مذہب اسلام کے تمام تر احکام وتعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق اور دینی و دنیاوی ہر اعتبار سے مفید ہیں۔اس میں ہر اس چیز کی ہدایت وترغیب دی گئی ہے جس میں انسانیت کی فلاح وبہبود اور سماج ومعاشرے کے حق میں ادنی سی بھی بھلائی وبہتری موجود ہو۔اور ہر اس چیز سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے جس میں دینی ودنیاوی کسی بھی اعتبار سے ذرہ برابر بھی ضرر کا شائبہ پایا جاتا ہو۔
روزہ اسلام کی ان مفید اور سنہری تعلیمات میں سے ایک عظیم الشان تعلیم ہے۔اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے بے شمار دینی ودنیاوی مصالح وفوائد،
ماہ رمضان کے اختتام کے بعد ماہ شوال میں چھ نفلی روزوں کی کتب احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:
مَن صامَ رَمَضانَ ثُمَّ أتْبَعَهُ سِتًّا مِن شَوَّالٍ،
سارے سال کے روزوں کی مانند اس لیے کہا گیا ہے کیوں کہ ایک نیکی کا بدل دس گنا ہوتا ہے،
من صامَ ستَّةَ أيَّامٍ بَعدَ الفطرِ كانَ تَمامَ السَّنةِ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا}(صحيح ابن ماجه:۱۴۰۲) جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزوں کی طرح ہوں گے۔کیوں کہ جس نے ایک نیکی کی اس کے لیے اس کے مثل دس گنا اجر ہوگا۔
مذکورہ دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ماہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔یہی اکثر علما کی رائے ہے۔اس لیے ہر مسلمان کو ان کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم شریف کی مذکورہ حدیث کے تحت لکھا ہے:
فِيهِ دَلَالَة صَرِيحَة لِمَذْهَبِ الشَّافِعِيّ وَأَحْمَد وَدَاوُد وَ مُوَافِقِيْهِم فِي اِسْتِحْبَاب صَوْم هَذِهِ السِّتَّة،
ان چھ روزوں کے استحباب کے بارے میں اس حدیث کے اندر امام شافعی،
سیوطی العصر علامہ محمد بن علی بن آدم اثیوبی رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں علما کے مختلف اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:
والحاصل أن الحق والصواب ما قاله كثير من أھل العلم من استحباب صوم ستة أيام من شوال،
حاصل کلام یہ ہے کہ اکثر اہل علم نےماہ شوال کے چھ روزوں کے استحباب کی جو بات کہی ہے وہی حق اور صواب ہے کیوں کہ اس پر صحیح احادیث دلالت کناں ہیں۔
شش عیدی روزوں کے فوائد:
رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزوں کے اہتمام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پورے سال روزے رکھنے کا اجر ملتا ہے۔جیسا کہ سطور بالا میں یہ بات گزری۔دوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ رمضان سے قبل وبعد شعبان وشوال کے روزے فرض نمازوں سے قبل وبعد والی موکدہ سنتوں کے مشابہ ہیں۔جس طرح فرض نمازوں میں واقع ہونے والی تقصیرات کا ازالہ سنتوں سے کیا جائے گا اسی طرح فرض روزوں میں سرزد ہونے والی فروگزاشتوں کا تصفیہ نفلی روزوں سے کیا جائےگا۔ماہ رمضان کے بالکل پہلے یا بعد کے روزوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
أفضل التطوع ما کان قريبا من رمضان قبله وبعده،
سب سے بہتر نفلی روزہ وہ ہے جوماہ رمضان کے پہلے یا بعد میں بالکل اس سے قریب رکھا جائے،
اسی طرح کی بات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی حجة اللہ البالغہ میں کہی ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:والسر في مشروعيتها أنها بمنزلة السنن الرواتب في الصلاة... (حجة اللہ البالغة۔الجزء الثاني:۸۵)
یعنی ان چھ روزوں کی مشروعیت کاراز یہ ہے کہ جس طرح نماز کے سنن ونوافل ہوتے ہیں جن سے نماز کا فائدہ مکمل ہوتاہے،
کیا شوال کے چھ روزے رمضان کے فورا بعد رکھنا ضروری ہے؟:
یاد رہے کہ یہ چھ روزے شوال کی ابتدا میں،
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قَالَ أَصْحَابنَا: وَالْأَفْضَل أَنْ تُصَامَ السِّتَّةُ مُتَوَالِيَةً عَقِبَ يَوْم الْفِطْرِ،
ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ افضل یہ ہے کہ یہ روزے عید الفطر کے بعد پے در پے رکھے جائیں۔لیکن اگر کوئی وقفے وقفے سے یہ روزے رکھے یا انھیں ماہ شوال کی ابتدا سے آخر تک موخر کردے تو اسے بھی پے در پے روزے رکھنے کی فضیلت حاصل ہوگی،
علامہ صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أقول ظاهر الحديث أنه يكفي صيام ست من شوال سواء كانت من أوله أو أوسطه أو آخره(الروضة الندية: ۱/۲۳۳)میں کہتا ہوں کہ حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ماہ شوال کے چھ روزے کفایت کرجاتے ہیں،
لیکن افضل یہ ہے کہ عید الفطر کے بعد والے دن سے یہ روزے پے در پے رکھے جائیں،
قال الفقهاء-رحمهم الله-: والأفضل أن تكون هذه الست بعد يوم العيد مباشرة لما في ذلك من السبق إلى الخيرات. والأفضل أن تكون متتابعة،
فقہا رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ ان چھ روزوں کو عید کے دوسرے دن سے براہ راست رکھنا افضل ہے کیوں اس عمل میں نیکیوں کی طرف سبقت پائی جاتی ہے۔اور افضل یہ ہے کہ انھیں لگاتار رکھا جائے،
عید الابرار بدعت ہے:
بعض لوگ باگ شوال کے آٹھویں دن کو عید الابرار کہتے ہیں۔یعنی ان لوگوں کی عید جنھوں نے شش عیدی روزے رکھے۔لیکن اس کی کوئی اصل نہیں ہے،
ولكن هذا بدعة،
لیکن عید الابرار منانا بدعت ہے۔شوال کا آٹھواں دن نیک لوگوں کی عید ہے نہ فاجر لوگوں کی۔ان کے اس قول کی رو سے شوال کے چھ روزے نہ رکھنے والا شخص نیک لوگوں میں سے نہیں ہے حالاں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔جو انسان اپنا فرض ادا کر لے وہ بلا شک وشبہ نیک ہے گرچہ بعض کی نیکوکاری بعض کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہوتی ہے۔
جس پر رمضان کے روزوں کی قضا ہو وہ کیا کرے؟:
اس سلسلے میں صحيح بات ہے كہ شوال كےچھ روزوں كا تعلق رمضان كےروزوں كو پورا كرنے سےہے۔اس کی دليل مسلم شریف کی مذکوہ حدیث ہے۔اس میں حرف عطف "ثم"موجود ہے جوترتيب اور تعقيب پر دلالت كرتا ہے۔اور یہ اس بات كی دليل ہے كہ پہلے رمضان المبارك كےروزے ادا اور قضا دونوں اعتبار سے مكمل كرےپھر اس كےبعد شوال كےچھ روزے ركھے تاكہ حديث ميں وارد شدہ اجروثواب حاصل ہو سكے۔
علامہ ابن عثیمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ثم إن السنة أن يصومھا بعد قضاء رمضان لا قبله،
سنت یہ ہے کہ کوئی شخص شوال کے چھ روزے رمضان کے روزوں کی قضا کے بعد رکھے نہ کہ پہلے،
ليكن اگر انسان كوكوئی ايسا عذر پيش آجائےجس كی بنا پر وہ شوال كےچھ روزے شوال كے مہینےميں نہ ركھ سكے،
يقضيھا ويكتب له أجرھا كالفرض إذا أخره عن وقته لعذر،
اگر کوئی شخص كسی عذر کی بنا پر یہ روزے شوال کے مہینے میں نہ رکھ سکے تو وہ بعد میں ان کی قضا کر لے اسے اجر مل جائے گا،
حروف آخریں یہ کہ ماہ شوال کے چھ روزے بڑی اہمیت وفضیلت والے ہیں۔ان کا اہتمام اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔یہ ان اعمال میں سے ہیں جنھیں لازم پکڑ کر ایک بندۂ مومن رب کی رحمت ومغفرت کا مستحق بن سکتا ہے۔اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین






