لڑکپن میں جو سبق آموز کہانیاں پڑھی تھیں ان میں سے ایک کہانی دُم کٹی لومڑی کی بھی تھی۔
کہانی کچھ اس طرح تھی کہ:
جنگل میں ایک شکاری لومڑی کے پیچھے لگ گیا،
جان تو بچ گئی تاہم دُم کٹی لومڑی خود کو دوسری لومڑیوں کے درمیان تنہا اور شرمندہ محسوس کرنے لگی۔دُم کی خوبصورتی اور اپنی خاص شناخت کو گنوا کر وہ جس احساس محرومی سے دوچار تھی اس احساس نے اس کا جینا دوبھر کردیا تھا۔اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ پھر سے دُمدار ہوجائے اور نہ ہی اس کے لیے یہ ممکن تھا کہ خود ساری لومڑیوں کی دُم کاٹ دے۔
عیار لومڑی نے اس محرومی کے احساس اور اپنی خفگی مٹانے کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا۔
اس نے تمام لومڑیوں کو اکٹھا کیا اور سب کے سامنے کھڑے ہوکر دُم کی برائی شروع کردی۔کہنے لگی:
دیکھو!
اسی دُم کی وجہ سے شکاری ہمارا پیچھا کرتے ہیں،
قصہ مختصر یہ کہ عیار لومڑی نے خود کے عیب و نقص کا حل یہ چنا کہ ساری لومڑیاں دُم کٹی ہوجائیں تاکہ وہ بھی ’خوش‘ رہے اور اس کا عیب عیب نہ رہے۔
مکار لومڑی کی یہ کہانی بچپن یا لڑکپن میں پڑھی تھی تو بس ایک کہانی تھی مگر جب سے ہوش سنبھالا ہے ایسی ’دُم کٹی لومڑیاں‘ جابجا دکھائی دیتی ہیں۔
آنکھیں کھلی رکھیں تو آپ قارئین کو بھی ایسی بے شمار دُم کٹی لومڑیاں اپنے دائیں بائیں دکھائی دیں گی۔
معاشرتی و سماجی زندگی سے لے کر علمی و فکری دنیا تک،
اسلام کی حقانیت،
چودہ صدیوں بعد بھی اسلام اور اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اور بدلتے زمان و مکان کے باوجود ہر طرح کے حالات سے اس کی ہم آہنگی سے گھبرائی وہ لومڑیاں بھی دیکھیں جو یہ دعوت دیتی ہیں کہ اسلام کی آفاقیت کو نمایاں اور اجاگر کرنے کے لیے ہر زمانے میں ایک نئی تعبیر،
اس معاملے میں مزید ایک قدم آگے یہ بھی دیکھا کہ ان دُم کٹی لومڑیوں کی عیاری کا شکار کچھ بھولی لومڑیاں یہ تک مان چکی ہیں کہ اب کی بار یہ فریضہ علماء کے بجائے ’مفکرین‘ کے ہاتھوں ہی انجام پائے گا جو شرعی علوم و فنون کی دُم کا ’بوجھ‘ اپنے ساتھ نہیں لیے پھرتے بلکہ نئی دنیا،
جمہوریت کے نام پر مذہب سے نظریں چرانے والی کئی لومڑیاں دیکھیں جو اسلامی نظام حکومت کو محض عہدِ قدیم کی ایک یادگار قرار دینے پر تلی ہوئی ہیں۔
مسلمان عورت کے ’حقوق‘ کے لیے ’فکرمند‘ اور مسلم عورت کی ’ترقی‘ کا راگ الاپنے والی لومڑیاں بھی دیکھیں جو پردہ،
کچھ لومڑیوں کو اس فکر میں سر جوڑ کر بیٹھے دیکھا کہ مدرسوں سے انجینئر،
ان دُم کٹی لومڑیوں کی ایک ٹولی ایسی بھی دیکھی جو مختلف علماء صلحاء خدام وغیرہ کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں،
صلحاء کو جماعت و جمعیت یا ملی اداروں اور قومی مسائل کی ’سیاست‘ سے دور رہنا چاہیے تاکہ۔۔۔۔۔۔۔۔
لومڑیوں کی ایک قسم وہ بھی دیکھی جو پورے یقین کے ساتھ یہ دعوٰی اور دعوت عام کررہی ہے کہ اب سلفی دعوت کے حاملین کو سیاست،
سماج اور معاشرے میں ایسی لاتعداد حاسد لومڑیاں نظر آئیں گی جو کسی بھی شخص کی ایسی کسی خوبی کا تذکرہ جس سے وہ خود محروم ہیں ایسے انداز میں کریں گی جیسے یہ اس شخص کی خوبی نہیں کمی ہے،
آپ نفل عبادات اور طلبِ علم جیسی مصروفیات کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں وہ اس تشویش کا شکار ہیں کہ کہیں آپ کی صحت متاثر نہ ہوجائے،
آپ سماج کی کسی بھی طرح خدمت کر رہے ہیں انیںہ فکر ہے کہ لوگ آپ جیسوں کی قدر نہیں کرتے اور آپ جیسوں کو ان کا جائز مقام نہیں دیتے۔
بين الأقوامى سیاست بالخصوص عالم اسلام کی صورت حال کے بارے میں کیا کہا جائے،
قارئین!
ہمارے عہد میں دُم کٹی لومڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے،
ہماری گزارش بس اس قدر ہے کہ آپ لومڑیوں کی عیار زبان سے زیادہ ان کی کٹی دُم پر نظر رکھیں۔آپ مدعا و مقصود کو صحیح انداز میں سمجھ پائیں گے۔اور اپنی دُم کی حفاظت کرلے جانے میں کامیاب بھی ہوں گے جو یقینا ان دُم کٹی لومڑیوں کے مقابلے ہمارا اضافی بوجھ ہے مگر اسی سے ہمارا اعتبار قائم ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے قوم لوط کا تذکرہ کرتے ہوئے اسی دُم کٹی لومڑی والے مزاج کو بیان کیا ہےکہ لوط علیہ السلام کے متبعین نے اخلاقی برائی میں سماج کا ساتھ نہ دیا تو سماج نے یہ کہنا شروع کردیا:
أخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡیَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاس یَتَطَهَّرُونَ(یہ سماج کے نام پر کلنک ہیں،
لہذا چوکنا رہے!
نظر آپ کی ہے تو منظر بھی آپ دیکھیے کوئی اور آپ کو کیوں اپنی مرضی سے دکھلائے؟؟
اور جب دیکھیے تو منظر کے ساتھ پس منظر بھی دیکھیے۔
نظر کا دھوکہ نظریہ کا دھوکہ بن جائے تو پھر پلٹنا بہت مشکل بالکل اسی طرح جس طرح کٹی دُم کا جوڑنا مشکل ہے۔
فاعتبروا يا أولي الأبصار (الحشر:۲)اے دیدہ بینا رکھنے والو!عبرت حاصل کرو۔






