میری زندگی کا سوال ہے مجھے اب نہ کوئی سوال دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ جو آنسؤوں کی لکیر ہے کہیں درد ہے کہیں آہ ہے
یہ قفس کے دھاروں میں قید ہیں ذرا بس انھیں تو سنبھال دے
وہ جو چل رہا میری لاش پر کئی آنسووں کی ندی لیے
اسی گمشدہ کی تلاش ہے اسے اک دفعہ تو نکال دے
نہ مروڑ میرے جسم کو یہ گرا ہوا سا مکان ہے
وہ جو دفن ہے تیری یاد میں اسے اب نہ کوئی جمال دے
میرے ٹوٹے بکھرے سے بول ہیں میں یتیم ہوں مجھے لفظ دو
میری زندگی کا سوال ہے مجھے اب نہ کوئی سوال دے
وہی خواب ہیں وہی رسم ہیں وہی جاگتے تیرے پیار ہیں
نہ انھیں سُلا غم یاد میں نہ ہی بے رخی کا ملال دے
یہ عدالتوں میں کہی سنی تیرے فیصلوں میں انا کی بو
سبھی فیصلے ہیں لٹے ہوئے تجھے اب کیا کوئی رسال دے
وہ وفا کی شمعیں بھی خوب تھیں جہاں لٹ کے اب تک کھڑے ہیں ہم
تیری خوبیاں تو اچھال دے مجھے اب نہ کوئی ہلال دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:مشق سخن
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





