کتاب وسنت میں اخلاق حسنہ کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔آپ ﷺ نے مکارم اخلاق کی تکمیل کو اپنی بعثت ونبوت کا مقصد قرار دیا ہے۔ایک با اخلاق آدمی ہی وہ حقوق وفرائض صحیح معنوں میں ادا کر سکتا ہے جو بندوں پر بندوں کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔اگر انسانوں میں سیرت و کردار کی رفعت وپاکیزگی اور حسن اخلاق کا وصف نہ ہو تو نماز،
جس طرح فرائض وواجبات کی ادائیگی اور سنن ونوافل کا اہتمام اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے،
أثقلُ شيءٍ في الميزانِ،
ترازو میں سب سے بھاری عمل حسن اخلاق ہوگا۔
حسن اخلاق کے ذریعے ہی اس طرح کے پر امن اور خوش گوار معاشرے کی تشکیل کی جا سکتی ہے،
حسن اخلاق کی اہمیت وفضیلت اور خوش گوار اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے اس کی ضرورت کے پیش نظر ذیل میں حسن اخلاق کےاکتساب کے چند طرق واسالیب کو ضبطِ تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
عقیدے کی تصحیح:
عقیدے کے اثرات انسان کے اخلاق وکردار پر مرتب ہوتے ہیں۔صحیح عقیدہ انسان کے اخلاق وکرادر کو سنوارتا ہے اور اسے معاشرتی آلائشوں سے دور رکھتا ہے اور عقیدے کا نقص وخلل انسان کے عادات واطوار میں انحراف وکجی پیدا کرتا ہے۔ایمان وعقیدے کا کمال واستحکام سیرت وکردار کی آراستگی واستواری کا موجب ہے۔ایک مسلمان جس قدر اخلاقی بلندیوں پر فائز ہوگا اسی قدر اس کا ایمان بھی کامل ہوگا۔اسی لیے نبی ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا:
أكْمَلُ المؤمنين إيمانًا أَحْسَنُهم خلقًا(صحيح أبي داود:۴۶۸۲)
مسلمانوں میں کامل ایمان اس کا ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔
دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ أحبَّكم إليَّ و أقربَكم مني في الآخرةِ مجالسَ أحاسنُكم أخلاقًا،
تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں ہم نشینی میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے۔اور تم میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اخلاق کے اعتبار سے زیادہ برے ہوں گے۔
حسن خلق پر مرتب ہونے والے اثرات و فوائد پر غور وفکر:
کسی عمل کے ثمرات ونتائج کی معرفت اور اس کے حسن عواقب سے واقفیت انسان کو اس کی ادائیگی پر ابھارتی ہے۔بلا شبہ حسن خلق بھی اسی طرح نیکی ہے جس طرح نماز پڑھنا،
البِرُّ حُسْنُ الخُلُقِ(صحيح مسلم:۲۵۵۳)
نیکی حسن اخلاق کا نام ہے۔
ایک خوش اخلاق آدمی اگر صرف فرائض کی ادائیگی کرے اور نوافل کا زیادہ اہتمام نہ کرے،
إنَّ الرجلَ لَيُدرِكُ بحُسنِ خُلُقِه،
آدمی اپنے حسن اخلاق سے اس شخص کے درجات حاصل کر لیتا ہے جو رات کو قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے:
ما مِن شيءٍ يوضَعُ في الميزانِ أثقلُ من حُسنِ الخلقِ،
ترازو ميں حسن خلق سے زياده بھاری کوئی چیز نہیں رکھی جائے گی اور حسن خلق سے متصف شخص،
بد خلقی کے برے نتائج پر تدبر وتفکر:
جس طرح حسن خلق کے فوائد کا استحضار انسان کو اخلاقی بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے،
ذرا اس عورت کی عاقبت پرغور کیجیے جوکثرت سے نفلی صوم وصلات اور صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنے کے باوجود پڑوسیوں کے ساتھ بدخلقی سے پیش آنے کی وجہ سے انجامِ بد کا شکار ہوگئی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قيلَ للنَّبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ و سلَّمَ: يا رَسولَ اللهِ! إنَّ فلانةَ تقومُ اللَّيلَ و تَصومُ النَّهارَ و تفعلُ،
نبی ﷺ سے کہا گیا کہ فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے،
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ مِن أحبِّكم إليَّ وأقربِكُم منِّي مجلسًا يومَ القيامةِ أحاسنَكُم أخلاقًا،
میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اورقیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے۔اور تم میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو باتونی،
علو ہمتی:
اخلاق حسنہ کے اکتساب کا ایک اہم ذریعہ علو ہمتی بھی ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فمن علت همته،
جس کے اندر علو ہمتی اور خشوعِ نفس کا وصف ہوگا وہ ہر طرح کے اچھے اور خوبصورت اخلاق سے متصف ہوگا۔اور جو دوں ہمتی اور نفس کی طغیانی وسرکشی میں مبتلا ہوگا وہ ہر طرح کے قبیح اور خسیس عادات واطوار کا حامل ہوگا۔
بلا شبہ بلند ہمتی انسان کو رذائل وقبائح سے دور رکھتی ہے اور فضائل ومحاسن سے آراستہ کرتی ہے۔ایک بلند ہمت انسان نہ صرف خودظلم وزیادتی اور اخلاقی فسادات سے دامن کشاں رہتا ہے،
إنَّ اللهَ كريمٌ يُحبُّ الكُرَماءَ،
اللہ تعالی کریم ہےاور کریم اور عالی ظرف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔سخی ہے،
صبرکرنا:
صبر ان بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر حسن خلق کا دارومدار ہے۔صبر انسان کے اندر تحمل وبرداشت،
حسن الخلق يقوم على أربعة أركان،
حسن خلق چار ارکان پر قائم ہے۔ان چار ارکان ہی پر ساقِ حسنِ خلق کا قیام متصور ہے:صبروشکیبائی،
ایک عقل مند آدمی اپنے ہر اچھے عمل وکردار کا اجر اللہ تعالی سے طلب کرتا ہے۔اور اس کا یہ رویہ لوگوں کی ایذا رسانیوں کو برداشت کرنے اور اخلاق فاضلہ کے زیور سے آراستہ ہونے پر اس کی مدد کرتا ہے۔اسے اپنے رب کے اس وعدے پر پختہ یقین ہوتا ہے جو اس نے صبر کرنے والوں کے لیے کر رکھا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ(النحل:۹۶)
اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔
صالح اور بااخلاق لوگوں کی صحبت اختیار کرنا:
اللہ تعالی نے صحبت میں بڑی تاثیر رکھی ہے۔اچھے لوگوں کی صحبت کے اچھے اثرات اور برے لوگوں کی صحبت کے برے اثرات غیر محسوس طریقے سے انسان کے اخلاق وعادات میں منتقل ہوجاتے ہیں۔چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس کو جیسی صحبت میسر ہوتی ہے،
صحبت صالح،
صحبت طالح،
نیک آدمی کی صحبت،
اور شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
پسرِ نوح با بداں بہ نشست
خاندانِ نبوتش گم شد
سگِ اصحابِ کہف روزے چند
پئےنیکاں گرفت مردم شُد
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بروں کی صحبت میں بیٹھا تو اپنے خاندان نبوت کے شرف سے محروم ہوگیا اور اصحاب کہف کا کتا چند روز نیک لوگوں کے ساتھ رہا تو اس کا شمار صالح مردوں میں ہو گیا۔
اس لیے مذہب اسلام کے اندر اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت کولازم پکڑنے اور برے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔کوئی شخص اگر اپنے نفس کو معاشرتی آلودگیوں سے پاک وصاف رکھنا چاہتا ہو اور ہرطرح کی اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رہنا چاہتا ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے بیان کردہ آداب معاشرت کو ملحوظ خاطر رکھے۔نبی ﷺ نے نیک اوربدصحبت کی بڑی خوبصورت مثال بڑے حکیمانہ اسلوب میں بیان فرمائی ہے:
مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ والجَلِيسِ السَّوْءِ،
نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔مشک بیچنے والے کے پاس تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پالوگے۔یاتو مشک ہی خریدلوگے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکوگے۔لیکن لوہار کی بھٹی یا تمھارے بدن اور کپڑے کو جھلسادےگی ورنہ بدبوتو تم اس سے ضرور پالوگے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے:
وفی الحدیث النھي عن مجالسة من يتأذى بمجالسته في الدين والدنيا،
اس حديث سے ايسے شخص کی مجالست وصحبت اختیار کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جس سے دین ودنیا میں نقصان واذیت پہنچے،
ابوحاتم بستی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
العاقل يلزم صحبة الأخيار،
عقلمند آدمی اچھے لوگوں کی صحبت کو لازم پکڑتا ہے اور برے لوگوں کی صحبت سے دور رہتا ہے۔اس لیے کہ اچھے لوگوں کی مودت زودحاصل اوردیر انقطاع ہوتی ہے،
دعا کرنا:
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق وکردار کی تحسین اور برے اخلاق سے دور رہنے کی اللہ تعالی سے دعا کرے۔نبی کریم ﷺ عمدہ اخلاق پر فائز ہونے کے باجود یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللَّهمَّ إنِّي أعوذُ بِكَ من منكراتِ الأَخلاقِ والأعمالِ والأَهْواءِ( صحيح الترمذي:۳۵۹۱)
اے اللہ!میں تجھ سے بری عادتوں،
اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا،
اے اللہ!میرے نفس کو تقوی شعار بنادے،
مذکورہ بالا سطور میں اخلاق حسنہ کے زیور سے آراستہ ہونے کے چند عملی طریقے حیطۂ تحریر میں لائے گئے ہیں۔یہ اور ان کے علاوہ جتنے بھی طریقے اخلاق حسنہ کے اکتساب سے متعلق ہوسکتے ہیں،
اللہ تعالی ہمارے اخلاق وکردار کو سنوار دے اور برے عادات واطوار سےمحفوظ رکھے۔آمین






