جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہمارے منہج پر اعتراض تو اکابر علماے اہل حدیث کے منہج پر کیوں نہیں؟

تحریر: دکتور فاروق عبداللہ نراین پوری19 دسمبر، 20211,705قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۵ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہمارے منہج پر اعتراض تو اکابر علماے اہل حدیث کے منہج پر کیوں نہیں؟
فل اسکرین دیکھیں

آج جب ”منہج سلف“ کی بات کی جاتی ہے تو بعض حضرات بڑی خوبصورتی سے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے بر صغیر کے اکابر علماے اہل حدیث کے یہاں بھی تصوف اور اسما وصفات وغیرہ کے ابواب میں خلل موجود ہے،تو ان کے منہج پر بھی اعتراض کریں۔

سب سے پہلے تو ایسے حضرات سے یہ کہنا چاہوں گا کہ پہلے آپ یہ فیصلہ کریں کہ اسما وصفات اور دیگر ابواب میں حق کیا ہے اور باطل کیا۔حق وباطل کی صحیح تمیز کے بعد ہی آپ کے لیے اس پر عمل کرنا ممکن ہوگا،ورنہ آپ کبھی اس ڈال پر ہوں گے،اور کبھی اس ڈال پر۔

اللہ تعالی نے صرف انبیا کو معصوم بنایا ہے،باقی ہر ایک سے غلطی کا صدور ممکن ہے۔جب آپ کے پاس مسئلہ کی صحیح معرفت ہوگی تو کسی بھی شخصیت کو پڑھتے ہوئے ان سے سرزد ہوئی غلطی میں ان کی اتباع کرنے سے محفوظ رہیں گے۔

اس مقدمہ کو سمجھنے کے بعد اب بر صغیر کے اکابر اہل حدیث کی طرف آئیں۔آپ پہلے یہ فیصلہ کریں کہ جن مسائل میں آپ اکابرین کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں خود آپ کے نزدیک ان کا موقف ان مسائل میں صحیح ہے یا غلط؟

اگر آپ بھی مانتے ہیں کہ ان کا موقف صحیح نہیں تھا تو کیا یہ انصاف ہے کہ ان مسائل میں بھی ان کا دفاع کیا جائے؟ یا ان کو اپنی ڈھال بنائی جائے؟

کیا اسی زمانے میں جب بعض سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں تو دیگر اکابرین نے ان پر اعتراض نہیں کیا؟

اب یہ سوال کہ ”اگر آج ان مسائل کی وجہ سے کسی کی سلفیت اور منہج پر کلام کیا جاتا ہے تو ان اکابرین کی سلفیت پر کوئی کلام کیوں نہیں کرتا؟“

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل حق ہر زمانے میں اہل باطل سے ممتاز رہے ہیں،ہر زمانے میں ماحول کے حساب سے بعض خاص مسائل معروف رہے ہیں جن کے ذریعہ اہل حق اور اہل باطل کے مابین تفریق کیا جاتا رہا ہے۔

اسی وجہ سے بعض ایسے مسائل بھی ہمیں کتب عقائد میں نظر آتے ہیں جو خالص فقہی ہیں،عقدی نہیں۔لیکن چونکہ ان کے زمانے میں اہل حق وباطل کے مابین تمیز کے لیے وہ مسئلہ ایک علامت بن چکا تھا اس لیے اس دور کے علما نے عقدی مسائل کے ساتھ اس کا بھی تذکرہ کتب عقائد میں کیا۔مثلا ”مسح علی الخفین کا مسئلہ“ اہل سنت اور روافض کے مابین امتیاز کی حیثیت رکھتا تھا،اور موزے پر مسح کے مسئلہ کو وہ کتب عقائد میں ذکر کرتے تھے۔حالانکہ یہ ایک فقہی مسئلہ تھا۔

اسی طرح آج کے بر صغیر کے ماحول میں مقلدین اور سلفیوں کے مابین تمیز کے لیے رفع یدین،سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین بالجہر جیسے خالص فقہی مسائل امتیازی مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کوئی رفع یدین نہیں کرتا،ناف کے نیچے ہاتھ باندھتا ہے تو یہ ایک علامت ہے کہ اس کے منہج میں بگاڑ ہے۔آپ جب گہرائی سے اس شخص کی تحقیق کریں گے تو پائیں گے کہ اس میں اور بھی بے شمار منہجی انحرافات موجود ہیں،الا ما شاء اللہ۔

جہاں تک بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے ہندوستان کی بات ہے تو اس وقت کے اکابر علمائے اہل حدیث کی خدمات ”احیاءِ سنت اور ترک تقلید“ کے لیے معروف ہیں نہ کہ اسما وصفات وغیرہ ابواب میں منہج سلف کی تنقیح اور ترویج و اشاعت کے لیے۔

ولی اللہی خاندان نے جس طور سے خطے میں شرک و بدعت پر کام کیا جماعت اہل حدیث ان کا احسان مند ہے،اور اس سے جو بھی نتائج برآمد ہوئے وہ یقینا لائق تحسین ہیں،لیکن ان کے یہاں عقیدے اور منہج (خصوصا اسما وصفات کے باب میں) کی مکمل تنقیح نہیں ملتی،بلکہ بہت ساری تصنیفات میں ماتریدی اور متصوفانہ افکار کی نمائندگی ملتی ہے۔

لہذا اہل علم نے ان کی خدمات کے اعتراف کے باوجود ان کے مذکورہ موقف پر تنقید کی ہے،اور ثابت کیا ہے کہ یہ فکر کتاب وسنت سے متصادم ہے۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے استواء علی العرش کے مسئلہ میں چوک ہونے پر انھی کے معاصر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے مستقل کتاب تصنیف کی۔اس طرح اس دور کے علما نے بھی اپنا کردار نبھایا۔

اگر دو صدی پہلے تقلیدی انحراف سے مقابلہ کے لیے سلفی وغیر سلفی کے مابین تقلید کا مسئلہ امتیازی حیثیت رکھتا تھا تو آج کے ماحول میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اخوانی فکر سے سلفیت کا مقابلہ ہے۔آج کے زمانے میں سلفی علما اس فکر اور اس کے حاملین سے امت کو آگاہ کر رہے ہیں۔

لہذا آج کے ماحول میں عالم اسلام میں اخوانی فرقے کے فتنہ وفساد کے ظہور کے بعد کوئی ان کے باطل افکار کی نشر واشاعت کرنا چاہے اور ان کے منہج پر اعتراض ہونے پر بارہویں وتیرہوں صدی ہجری کے اکابر اہل حدیث پر اپنا قیاس کرے اور ان کے دامن میں اپنا جرم چھپانا چاہے تو انھیں نہ اس کی اجازت مل سکتی ہے،اور نہ کامیابی۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ف
فاروق عبد الله نراین پوری
26 دسمبر، 2021
لگتا ہے بہت جلد بازی میں مضمون پڑھ کر آپ نے یہ کمینٹ کیا ہے۔ غور سے پڑھیں مضمون میں اکابر علماے اہل حدیث کی خدمات کو اجمالا بیان کیا گیا ہے، جن میں ”احیاء سنت، ترک تقلید اور شرک وبدعت کے خاتمے“ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آپ نے جو باتیں بیان کیں ان میں سے کون سی ایسی نئی چیز پیش کی جو ”احیاء سنت، ترک تقلید اور شرک وبدعت کے خاتمے“ میں داخل نہیں ہے؟ جو میں نے اجمالا ذکر کیا ہے اسے ہی لفظوں کے ہیر پھیر کے ساتھ چار سطر زیادہ کرکے آپ نے تھوڑی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اس طرح کے کمینٹ سے دل سے آواز آتی ہے کہ ایسے نادان دوستوں کے رہتے دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اللہ المستعان وعلیہ التکلان!
m
muhammad
19 دسمبر، 2021
میرے خیال سے ہمارے اکابر علماء اہلحدیث کو آمین رفع یدین اور بعض چند فروعی مسائل سے موسوم کرنے کے بجائے برصغیر میں عمل بالحديث کی تحریک اور التعصب المذہبی کے راستے سے آنے والے جمود بلکہ انکار حدیث تک پہونچی ہوئی بوسیدہ روایت اور رنگ برنگے بدعات و خرافات کے خلاف ایک بہترین اور کامیاب اصلاحی تحریک تھی، یہ تو مسائل فقہیہ کے ذکر پر اتنا عرض کردیا ورنہ تحریک کے آغاز اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی تقویت الایمان اور انکی مردانہ وار جدو جہد اور مساعی کو دیکھیں اور علامہ بشیر سہسوانی کی خالص عقیدے کے باب میں تصنیف حتی کہ سید الطائفہ شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلامذہ کی ایک بڑی تعداد کا کتاب التوحید وغیرہ کا اہتمام اور دوسری طرف نواب صدیق حسن خان کی مجموعہ من الکتب العقدیۃ اور انکی دیگر تجدیدی مساعی جو فقہی اور فروعی مسائل سے بہت آگے نشر سلفیت اور عمل بالحديث کے کے براڈ پریسپیکٹیو سے تعلق رکھتی ہے ان سب کو اور وہ چیزیں جو میں عجلت میں چھوڑ رہا ہوں، سب کو چند فقہی مسائل اور رد تقلید کی دعوت بول کے سلٹا دینے سے ہم دراصل ایسے بدطینت اور خائنوں کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں جنہوں نے اس عظیم اور ہمہ جہت دعوت اور اصلاح کو اسکے عقدی اور اصولی نہج سے ہمیشہ دھکیل دھکیل کر رد تقلید جیسے مجمل اور اکا دکا فروعی مسائل کی دعوت کہنے اور پروپیگنڈہ کرنے کی سعی نامشکور رہتے ہیں، ایسے دفاع پر تو دل سے آواز آتی ہے کہ ایسے نادان دوستوں کے رہتے دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے. اللہ المستعان وإليه المشتكى وعليه التكلان
A
Abdul Rehman Siddiqui Siddiqui
19 دسمبر، 2021
السلام وعلیکم۔ کیا یہ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی پوسٹ کا ردد عمل ہے۔خدا را اپسی چپقلش کو عام نہ کریں۔ اس پورٹل کا مقصد ہی فوت ہوتا نظر ارہا ہے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہمارے منہج پر اعتراض تو اکابر علماے اہل حدیث کے منہج پر کیوں نہیں؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر