا ساڑھے چار سال پہلے سعودی عرب کے مشہور ریڈیو چینل ’إذاعۃ القرآن الکریم‘ پر بنام ’وعی‘ ایک پروگرام میں آپ نے سلسلہ وار شرکت کی تھی۔اس کی مختلف نشستوں میں آپ نے نہایت اہم موضوعات پر گفتگو کی تھی۔آپ نے لوگوں کے اصرار پر ان موضوعات پر نظر ثانی کی،
’مراقی الوعی‘ انتہائی اہم کتاب ہے۔تقریبا چھ سو (600)صفحات پر مشتمل یہ قیمتی کتاب معاصر عقدی مسائل،
جن احباب اور طلبہ کو ڈاکٹر صالح سندھی سے پڑھنے یا ان کے دروس ومحاضرات سننے کا موقع ملا ہوگا وہ ان کی اس خصوصیت کو اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ آپ دوران درس وتدریس قواعد وضوابط پر بہت دھیان دیتے ہیں۔زیر بحث مسئلہ کی تاصیل کرتے ہیں اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل دو اور دو چار کی طرح ذہن میں بیٹھا دیتے ہیں۔آپ کے دروس ومحاضرات یوٹیوب پر متوفر ہیں۔وہ طالبان علم نبوت جنھیں علم عقیدہ میں دلچسپی ہے اور حقیقی معنوں میں علم حاصل کرنے کا شوق ہے انھیں آپ کے دروس ومحاضرات سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔
گزشتہ دنوں میں نے یہ کتاب اپنے محترم دوست اور ساتھی ڈاکٹر اجمل منظور حفظہ اللہ کو بھی بھیجا۔اور ان سے گزارش کی کہ وہ اس کا اردو ترجمہ کردیں تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس قیمتی کتاب سے فیض یاب ہوسکے۔آپ نے کہا:اس وقت میرے پاس دو کتابیں انتظار میں ہیں۔ان سے فارغ ہوکر میں اسے دیکھتا ہوں۔
چند ماہ قبل میں نے اپنی ایک مختصر تحریر میں یہ ذکر کیا تھا کہ ڈاکٹر اجمل اب تک تقریبا اسی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں اور مجھے امید ہے کہ 2023م ختم ہوتے ہوتے ان شاء اللہ وہ ترجمہ کے میدان میں اپنی سنچری پوری کر لیں گے۔مجھے یہ جان کر بے انتہا خوشى ہوئی کہ 2023م ختم ہونے سے پہلے آپ سو (100)کا عدد پار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر اجمل درس نظامی میں مجھ سے سینئر ہیں۔جب ہم فارغ نہیں ہوئے تھے تب وہ بحث وتحقیق کے میدان میں پہلا قدم رکھ چکے تھے۔مگر مدینہ یونیورسٹی میں تاخیر سے داخلہ ملنے کے سبب وہاں دو سال جونیئر ہوگئے۔وہیں ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ایک ہی کالج میں ہونے کی وجہ سےہمیشہ ملاقات رہتی۔مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ایک دوسرے سے استفادہ کرتے۔کوئی کتاب پڑھتے تو اس پر تبصرہ کرکے فائدہ پہنچاتے۔آپ کے بارے میں ہم دوستوں میں مشہور تھا کہ اجمل بھائی یا تو سوتے ہوئے ملیں گے یا پڑھتے ہوئے۔سرہانے کوئی نہ کوئی کتاب رکھى ہوتی تھی جسے وقت پاتے ہی پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔
مدینہ منورہ میں آپ کی تعلیم وتعلم کا معیار بہت عمدہ تھا۔کلاس کے اچھے اور جینئس طلبہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔پہلی پوزیشن سے کامیاب ہوتے۔اعلى تعلیم کے لیے بھی آپ کا انتخاب ہوا مگر بدقسمتی سے بہت ہی نامعقول سبب کی بنا پر فائنل داخلہ نہیں مل سکا۔تاہم طبیعت کی جولانی اور تعلیم وتعلم کے تئیں سنجیدگی نے حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا اور بھارت واپس آکر آپ نے عربی زبان وادب میں ایم۔اے پھر پی۔ایچ ڈی بھی مکمل کرلی۔
جامعہ محمدیہ منصورہ میں تدریسی خدمات کے دوران دو سال (2017-2019) آپ کی رفاقت رہی۔تدریس کے علاوہ آپ ہمارے پڑوسی بھی تھے۔دونوں کا گھر بالکل متصل تھا۔اس لیے ہمیشہ ملاقات ہوتی رہتی۔مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا۔ایک دوسرے سے استفادہ کرتے۔ڈاکٹر اجمل کی تالیف وترجمہ کی زندگی میں اصل انقلاب یہیں سے آیا ہے۔2017م سے آپ نے مضامین ومقالات لکھنے کے ساتھ ساتھ ترجمہ کا جو نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔
یہیں پر میری نگرانی میں ’القرآن تدبر وعمل‘کے ترجمہ کا کام ہوا۔جن احباب نے اس ترجمہ میں کلیدی کردار ادا کیا ان میں آپ سر فہرست تھے۔تقریبا تیس فیصد ترجمہ آپ نے اکیلے کیا۔زمنی اعتبار سے کام تقسیم کردیا جاتا تھا۔اکثر آپ سب سے پہلے ترجمہ سے فارغ ہوجاتے۔جن ساتھیوں کا کوئی حصہ کسی وجہ سے باقی رہ جاتا وہ میں آپ کے حوالہ کردیتا۔بہت ہی مختصر مدت میں آپ اسے بھی مکمل کردیتے۔تقریبا پورے پروجیکٹ میں یہی حال رہا یہاں تک کہ ترجمہ کا کام 2019م میں میرے جامعہ چھوڑنے سے پہلے مکمل ہوگیا۔
ایک سے زائد بارمختلف تعلیمی وتدریسی کام آپ کے حوالے کیے گئے۔لکھنے پڑھنے یا ترجمہ وتالیف کا کوئی بھی کام ہو اس قدر سرعت کے ساتھ انجام دیتے میں نے احباب میں کسی کو نہیں دیکھا۔اگر تدریس کے لیے آج کوئی کتاب دی جاتی تو ان کی کوشش ہوتی کہ کل ہی اس کے مکمل نوٹس اور متعلقات طلبہ کے لیے تیار کردیں۔یہ چیز میں بارہا نوٹ کرتا۔اور لکھنے پڑھنے میں یہ غیر معہود برکت دیکھ کر دنگ رہ جاتا۔
در اصل ڈاکٹر اجمل صاحب کو اللہ تعالى نے بڑی صلاحیت دی ہے۔پڑھنا لکھنا تو ان کا مشغلہ ہے ہی۔ذہانت وفطانت اور فراست و معاملہ فہمی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔کام کرنے کا انداز ایسا ہے کہ برکت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
مزاج ایک دم سادہ اور طبیعت حدت سے بالکل پاک ہے۔گفتگو کا انداز بالکل عام اور آواز میں دھیما پن ہے۔انھیں نہ جاننے والا یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ وہی ڈاکٹر اجمل ہیں جو پوری متانت اور تسلسل کے ساتھ باطل افکار پر اس طرح رد کرتے ہیں۔شخصیت اجتماعی ہے۔احباب کی مجلس ہو تو بالکل کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔موقع درست اور محل صحیح ہو تو رائے زنی کرتے وقت کسی قسم کی لاگ لپیٹ نہیں رکھتے۔بالکل واضح اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ورنہ خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔
حساس مسائل میں کسی سے مشورہ لینا بہت رسکی ہوتا ہے،
در اصل اللہ تعالى نے انسان کی بلندی کے حدود تو متعین کر دیے ہیں،
آپ یقین کریں پوری زندگی میں اگر آپ کو دو چار بھی-اگر مبالغہ کا خوف نہیں ہوتا تو کہتا ایک بھی-ایسے امین،
ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالى نے عقل اور سداد رائے سے بھی نوازا ہے۔عقل ودین اور اخلاص ومحبت ناپنے کا ایک بے خطا پیمانہ مشورہ ہے۔کسی سے مشورہ لے کر آپ اس کے عقل کی پختگی اور آپ کے تئیں اس کے دل میں اخلاص ومحبت اور ہمدردی کا اندازہ بہت حد تک لگا سکتے ہیں۔
آپ بہت ہی عمدہ اور بروقت مشورہ دیتے ہیں۔ذاتی طور سے مجھےاس سلسلے میں آپ سے بہت فائدہ ہوا۔آپ نے بہت سارے مشوروں کے ساتھ مجھے دو نہایت اہم مشورے دیے۔ایک مشورہ مستقبل میں لائحہ عمل طے کرنے سے متعلق تھا۔اس پر عمل کیا۔چنانچہ اس سے بھرپور فائدہ پہنچا اور آج تک پہنچ رہا ہے۔دوسرا بعض قسم کے تعلقات میں حذر و تنبیہ پر مشتمل تھا۔اس پر میں نے توجہ نہیں دی۔چنانچہ آج تک اس کے نقصان کی بھرپائی کر رہا ہوں۔افراد وشخصیات کے بارے میں بھی آپ کی نظر بہت پینی ہے۔لوگوں کو پہچاننے کا ہنر ہے۔کسی کے بارے میں جو رائے قائم کرتے ہیں بہت کم ہی ہوتا ہے کہ غلط نکلے۔
اجتماعی زندگی میں ہمیں جو احباب میسر ہوتے ہیں ان کے تعلق سے عموما ہمارا رویہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک وہ احباب ہوتے ہیں جو وقت اور تجربے کے ساتھ دھیرے دھیرے ہماری زندگی سے نکل جاتے ہیں یا ہم انھیں نکال پھینکتے ہیں۔جبکہ کچھ احباب ایسے ہوتے ہیں جو وقت اور تجربے کے ساتھ ساتھ دل سے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ان کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے۔صداقت کھلتی جاتی ہے۔محبت کا رنگ چڑھتا جاتا ہے۔
غور کریں تو ہماری زندگی میں کثرت پہلی قسم کی ہے۔دوسری قسم بہت ہی کمیاب اور نادر ہے۔ارحام و اقارب کے بعد یہی احباب زیست کا وہ خلاصہ ہوتے ہیں جنھیں ہم صحیح معنوں میں دوست کہہ سکتے ہیں۔بقیہ کے لیے اردو میں دوسرے بہت سارے الفاظ اور دیگر تعبیرات مستعمل ہیں جنھیں ہم ایسے احباب کے مقام ومرتبہ اور ان کی حقیقی قیمت کے اعتبار سے استعمال کر سکتے ہیں۔بلا شبہ ڈاکٹر اجمل دوسری قسم میں سے ہیں۔ان سے کسی قسم کی مادی مصلحت کبھی وابستہ نہیں رہی۔مگر دین کی جو خدمت وہ انجام دے رہے ہیں اس کی وجہ سے دل میں ان کی ایک الگ ہی محبت اور نفس میں ان کا ایک منفرد مقام ہے۔تعلقات میں سب سے نفیس تعلق وہی ہے جس کی اساس اللہ کی رضا ہو۔محبت وہی قابل اعتنا ولائق بقا ہے جو اس ذات سے جڑی ہو جو اس لطیف جذبہ کا بھی خالق ہے۔یہی محبت سعادت کی جڑ اور یہی تعلق کامیابی کی بنیاد ہے۔ڈاکٹر اجمل نے علم کی خدمت،
ڈاکٹر صاحب اس وقت چالیس کی دہائی میں ہیں۔آپ نے جو علمی کام انجام دیے ہیں ان پر نظر دوڑائیں تووہ اپنے ہم عمروں میں بہت آگے نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر اجمل اب تک سو سے زائد کتابوں کا ترجمہ کرچکے ہیں۔موضوعات کے اعتبارسے یہ کتابیں تفسیر،
ڈاکٹر اجمل کی اردو صاف شفاف اور سادہ ہے۔ان کا اسلوب بالکل انھی کی طرح ملمع سازی سے پاک،
خالص علمی کتابوں کا ترجمہ اسی اسلوب میں ہونا چاہیے۔خاص طور سے عقیدہ اور منہج کی کتابوں کا ترجمہ ملمع سازی سے پاک اور بے جا ادبی رنگ سے دور رہنا چاہیے،
البتہ ادبی اور جنرل موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کے ترجمہ میں ادب کی چاشنی اچھی لگتی ہے،
جن احباب کا تعلق علم سے ہے۔پڑھنے لکھنے کا شوق ہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ یہ عمل کتنا شاق اور مشکل ہے۔خاص طور سے جب زندگی کی مشغولیات زیادہ ہوں۔دیگر ذمہ داریاں بھی بوجھل کیے رہتی ہوں۔لکھنے پڑھنے کا یہ عمل اضافی ہو۔ایسی صورت میں یہ عمل کس قدر دشوار اور محنت طلب ہوتا ہے یہ وہی جان سکتا ہے جو اسے انجام دیتا ہے۔
عموما تصنیف وتالیف کے عمل کو ترجمہ سے آسان سمجھا جاتا ہے۔یہ چیز بہت حد تک درست بھی ہے۔مگر اولا تو ایسا مطلق نہیں کہا جاسکتا؛
فن ترجمہ بعض اعتبار سے قدرے مشکل کام ہے۔یہ علم بھی ہے اور فن بھی۔یہ علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ،
کسی کتاب کا ترجمہ محض ترجمہ نہیں ہوتا۔ایک مترجم پہلے ترجمہ شدہ کتاب کے ایک ایک لفظ پر ٹھہرتا ہے۔ایک ایک ترکیب پر پوری دقت وبصیرت سے نگاہ ڈالتا ہے۔اس کے معانی ومفاہیم اور مقاصد پر غور کرتا ہے۔اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔پہلے خود اس کی عبارتوں کو ہضم کرتا ہے،
کسی بھی کتاب کا کما حقہ ترجمہ کرنے والا اس کتاب کا بہترین قاری ہوتا ہے۔دوران ترجمہ وہ کتاب کی فکر سےآگہی حاصل کرتا ہے۔اس سے متاثر ہوتا ہے۔اس دوران فکر کی دھیمی دھیمی آنچ سے اس کا شعور تپتا اور پکتا رہتا ہے۔اس کی فکر سیراب ہوتی رہتی ہے۔یہ عام مطالعہ سے بہت آگے کی چیز ہوتی ہے۔بسا اوقات ایک انسان مطالعہ کرتے وقت بہت ساری پیچیدہ عبارتوں سے صرف نظر کرجاتا ہے۔نہ سمجھ میں آئیں تو آگے بڑھ جاتا ہے۔مگر ترجمہ کرتے وقت وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔اسے ایک ایک لفظ پر ٹھہرنا پڑتا ہے۔کبھی کبھی ایک ایک عبارت کئی کئی دن انتظار کراتی ہے۔باذوق قاری کے صبر کو آزماتی ہے تب جاکر قارى پر اپنے درست مفہوم کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے۔اس وقت ایک باذوق قاری کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے۔جس سکون کا احساس ہوتا ہے الفاظ اسے بیان نہیں کرسکتے بس ایک ہم مثل قاری محسوس کر سکتا ہے۔ڈاکٹر اجمل نے بھی تفسیر وحدیث اور عقیدہ ومنہج کی ان اہم ترین کتابوں کا صرف ترجمہ ہی نہیں کیا ہے۔انھیں اچھی طرح سمجھا اور ہضم بھی کیا ہے۔غور کریں تو ان مبارک اور اہم ترین کتابوں کا مطالعہ وفہم مستقل ایک شرف ہے۔
با بصیرت اور چوکنا مترجم صرف ترجمہ شدہ کتاب کا باریک مطالعہ نہیں کرتا،
ایک قلم کار اپنی تحریر میں اپنی فکر کو قلم کی روشنائی کے ذریعہ انڈیلتا رہتا ہے اور قاری پڑھتے وقت اسے اپنے ذہن ودماغ میں شعوری ولا شعوری طور پر اتارتا رہتا ہے۔قاری باذوق ہو اور کتاب عمدہ ہو تو وہ نشہ کی طرح ذہن پر چھا جاتی ہے۔بعض کتابوں کا خمار کئی کئی دنوں تک قاری کو سرمست کیے رہتا ہے۔جب کہ بعض کتابیں عمر بھر کے لیے اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔اس لیے بھی سلف صالحین ان کتابوں کو پڑھنے سے منع کرتے تھے جو افکار ونظریات کے بگاڑ اورفساد کا سبب بنیں۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور اہل علم اس سنگینی سے ہمیشہ طلبہ کو خبردار کرتے رہتے ہیں۔
فن ترجمہ مشکل بھی ہے اور صبر آزما بھی۔جو احباب اس میدان سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس فن کی صعوبت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔صلاحیت کے ساتھ ساتھ مزاج میں روانی،
ایسے میں سو (100)سے زائد کتابوں کا ترجمہ کس بات پر دلیل ہے؟ عام حالات میں اس پر یقین کرنا مشکل ہوجائے گا۔وہ بھی کون سی کتابیں؟ عقیدہ ومنہج کی وہ کتابیں جو قدیم سے جدید تک پھیلی ہوئی ہیں۔ان میں متقدمین کی بھی کتابیں ہیں اور متاخرین ومعاصرین کی بھی۔اصول علم کی ایسی ایسی ٹھوس کتابیں ہیں جن کو سمجھنے کے لیے زبان کے ساتھ ساتھ علم وفہم کی وافر مقدار میں ضرورت پڑتی ہے۔
حجم کے اعتبار سے بھی یہ کتابیں کچھ کم نہیں ہیں۔چنانچہ آپ کی ترجمہ شدہ عربی کتابوں کا حجم پچاس (50)سے لے کر ہزار صفحات سے متجاوز ہے۔ایسی بھی کتابیں ہیں جن کا ترجمہ آپ نے دو یا دو سے زائد جلدوں میں کیا ہے،
’القرآن تدبر وعمل‘ کا اردو ترجمہ جو تین جلدوں (تقریبا 1500 صفحات)میں مطبوع ہے اس کا آپ نے تقریبا تیس فیصد حصہ اکیلے ترجمہ کیا ہے۔
ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کا مشہور حدیثی موسوعہ ’الجامع الکامل‘جو عربی میں بارہ جلدوں میں ہے اس کا تقریبا پچیس فیصد ترجمہ آپ نے تنہا کیا ہے۔
آپ کی ترجمہ شدہ کتابوں میں شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی ’محاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ‘ کا ترجمہ تین جلدوں میں،
ڈاکٹر اجمل کی ترجمہ شدہ کتابیں صرف عدد کے اعتبار سے بھاری نہیں ہیں۔اگرچہ اس عدد میں کتابوں کا ترجمہ بذات خود ایک حیرت انگیز عمل ہے۔تاہم ان کی اصل قیمت معنوی اعتبار سے ہے۔اور یہی ان کا اصل کمال ہے کہ ترجمہ کے لیے انھوں نے عقیدہ ومنہج کی ان کتابوں کو اختیار کیا ہے جن کی برصغیر کے اردو طبقہ کو اشد ضرورت ہے۔ایسے وقت میں جب باطل افکار ونظریات پڑھے لکھے اردو داں طبقہ کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں ان کتابوں کی افادیت واہمیت انتہائی درجہ بڑھ جاتی ہے۔
علم وعمل کے میدان میں اگرچہ سرخروئی کے مختلف مجالات اور متعدد پہلو ہیں۔مگر جو مقام ومرتبہ عقیدہ ومنہج کی اصلاح اور اس کے لیے کی جانے والی جدو جہد سے جڑی ہے اس کی بات اس لیے بھی بالکل الگ ہے کہ یہ براہ راست انبیاء کی بعثت کے مقصد اساسی سے متعلق ہے۔اور یہی ڈاکٹر اجمل کے اس عمل کی اہمیت وافادیت کا سب سے کلیدی پہلو ہے۔وہ پہلو جس کا تعلق براہ راست توحید اور یوم آخرت کے دن نجات سے ہے:(یوم لا ینفع مال ولا بنون إلا من أتى اللہ بقلب سلیم)
تفسیر وحدیث اور عقیدہ ومنہج کی یہ کتابیں ان شاء اللہ بروز قیامت ڈاکٹر صاحب کے میزان حسنات میں نمایاں ترین ہوں گى اور ان کے لیے اللہ تعالى کی رحمت ومغفرت کا باعث اور نجات کا ذریعہ ہوں گی۔یہی اصل کامیابی اور ایک مسلمان کی ساری جدوجہد اور تگ ودو کا خلاصہ ہے۔
برصغیر میں علم سے وابستہ مترجمین کی فہرست بنائی جائے تو ایسے کتنے افراد ہوں گے جنھوں نے سو سے زائد کتابوں کا ترجمہ کیا ہوگا؟ جماعت کی تاریخ میں اس قدر اصولی کتابوں کا ترجمہ کرنے والے کتنے لوگ ہوں گے؟ ہمیں ان کی صحیح تعداد کا علم بالکل نہیں ہے۔مگر یقین ہے کہ ان شاء اللہ تعالى ڈاکٹر اجمل دونوں قسموں کی فہرست میں ایک معروف مقام کے حقدار ٹھہریں گے۔
ڈاکٹر صاحب ترجمہ کا یہ کام کسی رسمی ادارہ کے تابع ہوکر نہیں کرتے بلکہ یہ گراں قدر اعمال محض آپ کی ذاتی رغبت اور دلچسپی کا نتیجہ ہیں۔ان کے پیچھے اصل محرک ذاتی دلچسپی اور احباب کے مشورے ہیں۔یہی چیز کتابوں کے اختیار میں بھی کلیدی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی ترجمہ شدہ کتابوں کی فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے جہاں ڈاکٹر صاحب کے علمی ذوق اور فنی دلچسپی کا پتہ چلتا ہے وہیں خوشی بھی ہوتی ہے اور رشک بھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ان عمدہ اور اہم ترین کتابوں کو پڑھا،
الحمد للہ ترجمہ کا یہ مبارک سلسلہ جاری و ساری ہے۔ترجمہ کے اس عمل میں ڈاکٹر صاحب کہاں جاکر رکیں گے یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ہم تو بس اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عمر،
توفیق الہی بہت ہی نادر اور کمیاب شیء ہے۔بہت کم بندوں کے حصہ میں یہ چیز آتی ہے۔مگر جب آتی ہے تو ہر سو اپنے اثرات دکھاتی ہے۔جب اللہ تعالى کسی محبوب بندہ کو توفیق سے نوازتا ہے تو اس کی زندگی لہلہا اٹھتی ہے۔اگر بندہ علم دوست ہے تو اس کی زندگی سراپا خیر وبرکت بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر اجمل نے محض تراجم پر اکتفا نہیں کیا ہے۔مختلف موضوعات پر چھوٹی بڑی دس سے زائد کتابیں بھی لکھی ہیں۔جن میں شیخ ثناء اللہ امرتسری: حیات وخدمات،
علاوہ ازیں بیس(20)سے زائد وقیع مقالات لکھے ہیں۔سلفیت حقیقت کے آئینے میں،
رہے دیگر علمی وثقافتی مضامین تو ان کی تعداد دو سو (200)کے قریب ہے۔ان میں کچھ ایسے بھی مضامین ہیں جو اپنے حجم واسلوب میں مقالات کی طرح ہیں جو کئی کئی قسطوں پر مشتمل ہیں۔باقی عام مضامین ہیں جو مختلف موضوعات پر تسلسل کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ان مضامین کی اکثریت کا تعلق عقیدہ ومنہج،
ڈاکٹر صاحب کے مضامین ومقالات تحقیقی مزاج رکھتے ہیں۔اسلوب نہایت سہل اور عام فہم ہوتا ہے۔آپ کی تحریریں پڑھنے والا آپ کی اس خوبی کو اچھی طرح جانتا ہے۔
علاوہ ازیں آپ کی چھوٹی چھوٹی بے شمار تحریریں ہیں جو وقتا فوقتا آپ حسب ضرورت برجستہ لکھتے اور نشرکرتے رہتے ہیں۔یہ ان مضامین اور مقالات کے علاوہ ہیں۔
آپ نے آج تک جو ترجمے کیے ہیں ان کے عربی صفحات کی تعداد تقریبا سولہ ہزار پانچ سو (16500) بنتی ہے۔جن میں تفسیر قرآن سے متعلق تقریبا پانچ سو (500)،
جبکہ مؤلفات کے صفحات کی تعداد تقریبا ساڑھے تین ہزار (3500)،
سوشل میڈیا پر آپ کی وہ چھوٹی چھوٹی تحریریں جو عموما رد عمل یا الزامی جوابات کا نتیجہ ہیں؛
آپ غور کریں:تراجم 25000،
اہل قلم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک جلد کتاب کی تیاری کس قدر مشقت اور جہد مسلسل چاہتی ہے۔کس قدر تنظیم وترتیب اور دیگر مشغولیات سے زہد کا تقاضا کرتی ہے۔تب جاکر کہیں ایک جلد کی کتاب منظر عام پر آتی ہے۔
ڈاکٹر اجمل منظور نے تصنیف وتالیف اور ترجمہ کے علاوہ بھی ایک اور زبردست کام کیا ہے۔اور وہ ہے مختلف موضوعات پر اپنے لیکچرریکارڈ کرانا۔چنانچہ آئی پلس ٹی وی پر آپ نے سیرۃ النبی صلى اللہ علیہ وسلم پر (100)،
علاوہ ازیں مختلف موضوعات پر آپ کے خطابات اور لیکچر کا ایک سلسلہ ہے جو آپ کے یوٹیوب چینل (Ajmal Manzoor) پر دستیاب ہے۔
ان خطابات اور لیکچرکے علاوہ مزید آپ کے خطب ومواعظ اور مختلف دروس ہیں جو ایک مدت سے آپ دیتے آ رہے ہیں۔ان میں سے کچھ آپ کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں جبکہ کچھ ریکارڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متوفر ہیں۔
ڈاکٹر اجمل منظور اصلا ایک استاذ ہیں۔وہ باقاعدہ تدریس کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔چنانچہ یہ سارے علمی اور دعوتی کام انھوں نے تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے کیے ہیں۔تدریس کا فریضہ وہ بھی ہندوستانی مدارس میں،
ڈاکٹر اجمل کی زندگی میں جس اہم ترین نکتہ کی تلاش تھی وہ تھی اس حسن توفیق اور اس قدر برکت کے اسباب کی معرفت۔اس پر میں نے کافی غور کیا کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایک پروفیشنل اور مشغول تدریسی زندگی گزارنے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی علمی ودعوتی زندگی لہلہا اور چہچہا رہی ہے۔وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنا پر ترجمہ وتالیف سے لے کر تعلیم ودعوت کے میدان تک وہ اس طرح معرکہ پر معرکہ سر کر رہے؟ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ایک طالب علم کے لیے آپ کی سیرت میں ان اسباب کا جاننا سب سے اہم ہے۔
ایک مومن کا دل صاف،
صفاء نفس کی یہ صفت اور بیاض قلب کا یہ عمل جس قدر ضروری ہے اسی قدر مشکل بھی ہے۔دل کو مکمل صاف رکھنا،
چونکہ یہ نہایت مشکل ترین امر ہے اس لیے اس کا اجر وثواب بھی بہت زیادہ ہے۔بسا اوقات ایک انسان کے پاس بظاہر بہت زیادہ نیک اعمال نہ بھی ہوں تو وہ محض اپنے سینے کی پاکی اور دل کی صفائی کی وجہ سے اللہ کا پسندیدہ بندہ اور اس کی رحمت و جنت کا حقدار بن جاتا ہے۔
میں نے بہت غور کیا کہ آخر ڈاکٹر صاحب کو ملی اس قدر حسن توفیق کے اسباب کیا ہیں؟ مجھے لگا-واللہ اعلم-کہ مبارک اور مفید عمل کے اختیار،
چنانچہ ڈاکٹر صاحب بہت ہی صاف دل،
ڈاکٹر اجمل کی زندگی کا ایک گمنام پہلو دار الدعوۃ فریوائی اکیڈمی میں تقریبا ایک سال ترجمہ وتحقیق کا کام اور پھر دو سال قصیم سعودی عرب میں شعبہ جالیات سے وابستگی ہے۔یہ مرحلہ جامعہ اسلامیہ سنابل سے فراغت کے بعد مدینہ یونیورسٹی آنے سے قبل کا ہے۔چنانچہ فراغت کے معا بعد پہلے آپ کو دار الدعوہ میں ترجمہ وتحقیق کا کام سیکھنے کا موقع ملا پھر آپ القصیم آکر شعبہ جالیات سے جڑ گئے اور مدینہ جانے سے قبل تقریبا دو سال آپ دعوت وتبلیغ نیز تالیف وترجمہ کا کام انجام دیتے رہے۔قصیم کے جس جالیات میں آپ رہتے تھے وہاں ایک شاندار لائبریری تھی جس سے آپ نے خوب فائدہ اٹھایا۔مطالعہ کا شوق تھا ہی یہ لائبریری ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور خصوصی طور سے آپ نے ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہما اللہ کی متوفر کتابوں کو پڑھا۔تاریخ سے خصوصی دلچسپی کی بنا پر یہیں آپ نے ابن کثیر رحمہ اللہ معروف کتاب البدایۃ والنہایۃ کی مکمل 14 جلدیں بھی پڑھیں۔
بعد میں ڈاکٹر اجمل منظور کے اندر مطالعہ کا یہ شوق ہم نے مدینہ منورہ میں بھی دیکھا۔کئی جلدوں پر مشتمل کتابوں سے وہ کبھی نہیں اکتاتے تھے بلکہ پوری دلچسپی سے انھیں ختم کرتے تھے۔کتاب الحیوان معروف عباسی ادیب جاحظ کا ایک ادبی اورعلمی شاہکار ہے۔یہ کتاب صحیح معنوں میں حیوانات پر ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔اس کتاب کا طویل مقدمہ ان مقدمات میں سے ہے جنھیں بطور مقدمہ اپنی علمی خصوصیات کی بنا پر خصوصی شہرت حاصل ہے۔ایک طالب علم کو یہ مقدمہ ضرور پڑھنا چاہیے۔یہ کتاب بھی کئی جلدوں میں ہے۔مدینہ منورہ میں جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے گاہے بگاہے اس کی دلچسپ باتیں ہم ساتھیوں سے شیئر کرتے اور اور ہم ان سے محظوظ ہوتے۔
جس وقت آپ پی ایچ ڈی کی اپنی بحث (النواحی الثقافیۃ للعرب قبل الإسلام فی الشعر الجاہلی) لکھ رہے تھے،
کتابوں کو مکمل پڑھنا نہ صرف ایک باذوق،
تاہم ڈاکٹر اجمل کا مسئلہ ایسا نہیں ہے۔کتاب اہم لگے یا پسند آجائے تو وہ صرف کتاب کی طرف دیکھتے ہیں۔مجلدات کی کثرت ان کے ذوق مطالعہ کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب (منہاج السنۃ النبویۃ 9 جلدیں)،
مدینہ منورہ سےفراغت کے بعد جب میں جامعہ محمدیہ منصورہ آیا تو ڈاکٹر صاحب میرے مشوروں اور کوششوں سے وہاں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔امریکہ کی اوبامی سیاست اور رافضی ہمنوائی عروج پر تھی۔یمن کی جنگ اور مشرق وسطى میں رافضی جارحیت کی وجہ سے پورا علاقہ سسک بلک اورسلگ رہا تھا۔عالم اسلام کے لیے ان موضوعات کی اہمیت کی بنا پر میں نے ان پر مسلسل مضامین لکھے تھے جن کا کچھ حصہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا تھا۔ڈاکٹر اجمل نے انھیں کافی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔تاریخ سے خصوصی دلچسپی اور عالم اسلام کے احوال سے وافقیت کی بنا پر ان موضوعات سے انھیں بھی خصوصی دلچسپی تھی۔کچھ اسباب کی بنا پر میں ان موضوعات پر لکھنے سے وقتی طور پر رک گیا تھا۔میں نے ڈاکٹر اجمل کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ بخوشی نہ صرف اس پر راضی ہوئے بلکہ فورا عملی طور سے میدان میں آگئے۔پھر انھوں نے سوشل میڈیا کو اپنا خصوصی ٹھکانہ بنایا۔اور اس تندہی کے ساتھ ان موضوعات پر لکھا اور آج تک لکھ رہے ہیں کہ رافضیت کے جھوٹے قلعے اور اخوانیت کے ہوائی محل زمیں بوس ہوگئے۔اخوانیوں اور تحریکیوں کے ساتھ ساتھ اخونچیوں میں بھی بے چینی پھیل گئی اور ایک عالم ان کا دشمن ہوگیا۔کوئی براہ راست تنقید کرنے لگا تو کوئی گالی گلوج پر اتر آیا۔کسی نے تحقیر کی راہ اپنائی تو کوئی استہزا پر اتر آیا۔کسی کو جب کوئی راستہ نہ ملا تو اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے اس نے نام نہاد نصیحت کا راستہ چن لیا۔غرضیکہ ایک ہنگامہ جو برپا ہوا آج تک برپا ہے۔
مشرق وسطى کے جلتے مسائل پر جب بھی بات چلتی ہے تو گھوم پھر کر بات ایران ترکی قطر اور سعودی عرب کے ارد گرد گھومنے لگتی ہے۔عموما لکھنے والوں کا حلقہ دو گروہ میں تقسیم ہوجاتا ہے ایک جو سعودی عرب کا دفاع کرتا ہے دوسرا جو ایران ترکی اور قطر کے ساتھ ہوتا ہے۔تیسرا بھی ایک فریق ہے جو کبھی اس کی کبھی اس کی تائید کرتا ہے۔اسے محاید اور غیر جانبدار ہونے کا دعوى ہے۔تاہم اس کا بین السطور اسے پوری طرح جھٹلاتا اور اس کے دعوى کی نفی کرتا ہے۔شاذ ہی ایسا کوئی شخص ملے گا جسے آپ کہہ سکیں کہ یہ بالکل مجرد اور موضوعیت کا خوگر ہے۔اس کی ایک اہم وجہ ہے اور وہ وجہ ہی کلیدی اور مفصلی ہے۔
مشرق وسطى پر لکھنے والے اور ان ممالک پر گفتگو یا شور شرابا کرنے والے عموما کسی خاص فکر کے تابع ہوتے ہیں۔ان کے شعور یا لا شعور میں کہیں نہ کہیں یہ سب کچھ ان کے عقیدہ،
ڈاکٹر صاحب نے شروعات تو رد ومناقشہ سے کی تھی مگر وہ اس پر رکے نہیں۔اس رد وقدح نے انھیں جو عقیدہ ومنہج سے پوری مضبوطی سے عملی میدان میں جوڑا تو پھر وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ان کے اس عمل کی برکت تھی کہ اللہ تعالى نے انھیں اپنی خصوصی توفیق سے نوازا۔چنانچہ اس رد وقدح کا جو لازمی نتیجہ تھا وہ وہاں تک پہنچے۔عقیدہ اور منہج سے متعلق علمی اسفار سے مزید گہرائی سے جڑے اور ان کی بے نظیر خدمت کی۔
درس وتدریس،
1- بلاگ (Blog):
https://ajmalmanzoor.blogspot.com/?m=1
2- یوٹیوب چینل (YouTube Chanel):
https://youtube.com/@ajmalmanzoor7192
3- فیس بک (facebook):
https://www.facebook.com/abdullah.faris.332?=ZbWKwL
https://www.facebook.com/treacherousalliance?
https://www.facebook.com/profile.php?id=61551228992025&mibextid=9R9pXO
4- ٹیلی گرام (Telegram):
https://t.me/ajmalmanzoor
5- ٹویٹر(Twitter(X)):
https://x.com/ajmal_manzoor
ڈاکٹر صاحب نے جو علمی کارنامے انجام دیے ہیں ان میں کئی خوبیاں ہیں۔نتائج کے اعتبار سے بھی ان کے کئی مثبت پہلو نکل کر سامنے آتے ہیں۔تاہم ان کا اصل امتیاز دو چیزوں میں کھل کر سامنے آتا ہے:
پہلا عقیدہ ومنہج کی وہ بے نظیر خدمت جو آپ نے اپنی تحریروں اور تراجم کے ذریعہ انجام دیے۔چاہے آپ کی تحریریں ہوں یا تراجم ان کا بیشتر حصہ صحیح اسلامی عقیدہ کی نشر واشاعت اور منہج سلف کے دفاع میں ہوتا ہے۔یہ شرف بھی ہے اور فضیلت بھی اور حسن توفیق کی ایک بڑی علامت بھی کہ انسان فقہ اکبر کی خدمت کرے اور شرعی علوم کے سب سے اہم فن پر اپنی جدو جہد صرف کرے۔بلا شبہ یہ امتیاز آپ کو اہل علم کی پہلی صف میں کھڑا کردیتا ہے۔
دوسرا آپ کا وہ کارنامہ ہے جو آپ نے سوشل میڈیا پر انجام دیا ہے۔ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا کے ایک حصہ پر رافضیوں،
تاہم ڈاکٹر صاحب کے لیے لکھنا اس قدر آسان نہیں تھا۔پرنٹ میڈیا والے تو پہلے ہی ہاتھ اٹھا چکا تھے۔جب غیروں کے ساتھ اپنے بھی معذرت کرنے لگے تب آپ نے صرف سوشل میڈیا کو اپنا مستقل مرکز اور اہم ٹھکانہ بنایا اور اپنے علم کی نشر واشاعت کے لیے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اٹھا رہے ہیں۔
مگر یہاں بھی معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا۔جن موضوعات پر آپ نے لکھنا شروع کیا تھا بر صغیر کا تحریکی طبقہ اس پر بری طرح بوکھلا اٹھا تھا۔ایک بھونچال سا آیا اور پھر آپ کو روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جانے لگے۔اکاؤنٹس بلاک کرانے سے لے کر مارنے تک کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔گالی گلوج،
تنقید بہت مثبت چیز ہے۔یہ ہر معاشرہ کی ضرورت اور ہر تعمیری عمل کی حاجت ہے۔مگر تنقید جب تنقید کے بجائے استہزا وتحقیر کا روپ اختیار کرلےتو پھر وہ اتنا ہی شنیع عمل بن جاتی ہے۔
’لا یعرف الفضل من الناس إلا ذووہ‘ایک صاحب علم کی قدر وقیمت ایک عالم سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے؟ لیکن یہی علم سے منتسب شخص اگر کسی تعصب کا شکار ہوجائے۔معاصرانہ رقابت،
’العلم رحم بين العلماء‘علم اہل علم کو رشتہ داروں کی طرح جوڑ دیتا ہے۔وہ ایک دوسرےسےمحبت،
مگر ڈاکٹر اجمل کے اپنے ہی مخالفین بڑے کم ظرف واقع ہوئے۔انھوں نے غیروں سے شکوہ کا موقع ہی نہیں دیا۔غیر تو ان کے دشمن تھے ہی۔کیا رافضی کیا رافضیت زدہ،
طرفہ تماشہ یہ ہے کہ بعض افراد اس میدان میں اس قدر فراخ دل واقع ہوئےہیں کہ بعض علمی خدمات کی بنا پریہود و نصاریٰ،
درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو بوجوہ و اسباب ڈاکٹر صاحب کو پسند نہیں کرتے۔ان کے دلوں میں ان کے تئیں بغض،
بہر حال جب چاروں طرف سے حملہ ہو۔غیروں کے ساتھ ساتھ اپنے بھی دشنام طرازی پر آمادہ ہوں۔استہزا وتحقیر اور شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہوں۔ایسے ماحول میں لکھنا اور پھر لکھتے رہنا آسان نہیں ہوتا۔انسان کمزور ہو تو ٹوٹ جاتا ہے۔ہمت پست ہونے لگتی ہے۔قلم دھیرے دھیرے ٹھہرنے لگتا ہے۔مگر ڈاکٹر اجمل کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔یہاں بھی توفیق الہی ان کے ساتھ رہی اور ان کا علمی ودعوتی سفر پورے آب وتاب کے ساتھ جاری رہا۔بد دل ضرور ہوئے۔مزاج بھی مکدر ہوا۔تکلیف بھی محسوس کی کہ یہ طبعی چیز ہے۔مگر حوصلہ نہیں ہارے۔مزید آگے بڑھتے گئے اور اپنے مشن میں پوری لگن سے لگے رہے:
سفر میں مشکلیں آئیں تو جرأت اور بڑھتی ہے
کوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہے
ویسے بھی شخصیت آفاقی ہوجائے تو نقد کرنے والا خود متہم ہوجاتا ہے۔پانی دو قلہ ہو جائے تو نجاست بھی آسانی سے اثر نہیں کرتی۔آسمان کی طرف پتھر اچھالا جائے تو جتنی تیزی سے اوپر جاتا ہے اس سے زیادہ تیزی سے پلٹ کر زمین پر ہی دھپ سے گر جاتا ہے۔چاند پر تھوکنے کی کوشش کی جائے تو الٹا منہ پر آکر گرتا ہے۔سورج کی طرف منہ بنا کر دیکھنے والے کا منہ اور بن جاتا ہے۔جس قدر رخ اس کى طرف ہوتا ہے پیشانی پر مزید بل پڑ جاتا ہے۔سمندر میں کچھ بھی ڈال دیا جائے کچھ دیر کی گڑگڑاہٹ کے بعد اس کی تہہ میں جاکر غائب ہوجاتا ہے اور پانی پہلے کی طرح ایسےپرسکون ہو جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں:
وإنّا وما تُلقی لنا إن ہجوتَنا
لکالبحر ِمہما یُلقى فی البحر ِیَغرَقِ
چنانچہ آپ نے جو چراغ روشن کیا تھا اسے نہ صرف جلائے رکھا بلکہ اس کو ایک مکمل پاور ہاؤس میں تبدیل کردیا جس سے سوشل میڈیا کا چہار سو روشن روشن ہے۔لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا اب تو الحمد للہ اہل علم کی ایک پوری جماعت ہے جو سوشل میڈیاپرنہ صرف کتاب وسنت کی نشر واشاعت اور منہج سلف کے دفاع میں مصروف ہے بلکہ باطل عقائد ونظریات کی بیخ کنی میں بھی فرنٹ فٹ پر ہے۔
ہر سلیم فطرت انسان یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے محبت کریں۔اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں۔بغض وعداوت اور نفرت وناپسندیدگی اس کے حصہ میں نہ آئے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ ہر محبت وپسندیدگی لائق اعتنا اور قابل توجہ ہوتی ہے اور نہ ہی ہر نفرت وعداوت بے اعتنائی کے لائق اور بے توجہی کی مستحق ہوتی ہے۔
جس طرح محبت مطلوب ومقصود ہوتی ہے اسی طرح بعض نفرتیں بھی منشود ہوتی ہیں کہ زندگی میں حقیقی حلاوت وسعادت کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔بسا اوقات تو یہ ایک انسان کے جادہ حق پر ہونے کی علامت اور پہچان بن جاتی ہے۔آج جو بغض و عداوت یا نفرت و ناپسندیدگی ڈاکٹر صاحب کے حصہ میں آئی ہے وہ اسی قبیل سے ہے۔اہل باطل کی ناپسندیدگی اور گمراہ کن افکار ونظریات کے حاملین کے دلوں میں پنپنے والی نفرت؛
علم اپنے حصول سے لے کر نشر واشاعت تک مشقت سے پر اور آزمائش سے لبریزعمل ہے۔اس راہ کے مسافر کی اگر صبر سے آشنائی نہ ہو تو منزل تو دور اس راستہ پر ہی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔جب ایک بندہ علم کو اپنا سب کچھ دے دیتا ہے تب وہ اسے اپنا کچھ دیتا ہے۔یہ بہت ہی خود دار،
تاہم جو صعوبت اس کے حصول میں ہے اس سے کہیں زیادہ مشقت اس کی نشر واشاعت میں ہے۔علم سے حقیقی تعلق رکھنے والا ایک ادنی طالب علم بھی اس چیز کو جانتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ شرف علم اللہ تعالى کی خصوصی عنایت و توفیق کا محتاج ہوتا ہے۔یہ وہ ربانی شرف وفضیلت ہے جو اس کے خال خال بندوں کے حصہ میں آتی ہے۔اور نشر کا درجہ اس کے بعد کا ہے جو مزید عزیمت اور صبر کا تقاضا کرتا ہے: (وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ)
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ علم کی دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔اس کا سمندر اپنے اندر بے پناہ اسرار لیے ہوئے ہے۔اسی طرح علمی دنیا سے حقیقی تعلق رکھنے والے اور اس بحر ذخار کے اصلی شناوروں کی دنیا بھی حیرت انگیز کارناموں سے بھری پڑی ہے۔
جب توفیق الہی ہم رکاب ہو جائے۔اللہ تعالى کی خصوصی عنایت کسی طالب علم پر نازل ہوجائے تو اس میں اس قدر برکت ہوتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔یہی مشقت سے پر،
سلف صالحین کی سیرتوں کو پڑھیں پھر ان کے اعمال کا اندازہ لگائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔علم وعمل کے بعض یکتائے روزگار ایسے بھی گزرے ہیں جن کی تالیفات ان کی پوری زندگی پر تقسیم کر دی جائے تب بھی ہر دن کچھ نہ کچھ صفحات بنتے ہیں۔جیسے پیدائش سے لے کر وفات تک ہر دن انھوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ہو۔ان کی عام زندگی جو پیہم جدوجہد سے عبارت تھی اس سے صرف نظر کر جائیں۔تعلیم وتعلم سے جڑے باقی اعمال بھی آپ چھوڑ دیں۔صرف جو کچھ انھوں نے لکھا ہے اس کا یہ حال ہے۔
امام طبری رحمہ اللہ (ت:310ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ چالیس سال تک ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر دن چالیس (40)ورقہ (80 صفحہ) لکھتے تھے۔ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ (ت:513ھ )نے کتاب الفنون چار سو مجلد ( ایک مجلد دو سو (200)ورقہ پر مشتمل ہوتا ہے)میں لکھی۔امام ذہبی رحمہ اللہ (ت:748ھ) فرماتے ہیں:دنیا میں کسی نے اتنی بڑی کتاب نہیں لکھی۔بعض لوگوں نے لکھا کہ یہ کتاب چار سو نہیں بلکہ آٹھ سو مجلدات پر مشتمل تھی۔ابن الجوزی رحمہ اللہ (ت:597ھ) کی تالیفات کو ان کی زندگی پر تقسیم کردیا جائے تو ہر چوبیس گھنٹے میں نو (9) کاپیاں (ایک کاپی دس ورقہ سے زیادہ ہوتی ہے)بنتی ہیں۔ابن تیمیہ رحمہ اللہ(ت:728ھ) ایک زمانہ تک روزانہ چار (4) کاپیوں سے زیادہ لکھتے تھے۔امام سیوطی رحمہ اللہ (ت:911ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے چھوٹی بڑی تقریبا چھ سو (600)کتابیں لکھیں۔آج جب ہم ان چیزوں کو پڑھتے ہیں تو یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور سوچتے ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہو پاتا رہا ہوگا؟ یہ سب در اصل اللہ کے فضل وکرم اور اس کی توفیق سے ممکن ہو پاتا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نے اپنے ان مبارک اعمال کا تقریبا نوے فیصد حصہ 2017م سے اب تک یعنی محض سات (7)سالوں میں انجام دیا ہے۔اس علمی کساد بازاری کے دور میں جہاں خود ہی لکھنا،
کسی بھی میدان کو سر کرنے کے لیے محض اس میدان میں صلاحیت کا ہونا کافی نہیں ہے۔علم کا میدان بھی ایسے ہی ہے۔مجرد علمی صلاحیت کسی علمی کارنامہ کو انجام دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی ہے۔کتنے ہی اپنے اپنے میدانوں میں ماہر اور باصلاحیت افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے پاس بیٹھو تو ان کے علم وصلاحیت پر رشک آتا ہے مگر وہ اپنے میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں انجام دے پاتے۔صلاحیت کے ساتھ ساتھ اور بھی کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کا پایا جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔انھی میں ایک اہم چیز ہے ہدف کی تعیین اور حد پرواز کی تحدید۔پھراس ہدف پر دائمی نگاہ۔اس حد تک پہنچنے کی تڑپ اور للک۔اس کے حصول کے لیے درکار امور کی پابندی۔ہدف اگرمجہول ہو،
اللہ تعالى نے جنھیں صلاحیت دی ہے۔علم کی نعمت عطا کی ہے۔قلم کی عظیم قوت سے نوازا ہے ان کے لیے ڈاکٹر صاحب کے ان مبارک اعمال میں ایک مزید نہایت اہم اور خصوصی پیغام پنہاں ہےکہ وقت کبھی نہیں نکلتا۔انسان مخلص اور پر عزم ہو تو ماضی کی تقصیر شاندار مستقبل کی تعمیر میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔توفیق الہی ہم رکاب ہو تو گزشتہ آئندہ کے راہ کا روڑہ نہیں بن سکتا۔انسان جب جاگ جائے تبھی اس کا سویرا ہوجاتا ہے۔بس ہدف محدد کرلے۔حد پرواز طے کرلے۔پھر پوری لگن سے اس کے حصول میں لگ جائے۔
بلا شبہ کہ ڈاکٹر صاحب نے اکیلے ایک جماعت کا کام کیا ہے۔آپ نے کتاب وسنت،
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو استقامت عطا کرے،






