سلیم بھائی کی شادی ہوئے دس سال بیت چکے تھے گود اولاد سے خالی تھی۔رشتہ دار،
الحمد للہ سلیم بھائی کا یہ عزم اور اللہ پر اس قدر توکل اور رو رو کر مانگی گئی دعائیں رنگ لائیں اور اللہ نے انھیں ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔
اخلاق کو اس کے والدین نے بچپن ہی سے اخلاق مند بنانے کی مکمل کوشش کی،
اخلاق نے دسویں کلاس میں اسکول ٹاپ کیا،
اخلاق کے والد نے بڑی محنت و مشقت اور کوشش کے بعد بغیر کسی چیز کی پرواہ کیے اخلاق کو ایک اچھے سے کالج میں داخل کرا دیا۔اخلاق اٹھارہ سال کا ہوچکا تھا،
کچھ مہینوں تک ہر چیز معمول کے مطابق تھی لیکن دھیرے دھیرے اخلاق آنے میں متعینہ وقت سے کچھ تاخیر کرنے لگا اور بعض دفعہ جلدی بھی چلا جاتا۔والدین سمجھ رہے تھے کہ امتحان قریب ہے شاید اس کی تیاری میں مصروف رہتا ہے لیکن کچھ دنوں بعد والدہ نے محسوس کیا کہ اخلاق جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو کسی چیز کی بو آتی ہے۔حد تو تب ہوئی جب انھوں نے اس کی جیب میں سگریٹ اور ایک سفید پڑیا دیکھی اور اس کے والد کو اطلاع دی۔
والد نے سوال کیا: بیٹا یہ سب کیا ہے؟ جس پر اس نے یہ کہہ کر بات کاٹ دی کہ ابو یہ میرے دوستوں کا ہے،
ایک دن اخلاق کی والدہ نے اپنے شوہر سے کہا میں کچھ مہینوں سے اخلاق میں تبدیلی محسوس کر رہی ہوں،
گھر میں پکڑے جانے کے بعد اخلاق کچھ دنوں تک محتاط رہا لیکن جسے بری عادتوں کا چسکا لگ چکا ہو اس کے لیے ان چیزوں کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔
اخلاق اب دیر رات گھر آتا اور کبھی کبھی تو آتا ہی نہیں،
بعض دفعہ اس کی آنکھیں بالکل سرخ ہوتیں اور ایسا لگتا تھا کہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے لیکن کہہ نہیں پا رہا۔
سلیم بھائی کو فکر لاحق ہوئی کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ بیٹا کالج میں موجود برے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔
میڈیکل رپورٹ نکلوائی گئی تو پتہ چلا کہ یہ بھاری ماترا میں ڈرگس لیتا ہے اور وقتا فوقتا شراب نوشی بھی کرلیتا ہے۔
یہی وہ والدین ہیں جنھوں نے اسے پانے کے لیے کئی سالوں تک رو رو کر رب سے دعائیں مانگیں،
اخلاق کو اس کے والد نے ’’نشہ مکت کیندر‘‘ میں ڈال دیا کہ شاید وہاں جاکر کچھ سدھر جائے اور ان بری عادتوں سے باز آجائے لیکن چند ہی مہینوں میں وہ ان چیزوں کا اس قدر رسیا ہوچکا تھا کہ جب بھی اسے اس کی طلب لگتی تو وہ اسے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا یہاں تک کہ کئی دفعہ وہاں کے کام کرنے والوں کو مارتا اور وہاں سے نکل کر بھاگ بھی جاتا تھا۔
اب اخلاق کی حالت ایسی ہوچکی تھی کہ ان بری عادتوں سے چھٹکارا پانے کے لیے گھر والوں کے پیسے نہ دینے پر محلے والوں کو ستاتا،
آخر کار اخلاق اپنی نوجوانی ہی میں ایک خطرناک قسم کی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوا اور ہمیشہ ہمیش کے لیے دنیا سے رخصت ہوگیا۔
اخلاق کے دنیا سے جانے کے بعد گلی محلہ کے لوگوں نے چین کی سانس لی اور کہنے لگے کہ کم از کم اس مصیبت سے چھٹکارہ تو ملا۔اس نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ پورے محلے اور بستی کو تنگ کر رکھا تھا اچھا ہوا اللہ نے اسے جلدی اپنے پاس بلا لیا!
یہ وہی اخلاق تھا جسے پانے کے لیے اس کے والدین نے خوب دعائیں کی تھیں،
اس کے دوست ہر برائی سے پہلے یہ کہتے رہے یار ایک بار چکھ کے دیکھ مزا نہ آئے تو دوبارہ مت کھانا،
ہمیشہ دوستی کے وقت اچھے اور نیک لوگوں کا انتخاب کریں کیونکہ ایک اچھا انسان اپنے بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے وہ اسے ہمیشہ برائی سے روکتا ہے اور نیک راہ پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔جبکہ برا دوست اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیتا ہے۔






