وضو کرنے کے بعد اگر کسی کے جسم سے خون نکلے تو اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ٹوٹتا اس بارے میں علما کے مابین اختلاف ہے۔
اسی طرح اگر نماز کی حالت میں کسی کے جسم سے خون نکلے تو اس کی نماز ہوگی یا باطل ہو جائے گی اس بارے میں بھی علما کے مابین اختلاف ہے۔
راجح یہ ہے کہ پیشاب یا پاخانے کے راستے سے خون نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نیزہ مارے جانے کے بعد فجر کی جو نماز ادا کی تھی اس کے متعلق وارد ہے کہ آپ کے زخم سے بہت تیز خون بہہ رہا تھا۔مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "فصلى وجرحه يثعب دما"۔[مصنف عبد الرزاق الصنعاني: 1/150]
قاضی عیاض "یثعب" کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: أي: يتفجر (خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے)۔[مشارق الانوار: 1/132]
یعنی بہت تیز خون بہہ رہا تھا۔
اس سے پتہ چلا کہ جسم سے خون بہنے سے نہ وضو ٹوٹتا ہے اور نہ نماز باطل ہوتی ہے،
یہاں ایک دوسرا مسئلہ آتا ہے کہ وہ خون جسم پر بھی لگتا ہے اور کپڑے پر بھی،
تو اس بارے میں بھی علما کا اختلاف ہے کہ انسان کا خون پاک ہے یا ناپاک۔
بعض علما نے اس خون کی نجاست پر اجماع کا دعوی کیا ہے،
https://www.youtube.com/watch?v=snz2YHVFoug)
استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "والذي ظهر لي والله أعلم أنه ليس في المسألة إجماع،
(مجھے جہاں تک معلوم ہوا-حالانکہ اللہ زیادہ جانتا ہے-وہ یہ کہ اس مسئلہ میں کوئی اجماع نہیں ہے،
(درج ذیل لنک پر کلک کرکے شیخ کی بات سنی جا سکتی ہے:
https://www.youtube.com/watch?v=z0NroqdizXE )
اس دعوائے اجماع کی نفی میں شیخ اسلام منصور عبدالحمید نے ایک گراں قدر مقالہ بعنوان "حكم نجاسة دم الآدمي عدا الحيض والنفاس والرد على دعوى الإجماع على نجاسته" تحریر فرمایا ہے،
راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا خون پاک ہے۔واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
علامہ صدیق حسن خان،
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الذي يقول بطهارة دم الآدمي قوله قويٌّ جداً؛
(جو انسان کے خون کو پاک کہتا ہے اس کا قول بہت قوی ہے،
نیز اس خون کے ناپاک ہونے کی کوئی صحیح صریح دلیل بھی نہیں ملتی۔
استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "لا أعلم دليلا صحيحا صريحا واضحا في نجاسة هذا الدم"
(میں ایسی کوئی دلیل نہیں جانتا جو اس خون کی ناپاکی پر صحیح،
اور براءت اصلیہ کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ وہ خون پاک ہے،
جہاں تک فرمان باری تعالی "قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ" سے استدلال کی بات ہے تو وہ بھی محل نظر ہے،
اگر یہ کہا جائے کہ اس میں”فإنه رجس“ بھی کہا گیا ہے تو اس میں ”فإنه“ کا تعلق ”لحم خنزیر“ سے ہے،
المہم،
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے خون کی نجاست پر اجماع کی بات کی ہے حالانکہ آپ کو جب خلق قرآن کے مسئلہ میں اذیتیں دی گئیں تو آپ نے جسم سے خون بہتے رہنے کے باوجود اسی حالت میں نماز ادا کی۔اور اس خون کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
امام احمد فرماتے ہیں: "حضرت صَلاة الظهر, فتقدم ابنُ سَمَاعةَ فصَلّى, فلما انفتل من الصلاة, قال لى: صَليتَ والدمُ يسيل فى ثوبك؟! فقلت: قد صَلّى عُمر وجرحه يثعب دمًا"
(ظہر کی نماز کا وقت ہوا،
[دیکھیں: مناقب الامام احمد لابن الجوزی: ص 444،
خلاصۂ کلام یہ کہ دوران نماز جسم سے خون بہنے سے نماز کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔واللہ اعلم






