رمضان اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے۔عید کی تیاریاں شباب پر ہیں-نبی کا اسوہ بتاتا ہے کہ آپ گزرتے رمضان کے ساتھ پہلے کی نسبت اور زیادہ عبادت و تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے۔کمر کس لیتے،
جوں جوں عید ہماری طرف بڑھ رہی ہوتی ہے تقوی کےباغ وبہار چمن پرخزاں طاری ہوتی جاتی ہے۔دین وایمان کے جوش کا رخ کسی اور جانب پھر جاتا ہے۔دیکھیے ناں اب مسجدوں کے مقابلے بازار کی رونق دوبالا ہے۔گھروں اور محلوں کی بھیڑ بازاروں اور دکانوں میں سماگئی ہے۔عید کی خریداری سب کے حواس پر سوار ہوتی ہے۔بازار میں خریدنے والوں کی ہاؤ ہو اتنی کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔بازاروں میں خواتین کی بھیڑ کی بھیڑ آتی ہے اورجاتی ہے لیکن رش ختم ہونےکا نام نہیں لیتا۔دکانوں میں محشر کا سماں ہوتا ہے۔بھیڑ اتنی کہ تل رکھنے کو جگہ نہیں۔کچھ لوگ توسامان دیکھنے اور پسند کرنے کے مرحلے میں ہیں۔کچھ پسند کے بعد بھاؤ تاؤ کی گتھی سلجھارہی ہیں اور کچھ چند روپیے کم کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہی ہیں اور کچھ یہ طویل اور دشوار گزار مرحلہ طے کرکے سامان پیک کرارہی ہیں اور کچھ دکان میں انٹری کرنے کے لیے ان کے نکلنے کا انتظار کررہی ہیں۔ہر چہار جانب صرف خواتین نظر آتی ہیں۔اگر کہیں مرد ہیں تو گود کے بچے کو سنبھالنے اور سامان کی تھیلیاں اٹھانے کی خدمات انجام دیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔خرید وفروخت اور بھاؤ تاؤ کا مورچہ تو اکیلے بیگم صاحبہ سنبھالے ہوتی ہیں۔پسند اور معیار کا معاملہ ہی عجیب ہے کہ ایک سوٹ کے لیے کئی کئی بار بازار جانا پڑتا ہےاور لوازمات وتکلفات کی فہرست اتنی طویل کہ بہ تمام وکمال خریداری کے باوجود بھی کچھ چیزیں رہ جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہر بار اتنا دھیان دینے کے باوجود کچھ نہ کچھ رہ جاتا ہے۔
فیشن ایبل کپڑے،
پیام عیش ومسرت ہمیں سناتا ہے
ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے
عید اپنی تمام تر رونق سامانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے اور لوگ اپنے اپنے ڈھب سے مسرت افزا لمحوں سے لطف اندوز ہونے میں لگے ہوتے ہیں۔فرحت وانبساط کا نشہ ایسا سوار ہوتا ہے کہ باذوق مسلمان رمضان کی تشنگی بجھانے کے لیے بہت کچھ کرگزرنا چاہتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے خمار زہد میں مدہوش انسان فلم بینی،
رمضان وعید کے بہانے یہ سارے ہنگامے تو چلتے ہی رہتے ہیں مگر رمضان و روزے کے عظیم ترین پیغام اور مقصد سے ہماری زندگیاں ہم آہنگ ہوئیں کہ نہیں۔روح تقوی ہماری شخصیت میں جلوہ گر ہوئی کہ نہیں۔اس رخ پر توجہ اور جائزے کی ضرورت ہم چنداں محسوس نہیں کرتے۔نہ جانے ہماری زندگیوں کے کتنے رمضان،
مزہ بہار کون کا چکھا ہی جاتی ہے
ہم اہل ہوں کہ نہ ہوں عید آہی جاتی ہے
کاش سنجیدگی کے ساتھ یہ دیکھنے کی زحمت گوارہ کرلیا جاتا کہ ہم میں جذبہ دین وعبادت کی حرارت میں اضافہ ہوا کہ نہیں۔یقین وایمان کی لو تیز ہوئی کہ نہیں۔احساس و وجدان کی دنیا میں چھائی ہوئی افسردگی ومردنی پر بہار آئی کہ نہیں۔اندرون قلب سخاوت و فیاضی کا دریا جوش مار رہا ہے کہ نہیں۔تلاوت کی زمزمہ سنجی پر ساز دل کے تار نغمہ سنج ہوتے ہیں کہ نہیں۔مسجد کی صدائے توحید پر بے اختیار قدم رب ذوالجلال کی طرف بڑھتے ہیں کہ نہیں۔اگر نہیں تو پھر تف ہے ایسی رمضانی زندگی پر جو خالی خولی گزر گئی۔جس نے ہماری زندگی پر کوئی چھاپ نہیں چھوڑا۔جس نے ہمارے جمود کو نہیں توڑا۔جس نے ہمارے وجود کے بے آب وگیاہ سرزمین کو سرسبز وشاداب نہیں کیا۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ تیس دن کا روزہ،
سوال یہ ہے کہ فلسفہ رمضان کا یہ پہلو کب تک ہماری نظروں سے اوجھل رہے گا اور یہ ادراک کب ہوگا کہ یہ ایک ہمہ گیر تبدیلی کا مہینہ ہے،
نعمتیں مخصوص ہیں سب متقی کے واسطے
زندگی اک اور بھی ہے آدمی کے واسطے
ہو گیا گر حق شناسا کوئی جو رمضان میں
عید لکھی ہے خدا نے بس اسی کے واسطے





