قوموں کے عروج وزوال میں تعلیم اور نصاب تعلیم کی اہمیت مسلم و متفق علیہ ہے۔ایجوکیشن نےمغلوبوں کو غالب اور غالبوں کو مغلوب بنا کر قعر مذلت میں پھینک دیا۔علم کے میزائل کے ذریعہ آسمان سے ہمارے فوجیوں پر ایسی یورشیں کی گںکر کہ ہماری ہڈیوں تک کا پتہ نہیں لگ سکا۔صلیبی جنگوں میں پے در پے شکست کے بعد اقوام عالم نے اس حقیقت کو بے چوں وچرا تسلیم کر لیا کہ مسلمانوں کو زمینی معرکوں میں ہم زیر نہیں کر سکتے۔انیںی دھول چٹا نے کے لیے ہمیں رصد گاہوں میں بیٹھ کرتجربات وتلاش کی نئی راہیں ہموار کر نی ہوں گی۔
ان متلاشیوں کو سائنس اور ٹکنالوجی کی ایک نئی دنیا مل گئی اور یہیں ہم سوگئے اور اس وقت خواب غفلت سے بیدار ہوئے جب ہم کو ہر چہار جانب سے گھیر لیا گیا۔
ہمارے مد مقابل کے پیش نظر فقط دنیا اور اس کی سر بلندیاں تھیں،
برصغیر کے نامور مصنف اور صاحب طرز ادیب کر نل محمد خان نے بجا فرمایا تھا:
پہلے ہر گھر میں ایک امی جان ہوتی تھیں اور ایک ابا جان کبھی لاڈ میں آئے تو ہم انھیں امی اور ابو کہہ لیتے تھے۔ان دو الفاظ میں محبت کی ایک دنیا آباد تھی اور یہ ہماری ثقافت کا محبوب ترین سرمایہ تھا۔جوں جوں دولت اور انگریزی عام ہو ئی مائیں تیزی سے ممیاں بننے لگیں اور باپ ڈیڈیوں میں تبدیل ہوگئے۔میں جس گھر میں ان کا استعمال دیکھتا ہوں ان کے کلچر میں ملاوٹ محسوس ہوتی ہے یہ ہماری قومی وضعداری کے منافی ہے اور وضعداری عظمت کی نشانی ہے۔وضعداری غریبی میں خودی کی نگہبانی ہے۔ممی ڈیڈی کا استعمال قرآن کی رو سےتو شاید ناجائز نہیں لیکن وضعداری اور عزت نفس کے اعتبار سے ہماری شان کے شایان نہیں۔
کرنل صاحب لباس اوردل ودماغ کے ٹیڑی پن کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
زبان کا ٹیڑی پن لباس کے ٹیڑی پن سے کہیں زیادہ مہلک ہے حالانکہ لباس کے ٹیڑی پن کے متعلق ہم ضرورت سے زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں ذرا لڑکوں لڑکیوں کو چست لباس میں دیکھ لیں تو ہمیں ملت ودین کا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے۔بے شک ہمارے طلبا ء وطالبات ذرا ڈھیلے کپڑے پہن لیں توانیںا سانس لینے میں آسانی ہو لیکن عالم شباب میں سانس لینا ہی سب سے اہم بات نہیں۔بہر حال لباس کا ٹیڑی پن اتنی بڑی ٹریجڈی نہیں جتنا دل ودماغ کا ٹیڑی پن اور آپ جانتے ہیں کہ دل ودماغ کا ٹیڑی پن کیا ہوتاہے۔ایک زمانہ تھا کہ استاد یاباپ کی نصیحت سن کر جی چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجیے لیکن آج نصیحت کے جواب میں فرزند دل بند ہنس کر کہتے ہیں:don’t be silly dad (ڈیڈ نادان نہ بنیں)
اور دختر نیک اختر کا انداز امی جان کے متعلق قطعی طور پر سر پرستانہ ہے ہر سہیلی کو بتاتی پھر تی ہیں:
Poor Mummy she is utterly old fashioned
(میری بھولی بھالی ماں انتہائی پرانے خیالات کی ہیں)
یہ ہےپسر ارجمند اور دختر اسلام کی بولی اور والدین کے جذبہ محبت ومودت کا صلا
جوانی کی دعا بچوں کو ناحق لوگ دیتے ہیں
مٹاتے ہیں جو انی کو یہی بچے جواں ہو کر
اور یہ سب انگلش میڈیم کے فیوض و برکات ہیں۔
میں انگریزی مخالف نہیں بلکہ انگریز دشمن بھی نہیں بحیثیت مسلمان ان کے افکار ونظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔
مجھے میڈیم کو لے کر تشویش ہے۔برصغیر میں جہاں صوبائی اور علاقائی زبانیں چلتی ہیں ہندی اور اردوعام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔یہی خطبات اور دعوت کی زبان ہے اور عام طور پر دعوتی لٹریچر اسی زبان میں لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔اس طرح اردو ہماری تہذیب اور ثقافت کی زبان بن چکی ہے اور شایداسی لیے ہم وطنوں کی طرف سے اس کی مخالفت بھی ہو تی ہے اردو کو بھی مسلمان سمجھا جاتا ہے ایک طرف اسے ٹوپی پہنا کر اس کی مسلمانی کی جارہی ہے دوسری طرف انگلش میڈیم کے چہرے سے ہم خود بھی اسے حلال کر رہےہیں سسکیاں تو پہلے سے لے رہی ہے بس دم توڑناباقی ہے فواحسرتاہ۔
سعودی درسگاہوں کا میڈیم عربی ہے دیگر عربی ممالک کا ذریعہ تعلیم عربی ہے۔ایران کی زبان تدریس فارسی ہے،
کرنل محمد خان لکھتے ہیں:
آخر اس ذہنی کجروی کی وجہ کیا ہے اس ضمن میں میرااپنا نظریہ ہے اور وہ یہ کہ اس کی بنیاد ی وجہ انگریزی کا ذریعہ تعلیم ہو نا ہے بلکہ میرے نزدیک معاشرے کی بے شمار برائو ں کی جڑ انگلش کا تعلیمی میڈیم ہوناہے۔
خان صاحب مزید لکھتے ہیں:
مجھے انگریزی زبان سے قطعاً کوئی بیر نہیں انگریزی میں علم وادب کا انمول خزانہ ہے اور اس خزانے کی تہ تک پہنچنا خوبی قسمت کی انتہا ہےبلکہ خوش قسمت لوگ انگریزی علم و ادب کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں ان کی طبیعت میں ٹیڑی پن کے بجائے ایک آسودگی بخش ٹہراؤ آجاتا ہے ان کے ظرف میں پختگی اور وسعت پیدا ہو جاتی ہے لیکن انگریزی پڑھنا اور چیز ہے اور انگریزی میں پڑھنا اور چیز خصوصاً ابتدائی جماعتوں میں کیونکہ اگرپانچ چھ سال کےبچے کا ذریعہ تعلیم انگریزی ہو تووہ صرف انگریزی ہی نہیں سیکھتا انگریزیت بھی سیکھتا ہے گویا ٹیڑی پن انگلش میڈیم کی ضمنی پیداوار ہے یہ نیم پختہ اور نو عمر طلباء وطالبات کی بیماری زیادہ واضح الفاظ میں ٹیڑی پن چھوٹی عمر میں انگریزی کی بد ہضمی کا نتیجہ ہے لہذا قدرتی طور پر انھی اسکولوں تک محدود ہے جن کا شروع سے ہی ذریعہ تعلیم انگریزی ہے۔بچے پھر پھر انگریزی بولتے ہیں ممی ڈیڈی خوش ہوکرماشاءاللہ کہو دیتے ہوں گے اور بچہ نہیں جانتا یہ ماشاءاللہ کس چڑیے کا نام ہے۔
شاعر مشرق اس ڈرامے کے جس سین کے منتظر تھےاور ان کی نگاہ جس پردہ اٹھنے کے انتظار میں تھی وہ قریب قریب آج روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے اور اس کی مثال مندرجہ ذیل شعر سے سمجھی جا سکتی ہے؎
پوتے نے دادا کا فوٹو یہ کہہ کر باہر ڈال دیا
میرا البم نیا نیا ہےیہ تصویر پرانی ہے
جب باپ طبلے بجائے گا تو لازمی طور پر اس کے بچے ناچیں گے،
اردو کسی غیر کی کیا شکایت کرے جب اپنوں نے ہی اسے بیگانہ بنا دیا۔پنڈت جواہر لال نہرو پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لے گئے پاکستانیوں نے انگریزی میں ایڈریس دیا نہرو جی نے امتنان وتشکر کے کلمات اردو میں پیش کر کے ان کی تہذیب اوران کی زبان کا آئینہ دکھلا دیا۔اسی موقع پر جوش ملیح آبادی نے بطور طنز کہا تھا ان کی مادری زبان گو اردو ہے پر پدری زبان انگریزی ہی ہے یا للعجب
اردو کے خدائی خدمتگار وں کی فہرست بہت طویل ہے۔اس میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ ہندو شعراء اور مصنفین بھی رہے ہیں۔تلوک چند محروم،
ہمیں دوسروں سے کیا گلہ جب ہم نے خود ہی اپنی تہذیب کی زبان کو بے یارومددگار سسکنے بلکنے پر مجبور کر دیا اور انگریزی کواس کی بدیسی سوکن کے طور پر کچھ اس طرح گلے لگا لیا کہ اس کے قدموں میں نقد دل وجان رکھ دی اور اردو بیچاری اب صرف اور صرف نعروں میں گھسیٹی جاتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ذلیل وخوار کی جاتی ہے۔
اردو میں جس فارسی زبان کے ذریعہ چاشنی پیدا ہو تی تھی اس کے اخراج مبارک کی تیاریاں شد و مد کے ساتھ ہو رہی ہیں اوراسی جگہ پر ہندی اور انگریزی کو بٹھانے کی مذموم کوششیں چل رہی ہیں چنانچہ ہندی انگریزی کے معجون مرکب کا نام اردو رکھ دیا گیا ہےبحالت مجبوری اردو کے بھی بعض منافق الفاظ شامل کر لیے جاتے ہیں۔جیسے تھا تھی تھے میں نے ہے وغیرہ۔
اُردوسے ہزار دشمنی کے باوصف بر صغیر میں تا دم تحریرانگلش غزلیہ مشاعرہ منعقد نہیں ہو سکا۔کبی سممیلن تو ہو تے ہیں پر ہندی کی صراحی سے اردو اور فارسی کی دخت رز ہی انڈیلی جا تی ہے۔
انگلش میڈیم کی ماں نے آج تک غزل کی بہن قصیدے کا بھائی اور رباعی کی سہیلی پیدا نہیں کی اور مشاعرے کے چھوٹے بھائی کا بھی کہیں اتہ پتہ نہیں چلتا۔
اردو سے جن کا رشتہ استوار رہا ان کو عزت و شہرت کی بہشت بریں ملی۔اقبال،
مسلمانوں کاالمیہ یہ ہے کہ یہ اپنی عظمت رفتہ کی تلاش میں اس قدر سرگرداں ہیں کہ یہ اپنی تہذیب تک بھول گئے اور اغیار سے اس حد تک مرعوب ہوگئے کہ اپنی ثقافت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور معاملہ بایں جا رسید کہ آمیزش کے بغیر ہمارا کوئی عمل منزل تکمیل تک پہنچتا ہی نہیں۔اس کی جیتی جاگتی مثال یہ ہےکہ میرے حال کے دو مضامین پر میرےبعض اردو داں کرم فرماؤں نےتائیدی کلمات انگریزی رسم الخط میں لکھ کر ہماری تشجیع فرمائی حتی کہ ماشاءاللہ کو بھی انگریزی کا سوٹ بوٹ پہنا دیا گیا۔ع
چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی
میں نے ایک صاحب کو اردو کے ساتھ اس بے اعتنائی پر متنبہ کیا جواب آیا میرے موبائل میں اردو کا آپشن موجود نہیں۔موبائل کے بارے میں میری معلومات مولویانہ ہے اس لیے خاموشی میں عافیت محسوس ہوئی حالانکہ ہمارے یہ احباب مدرسے سے نکل کر دنیا کی وسعتوں میں پہنچے ہیں۔یہ رویہ جب اردو ذریعہ تدریس کے حاملین کاہے آگے انگلش میڈیم کے طلباء کیا کچھ گل کھلائیں گے تصور سے فکر کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
اس کے پیچھے انگریزی سے مرعوبیت،
گفتگو کے دوران بے ساختہ یا لکھتے ہوئے انگشت برداشتہ ہندی،
گریر سن،
انگلش میڈیم کے زہریلے اثرات ہماری روز مرہ کی زندگی میں صاف نظر آنے لگے ہیں۔اس کی پہلی کارستانی تو یہ سامنے آئی کہ ہمارے نونہال اپنے مبادیات دین وعقیدہ سے بےبہرے ہو کر رہ گئے اوراسلام ان کی نظر میں عید،
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
گذشتہ چند سالوں میں بعض غیور طبیعتوں میں بیداری کی ایک لہر اٹھی ہے،
ہاں ایسے معدودے چند اسکول بھی تلاش بسیار کے بعد مل سکتے ہیں جہاں یہ تماشے نہیں ہو تے بلکہ اردو کو اس کا جائز حق میسر ہے۔اس کا مینیجر حساس ہے،
ایک بات اور بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ انگلش میڈیم اسکول فقط ڈھکوسلے ہیں۔ان کی انگریزی صرف ایک ہؤا ہے ان کے پاس سوٹ بوٹ ٹائی اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اوربچوں کواپنے مقدور کے مطابق یہاں سے بس اتنا مل جاتاہے جتنا کہیں اور بھی مل سکتاتھا اور ان اسکولوں نے ہم کو سوغات میں اور مہنگائواں کے ساتھ تعلیم کی مہنگائی کا تھپڑ رسید کیا ہے اور تعلیم غریب کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہے۔غریب بچے دیکھا دیکھی امیروں کی تعلیم گاہوں میں جانے کی ضد کر رہے ہیں اور یہ ان کے والدین کے بس کا روگ نہیں۔یہاں سے محرومیاں پیدا ہو تی ہیں اور اچھی تعلیم سے سماج کا ایک بڑا طبقہ محروم رہ جاتا ہے اور یہ بات انتہائی سنگین اور بے حد تشویشناک ہے۔
ضرورت ہے کہ مسئلے کی ہولناکیوں کو محسوس کیا جائے اور کوئی ایسا حل نکالا جائے جس سے تعلیم و تعلم کی راہیں ہموار ہو سکیں۔اس کے لیے زر داروں کو آگے بڑھنا ہو گا،
والدین اپنی ذمہ داریوں کو بڑی زیرکی سے نبھاتے ہیں۔کس بچے کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہےا بھلا ان سے بہترکون سمجھ سکتا ہے۔یہ جو لخت ہاے جگر ٹہرے چنانچہ بزعم خویش تیز طرار بچے کو کانونٹ اسکولوں میں لمبی فیس مہنگے ڈریس سوٹ بوٹ ٹائی اور کم از کم انڈے کی خوبصورت ٹفن اور پانی کے چمکتے باٹل کے ساتھ بھیجتے ہیں۔پھر بھی دل مضطر کو سکون نہیں ملتا خود مامتا یا باپتا کی بے پناہ محبتوں سے مجبور ہو کر ہر رورتلاوت واذکار کو بالائے طاق رکھ کر انگلیاں تھا م کر چچکارتے ہوئے ٹرانسپورٹ تک لے جاتے ہیں۔اسکول وین کا ایسے انتظار فرماتے ہیں جیسے کسی زمانے میں اپنی سلماؤں زلیخا ؤں کی راہوں میں پلکیں بچھائے کھڑے رہا کرتے تھے۔گھر واپسی پر امیرالبیت کو تشفی بخش جواب بھی مرحمت فرمانا پڑتا ہے۔
دل کا دوسرا ٹکڑا جو چنچل نہیں بھولا بھالا تھا بلکہ بچپن ہی میں ولی کامل وعاجل دکھتا تھا والدین نے کافی بحث و تمحیص کے بعد انصاف کے سارے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے گاؤں کے صاف شفاف مکتب کی راہ دکھلا دی جس میں مدرسہ صفہ کی ساری خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں اور جس کے ذرے ذرے سے قناعت و کفایت کی مختلف شعاروں کی بو آتی تھی۔کرسی کی جگہ کھاد کی بوریاں،
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
کانوننٹ کابچہ ان کے ارمانوں کا شہزادہ امیدوں کا شیش محل جس کے لیے اذیت مصیبت ملامت بلائیں کیا کچھ نہیں اٹاہئی تھیں ڈاکٹر انجینئر وغیرہ تو نہیں بن سکا ابتہ گاؤں کے ہم عمروں کے ساز میں اپنی بھی آواز ملاتا ہواوارد عروس البلاد ممبئی ہوگیا اور وقت نے اتنےزناٹے دارتھپڑ رسید کیے کہ ریشمی گال لال ہو گئے اوردوسرابچہ مکتب مدرسہ اور جامعات سے گزرتا ہوا ان وسعتوں اور بلندیوں تک پہنچا جہاں چشم حیرت کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے اور یہی بدھو میاں سعادت دارین کا اسلامک میڈیم ثابت ہوا۔وفی ذالک فلیتنافس المتنافسون
ہم اپنے نونہالوں کی تقدیر اپنے قلم سے لکھنے کے لیے اس قدر بیتاب ہو تے ہیں کہ اپنی حیثیت عافیت اور عاقبت تک کو بھی گنوا بیٹھتے ہیں اور اس وقت سود وزیاں کا احساس ہو تاہے جب سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا ہوتا ہے۔
انگلش میڈیم،
ہندو فکر کے اسکول اپنے پرکھوں عید وں تیوہار وںرسم ورواج کی بھر پور نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مشینری کالج مسیحیت کی تبلیغ میں سر گرم ہوتے ہیں۔نصاب ٹیچر ملازمین سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ان احوال و ظروف میں بھلا کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے پھول تر وتازہ رہ سکتے ہیں اور ہمارے لخت ہاے جگر اپنے قلب ونظر کی سادہ تختیوں کوباطل افکار کے گرد وغبار سے بچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
درجہ پنجم تک ذہن سازیاں ہو تی ہیں آگے یہی بچے اوربچیاں بلوغت کی دہلیز کی طرف قدم بڑھانے لگتی ہیں۔مخلوط تعلیم ایک نئی مصیبت بن کے سامنے آکھڑی ہو تی ہے۔نظروں مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے رہتے ہوں گے عمر کے ساتھ جرأت وجسارت بھی بال وپر نکالنا شروع کر دیتی ہے۔نتیجے کی طرف بشیر بدرکی نظر پہنچی ہے،
اب پڑھائی لکھائی کا موسم کہاں
کتابوں میں خط آنے جانے لگے
اور ہم میں سے نہ جانے کتنے خوش نصیب ایسے بھی گارجین ہوں گے جو بعد میں نکاح وولیمے کے اخراجات سے بھی بچ کر مستحق ثواب دارین بن جائیں گے۔ان شاءاللہ
ان قتل گاہوں کےروایتی سالانہ جلسے بڑے کر وفر اور تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔تقریروں نظموں گیتوں فلمی نغموں اور لطیفوں سے سامعین وسامعات کی بھر پور ضیافتیں ہو تی ہیں پھر ڈراموں کاسلسلہ شروع ہو تاہے۔بالغ بچوں اور بچیوں کےٹھمکوں سے جیتو اور ویجنتی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔اس رقص و سرود پر والدین پھولے نہیں سماتے اور دل ہی دل میں کہتے ہیں۔ع
شادم از زندگی ما ک پیدا کر دم
ان اسکولوں کے سالانہ جلسوں میں وہ گل کھلتے ہیں کہ حیا اپنی آنکھیں بند کر لے اور شرافت کانوں میں انگلیاں ڈال کر منہ چھپا لے پر افسوس صد افسوس آہ آہ کی جگہ پر واہ واہ کی صدائے دلکش و جانفزا نکلتی ہے۔اس روح افزا پروگرام میں ہمارے نور ہائے نظر بھی برابر کے شریک ہیں ان کے والدین نے بھی فیس کی ادائیگی میں بڑی فیاضی دکھائی ہے نیکی کے کام میں پیچھے رہنا بد بختی ہے۔
یہ ہے وہ ماحول جس کا انتخاب ہم اپنے معصوں کے لےھ کرتےہیں اور یہ ہے وہ کلچر جس کو آپ اپنے آبگینوں کے لیے پسند فرماتے ہیں؎
یوں قتل سے بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
ہمارا متاع دین ودنیا لٹ رہا ہے اور ہم خوش فہمی کی بہشت میں خوش وخرم ہیں۔ہوش کے ناخن لوکہیں ہم احمقوں کی جنت کی سیر تو نہیں کر رہے ہیں۔
روسی ماؤں نے کمنزم کے یلغار سے اپنے آنگن کو مدرسہ بنا کرا پنی نسلوں کے دین وایمان کا تحفظ کیا تھا اور ہم بصد شوق وہزار رغبت اپنے بچوں کے دینی مستقبل کا سودا کر رہے ہیں اور حکومتوں پر الزام بھی لگا تے ہیں کہ ہمارے تشخصات وامتیازات کو مٹایا جا رہا ہے؎
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
میں خالص مکتب کی پیداوار ہوں۔اپنی عمر بے سود کے کم وبیش بیس برس اساتذہ کو پٹی پڑھانے اور پینتالیس سال طلباء ہنر مند کے مستقبل کی تخریب میں صرف ہوگئے۔ع
خوشست عمر دریغا کہ جاودانی نیست
اس آنکھ مچولی میں بہت کچھ کھویا اور وقت نے بہت کچھ واپس بھی کیا طرفہ عبد نے بجا فرمایا؎
ستبدی لک الایام ماکنت جاہلا
ویاتیک بالاخبار ما لم تزود
ہر کوئی اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں لکھتا اور بولتا ہےاسی لیے اختلافات کی پوری گنجائش ہوتی ہےاور تنقید وتبصرے کے دروازے کھلے ہو نے چاہئیں اورصبر و تحمل،
اکثر نبضان آئین فطرت مکتب میں جاری نصاب پراز سر نو نظر ڈالنے کی وکالت کرتے ہیں۔رائے تو مثبت اور ٹھوس ہےاور اس سے مفر نہیں اب سوال صرف اس بات کا ہے کہ یہ بیڑا کون اٹھائے۔ظاہر ہے فرد کا تیار کردہ سلیبس متفق علیہ ہو نہیں سکتا اور ہم مسلمانوں کے یہاں کوئی مہیمن قوت نہیں جو سب کو ایک نصاب پر جمع کردے۔
ان حالات میں سب کی نگاہیں تنظیم کی طرف اٹھتی ہیں اور حقیقی معنوں میں یہ بڑا کام جماعت وجمعیت ہی کر سکتی ہے۔میتھمیٹکس،
ڈھونڈ نے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
سونڈامنٹل جذبے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اس کے لیے مضبوط قصد وارادہ کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ مجنؤں کی تو جان جائے گی اور ان کی صحرا نوردیاں دیوانہ پن بن کر رہ جائیں گی اور ایسا بہت دیکھا گیا ہے کہ سب کچھ تیار ہو جاتا ہے اور حکومتوں کی سفارشات کی طرح سرد خانے میں چلا جاتا ہے۔
نصاب میں تغیر و تبدل کی گنجائش ہمیشہ سے رہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نصاب کو وقت کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنا چاہےج ورنہ وقت اسے لولا لنگڑا بناکر آگے نکل جائے گا اور نصاب مسکین و فقیر بن کر پدرم سلطان بود کی صدا لگاتا رہ جائے گا اور یہی ہمارے مکتبی نصاب کی سر گزشت ہے۔
مذکورہ بالا تینوں مضامین شامل نصاب ہوجائیں اس کے لیے اساتذہ کی ضرورت پڑے گی اس کے لیے مہنگے ٹرینڈ،
آپ کا اسکول کمرشیل ہے اور میں تجارتی درسگاہوں کا مخالف نہیں،
چوں بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند
وہ غاشی کے علاوہ چور بھی ہیں۔بہر حال پونجی صرف بلڈنگ پر ہر گز نہ لگا ئیں بلکہ ایک مناسب مقدار اساتذہ پر بھی صرف فرمائیں اور ٹاٹا کے اصول پر عمل کرتے ہوئے فیس کے تین حصے اساتذہ اور ملازمین پر خرچ کرکے بچوں کا مستقبل اور اپنی آخرت تعمیر فرمالیں فیس والے اسکولوں کے لیے یہ عمل بڑا آسان ہے۔
رہے وہ مکاتب جو صدقات و خیرات سے چلتے ہیں ان میں کٹیگرائزیشن از بس ضروری ہےخوشحا ل بچوں پر لازمی طور پر فیس لگائی جائے اور آمد کو غریب بچوں پر اچھے اساتذہ کو مناسب تنخواہیں دے کر صرف کیا جائے:توخذ من اغنیاء ھم وترد علی فقراء ھم پر عمل درآمد ہو جائے گا۔ان شاءاللہ
اسکول انتہائی نفع بخش کسب معاش کا باعزت ذریعہ ہے،
مشکل یہ ہے کہ ہم بھی اسٹینڈرڈ کی تعیین،
آج کل مشینری اسکولوں اور ششو مندروں میں منٹیننس اور چمک دمک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور شاید اسی لیے لوگ کشاں کشاں ان اسکولوں کی طرف چلے جا رہے ہیں،
روایتی مکاتب واقعی اپنی معنویت اور افادیت کھو چکے ہیں،
وقت کا تیور حالات کی نزاکت کو سمجھنا فراست کہلاتا ہے اورمومن اس کے پیج وخم کو خوب جانتا ہےاور جو لوگ شتر مرغ کی طرح اپنا اور اپنے اقدار کا تحفظ کرتے ہیں وہ صیادان صد رنگ کے جال سے نہیں بچ سکتے؎
آنچہ دانا کند کند ناداں
لیکن بعد از خرابی بسیار
ان ماڈرن اسکولوں میں بچوں کو ڈالنا جہاں قرآن مجید ناظرہ،
پورے ملک میں نام نہاد انگلش میڈیم اسکولوں کی بھر مار ہے،
با ادب با ملاحظہ عرض ہے کہ آپ گرامی قدروں کو کھلی آزادی ہے الف لام لگا کر کسی بھی نام سے اسکول لانچ فرمائیں دھڑلے سے سارے مضامین اردو ترجموں کے ساتھ پڑھائیں اور معترضین کو مہر بلب جواب دینے کی سکت پیدا کریں اور یاد رکھیں کہ لمبی فیس کے بڑے اسکولوں میں بھی فقط بورڈ میڈیم کا ہے اڑھائی پڑھائی خالص ہندی زبان ہی میں ہوتی ہے،
سنا ہے کہ ہماری مادری زبان اردو ہے اب اگر کوئی ہمارے نو نہالوں کو انگریزی میں پڑھاتا ہے اور علی الاعلان اپنی فیکٹری کوانگلش فیکٹری کہتا پھرتا ہے تو اس کے لیے مناسب جگہ منٹل ہاسپیٹل ہے میں گمنام بےبضاعت میاں صاحب قسم کا آدمی ہوں،
حضرات!ہمیں انگریزی کو میڈیم کے طورپر استعمال کرنے کا شوق نہیں،
ہمارے اسکولوں میں ہمارے بچوں کی تعلیم اردو کے بجائے انگریزی زبان میں ہو یہ واقعی پاگل پن ہے اور ہم بلا شبہ دیوانگی کی اس راہ بھڑیا دھسان وارفتگی کے ساتھ چلے جارہے ہیں،
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے






