محدثین کرام جنھوں نے حصول علم کے اصول و آداب مرتب کیے ہیں ان کے نزدیک ایک بات بڑی مشہور ہے:
لا ینبُل الرجل حتی یأخذ العلم عمّن ھو فوقہ،
یہی بات وکیع بن الجراح نے یوں بیان فرمائی ہے:
لا ینبل الرجل من أصحاب الحدیث حتی یکتب عمن ہو فوقہ وعمن ہو مثلہ،
تحصیل علم کے سلسلے میں سلف صالحین کے پاس ایک مفصل منہج ہے جس میں متعدد ضابطے ہیں۔علم سے پہلے ادب کا حصول،
طلب علم کے سلسلے میں اس منہج کا جہاں یہ اصول ہے کہ علم اہل علم ہی سے لیا جانا چاہے،
إن من أشراط الساعۃ أن یلتمس العلم عند الأصاغر.. (الزھد لعبداللہ بن المبارک:۶۱)قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ علم اصاغر سے لیا جائے۔
مزید ارشاد فرمایا:
۔۔۔۔وینطق فیھا الرویبضۃ قیل وما الرویبضۃ یارسول اللہ! قال:السفیہ یتکلم في أمر العامۃ (مسند أحمد:۷۹۱۲)قرب قیامت ایسے ماہ وسال آئیں گے جن میں ـدیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوگا کہ-رویبضہ بولے گا۔پوچھا گیا اے اللہ کے رسول! یہ رویبضہ کیا ہے؟ فرمایا: کم عقل جو عوام الناس سے جڑے مسائل میں فتوی دے۔
تاہم اسی علمی منہج کا ایک سنہرا اصول یہ بھی ہے کہ بعض چیزوں کاعلم اگر بڑوں کے پاس نہ ہو کر چھوٹوں کے پاس ہو تو اپنے سے بڑوں کی طرح اپنے ہمعصروں اور اپنے سے چھوٹوں سے بھی حاصل کیا جانا چاہےا۔علمی دنیا کی ایک بڑی سچائی یہ ہے کہ:
{نرفع درجات من نشاء وفوق کل ذي علم علیم }(یوسف:۷۶)ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں اور ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔
شرعی علوم میں بڑے اور چھوٹے،
اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ بسا اوقات علم کا ایک باب بڑوں کے بجائے چھوٹوں پر کھولتا ہے۔اور جو بڑے ہوتے ہیں یہ ان کی آزمائش ہوتی ہے اوران کا حقیقی بڑپن اسی میں ہوتا ہے کہ وہ علم کی خاطر تواضع اختیار کرتے ہیں اور اپنے سے چھوٹوں سے ملنے والے علم کو حاصل کرتے ہیں اور اس طرح بظاہر وقتی طور پر چھوٹے ہوجانے کے باوجود انجامِ کار بڑے ہوجاتے ہیں:
من تواضع للہ رفعہ اللہ(شعب الإیمان للبیھقي:۷۷۹۰) جو اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرے اللہ اسے بلند کردیتا ہے۔
قرآن و سنت میں ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جہاں اللہ تعالی نے اپنی اس سنت کو ظاہر فرمایا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)سورہ ص میں اللہ تعالی نے حضرت داود و سلیمان علیہما السلام کا واقعہ بیان کیا ہے۔دونوں اللہ کے نبی تھے تاہم داودعلیہ السلام باپ تھے مگر جب ایک تنازعہ میں فیصلہ کا معاملہ آیا تو اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کو صحیح فیصلہ سجھایا۔اس طرح حضرت داود کے مقابلہ چھوٹے حضرت سلیمان کو اللہ تعالی نے اس قضیہ میں معاملہ فہمی سے سرفراز فرمایا:
{ففہمناھاسلیمان}(الأنبیاء:۷۹)ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔
(۲)دوسری مثال خود حضرت سلیمان کے مقابلے ایک معمولی پرندے کی ہے،
{فمکث غیر بعید فقال أحطت بما لم تحط بہ وجئتک من سبأ بنبأ یقین}(النمل:۲۲)کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آ کر کہا‘‘میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں میں سَبا کی ایک سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں۔
(۳)اس باب کی سب سے عظیم مثال تو خود نبی ﷺکی ہے کہ آپ نے جبریل علیہ السلام سے سیکھا۔{علمہ شدید القوی}اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے(النجم:۵) کے مطابق جبریل علیہ السلام معلِّم تھے اور آپ ﷺمتعلِّم۔حالانکہ جبریل کے مقابلے نبی ﷺاعلی و برتر ہیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے حضرت جبرئیل کے مقابلے نبی کریم ﷺ کی برتری پر دلالت کرنے والا حضرت عبداللہ بن سلام سے مروی ایک اثر ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:
وَمَا عَلِمْت عَنْ أَحَدٍ مِنْ الصَّحَابَۃِ مَا یُخَالِفُ ذَلِکَ. وَہَذَا ہُوَ الْمَشْہُورُ عِنْدَ الْمُنْتَسِبِینَ إلَی السُّنَّۃِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَئِمَّۃِ الْأَرْبَعَۃِ وَغَیْرِہِمْ،
(۴)جساسہ ودجال کا واقعہ نبی کریم ﷺ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا پھر صحابہ کرام کی بھری مجلس میں آپ ﷺ نے انہی صحابی کے حوالے سے اس واقعہ کو روایت کیا۔(مسلم-باب قصۃ الجساسۃ:۱۱۹)
حصول علم کے باب سے جڑی اس تعلیم کی قرآن و سنت میں جہاں ایسی متعدد مثالیں ہیں وہیں یہ سلف صالحین کی سیرتوں کا ایک روشن باب ہے۔
امام ترمذی امام بخاری کے شاگردوں میں سے ہیں،
ما انتفعت بک أکثر مما انتفعت بي(تھذیب التھذیب:۹/۳۸۹)میں نے تم سے جو سیکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو تم نے مجھ سے سیکھا۔
محدثین کے نزدیک علوم الحدیث کی ایک خاص صنف ہے جسے روایۃ الأکابر عن الأصاغر کہا جاتا ہے جس میں محدثین نے ایسے راویان حدیث کے نام یکجا کیے ہیں جنؤں نے اپنے شاگردوں سے یا ان کے درجہ کے راویوں سے حدیث روایت کی ہے تاکہ ایک عام قاری یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حدیث کی سند میں قلب ہوا ہے یعنی تقدیم وتاخیر کی غلطی ہوئی ہے اور شاگرد کو استاذ اور استاذ کو شاگرد بنا دیا گیا ہے۔ایسی مثالوں کو یکجا کرنے کے مقصد سے متعدد اہل علم نے کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱۔ما رواہ الکبار عن الصغار والآباء عن الأبناء للحافظ أبی یعقوب المنجنیقی البغدادی (۳۰۴ھ)
۲۔روایۃ الصحابۃ عن التابعین للخطیب البغدادی
۳۔روایۃالآباء عن الأبناء للخطیب البغدادی (الرسالۃ المستطرفۃ للکتاني:۱۶۴)
اسی سے ملتی جلتی علوم الحدیث کی دیگر اصناف میں (روایۃ الأقران) بھی ہے اور( مُدَبَّج)بھی ہے۔(تفصیل کے لےی علوم الحدیث کی کتابیں دیکھ لی جائیں)
علم انبیاء کی وراثت ہے اور اس کا حصول ایک عظیم عبادت ہے اس لےی ایک سچے طالب علم کی علامت ہی یہی ہے کہ وہ حصول علم کے سلسلے میں متواضع بھی ہوتا ہے اور علم کا لالچی وحریص بھی اور اس کی اس بھوک کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن پاتی۔نبیﷺ کا ارشاد ہے:
منھومان لایشبعان طالب العلم وطالب الدنیا(المستدرک:۳۱۲)دوبھوکے ایسے ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے،
طالب علم کی اس بھوک کی شدت یہ ہوتی ہے کہ فرق مراتب کا احساس اس کے لےل کوئی معنی نہیں رکھتا۔وہ اپنے ہم سبق ساتھیوں،
حضرت عبداللہ بن مبارک ان گنے چنے چند اہل علم وفضل میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ:اجتمعت فیہ خصال الخیر کلہا یعنی وہ تمام خصائل حمیدہ کے پیکر تھے۔
علم وفضل کے اس اعلی مقام پر فائز ہونے کے باوجود ان کا معمول تھا کہ وہ اپنے سے کم درجہ کے اہل علم سے بھی حدیث سننے اور لکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ کو اس کی کیا ضرورت ہے تو کہنے لگے:
لعل الکلمۃ التي فیھا نجاتي لم تقع لي(شرح التبصرۃ والتذکرۃ:۲:۴۶)شاید جو جملہ یا کلمہ میری نجات کا باعث بن جائے وہ ابھی تک میرے نصیب میں نہ آیا ہو۔
اپنے سے کمتر لوگوں سے بھی استفادہ کا یہ باب بہت وسیع ہے،
عربوں میں ایک مثل مشہور ہے:
یوجد فی النہر ما لا یوجد فی البحر(جو سمندر میں نہ ملے وہ ندی مل جاتا ہے)
ایک مرتبہ نبیﷺ نے بھری مجلس میں ایک سوال رکھا جس میں مہاجرین و انصار کے سردار شریک تھے۔اللہ تعالی نے جواب ایک چھوٹے بچے عبداللہ بن عمر کو سجھادیا جو مجلس کے کسی بڑے کی سمجھ میں نہ آیا تا آنکہ خود نبی ﷺ نے انیںد بتلایا۔
اسلام میں مشورہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے حتی کہ اللہ نے اسے مومنین کا شیوہ بتلایا ہے {وأمرھم شوری بینہم }اور ان کا کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے۔(الشوری: ۳۸)
مشورہ کے مضمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کبھی کبھار اللہ تعالی چھوٹے منہ سے بڑی بات نکال دیتا ہے۔
قرآن و سنت کی بیان کردہ اس واضح تعلیم اور سلف صالحین کے اس عظیم طرز عمل کے باوجود عصر حاضر میں طلب علم کی یہ راہ مسدود اور یہ دروازہ اکثر بند ہی نظر آتا ہے۔
ایک طرف یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ علم سے شغف رکھنے والے بہت سارے لوگوں میں یہ تواضع نہیں رہ گیا۔طلبہ حصول علم کے میدان میں ایک مرحلہ کے بعد خود کو عقلِ کُل سمجھنے لگتے ہیں،
لا یتعلم العلم مستحی ولا متکبر(البخاري-باب الحیاء في العلم)علم کے معاملہ میں شرمانے والا اور تکبر کرنے والا کچھ نہیں سیکھتا۔
دوسری طرف طلبہ علم میں بھی خود شناسی کا وہ جوہر نہ رہا،
آؤ تم بھی پاس آؤروشنی میں نہلادیں
جس کو چھولیا ہم نے آئینہ بناڈالا






