توقعات انسانی طبیعت کا خاصہ اور انسانی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔انسان اس دنیا میں جیتے ہوئے خود کو توقعات سے آزاد نہیں رکھ سکتا۔
کہا جاتا ہے کہ زندگی اور موت کے درمیان فرق حرکت و عمل کا ہے۔جمود موت کی علامت ہے تو حرکت وعمل زندگی کی دلیل،
انسانی زندگی انفرادی و اجتماعی ہر سطح پر نفع و نقصان کے اسی پیمانے سے جڑی ہے۔پھر وہ نفع و نقصان چاہے مادی ہو کہ معنوی،
توقعات دراصل انھی جذبات اور اسی پیمانے کا ایک مظہر ہیں۔
توقعات کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم ان توقعات کی ہے جو "لوگوں کو کسی بھی فرد" سے ہوتی ہیں۔لوگ آپ سے طرح طرح کی امیدیں وابستہ کیے رہتے ہیں۔
توقعات کی اس پہلی قسم میں ایک زمانہ آپ سے توقعات لگائے بیٹھا ہوتا ہے،
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
یہ طے ہے کہ لوگ آپ کو توقعات کے اسی پیمانے پر تول کر دیکھیں گے،
خود سے وابستہ لوگوں کی یہ ان توقعات کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ توقعات بسا اوقات انسان کو خود کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں سے آگاہ کرتی ہیں،
تاہم لوگوں کی ان توقعات کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ پہلو یہ ہے کہ آپ اگر سمجھداری کا مظاہرہ نہ کریں تو آپ خود کو اور خود کی زندگی کو دوسروں کی مرضی پر چلانے اور ڈھالنے کے مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ایسی صورت میں یہ توقعات آپ کے دل و دماغ کا بوجھ بن جاتی ہیں،
بالخصوص قوم کے داعی،
انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ قوم کا،
اگر آپ خود کو ایک ماہر طبیب،
علم اور بصیرت پر مبنی آپ کی ایک رائے اور جذبات پر مبنی آپ سے وابستہ لوگوں کی توقعات دونوں کی منزل ہمیشہ ایک نہیں ہوسکتی لہذا ان توقعات کو خود کے لیے مہمیز تو بننے دیں بوجھ نہیں۔
دوسری قسم ان توقعات کی ہے جو پہلی قسم کے بالکل برعکس ہیں،
انسان اپنی زندگی میں اپنے اطراف کی دنیا اور خود سے جڑے مختلف افراد اور مختلف چیزوں سے طرح طرح کی توقعات وابستہ کرلیتا ہے،
ماں باپ کو اپنی اولاد سے الگ قسم کی توقعات ہوتی ہیں۔
بلکہ اس دنیا میں ہر ایک شخص کو اس کی زندگی سے جڑے دوسرے شخص سے کسی نہ کسی قسم کی توقع ضرور ہوتی ہے۔یہ دراصل ایک قسم کا احتیاج ہے جو (و خلق الإنسان ضعيفا) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (سورة النساء:٢٧) کا ایک مظہر ہے۔
انسانی زندگی میں یہ بات بڑی اہم ہے کہ وہ مستقبل کے تئیں پرامید رہے،
انسانی زندگی میں ان توقعات کی بڑی اہمیت ہے،
تاہم ایک انسان کو یہ سلیقہ بھی آنا چاہیے کہ وہ اپنی توقعات کے ساتھ کیسے ڈیل کرے۔اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں کبھی کسی انسان کے سارے معاملات اس کی توقع کے مطابق انجام پذیر نہیں ہوتے۔
یہاں کبھی مد مقابل کی جانب سے مطلوبہ کردار میں کمی آتی ہے اور وہ آپ کی جائز توقعات پر پورا نہیں اترتا۔۔۔۔
کبھی انسان خود توقعات قائم کرنے میں غلطی کر بیٹھتا ہے اور اس کی توقعات حقائق سے میل نہیں کھاتیں حتی کہ بہت سارے لوگوں کی توقعات محض وہمی قسم کی ہوتی ہیں یا حد اعتدال اور معقولیت کے دائرے سے باہر ہوتی ہیں۔۔۔۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ توقعات بھی اپنی خواہش کے مطابق قائم کرلیتے ہیں سامنے والے کے امکانات کا انھیں کوئی اندازہ نہیں ہوتا یا اس سلسلے میں غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔۔
یہ اور ایسے کئی پہلو ہیں جو توقعات کے سلسلے میں افراط و تفریط کی بڑی لمبی داستان اپنے ساتھ رکھتے ہیں،
ایسی صورت میں انسان بڑی آسانی سے ایک پرامید اور پرجوش شخص سے شکایات کے پتلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔وہ جس کی زندگی میں پہلے مثبت رویہ تھا،
انسانی عزائم اس کے حوصلوں کو جوان رکھتے ہیں،
انسانی زندگی سے جڑی ایک سچائی یہ بھی ہے کہ اکثر انسان کی توقعات اور آرزوئیں اس کی زندگی سے بڑی ہوتی ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نقشہ بنا کر انسانی توقعات کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے:
عن ابن مسعود رضي الله عنه مرفوعا: خطَّ لَنا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ خطًّا مربَّعًا وخَطَّ في وسطِ الخطِّ خطًّا وخَطَّ خارجًا منَ الخطِّ خطًّا وحولَ الَّذي في الوسطِ خطوطًا فقالَ: هذا ابنُ آدمَ وَهَذا أجلُهُ مُحيطٌ بِهِ،
زندگی کے لیے یہ سبق بہت اہم ہے کہ آپ توقعات رکھیں،
سفر میں سامان جس قدر کم ہو سفر اسی قدر آسان ہوتا ہے،
بوجھ اور بوجھل ہونے سے متعلق یہ حقیقت شہر سے شہر تک کے سفر کے سلسلے میں جس قدر سچی ہے اسی قدر زندگی کے سفر میں بھی ہے۔۔
مذکورہ بالا دونوں قسم کی توقعات کا انسانی زندگی سے بڑا گہرا رشتہ ہے،
سماج پر نظر دوڑائیے ٹوٹتے رشتے،
یہ دنیا یقینا دارالاسباب ہے اور انسان کے انھی اسباب سے تعلق کا دوسرا نام توقعات ہے تاہم ایک مومن کا حقیقی تعلق اور دار و مدار مسبِّبُ الاسباب رب کائنات پر ہوتا ہے اسی لیے نبی علیہ السلام کا یہ فرمان ہے (الغنى غنى النفس) (متفق عليه) "غنی" کا ترجمہ مالداری سے کیا جاتا ہے یا کچھ حضرات اسے بے نیازی سے تعبیر کرتے ہیں،
دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبیؔ ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے






