کہا جاتا ہے کہ زندہ رہنے کے لیے ایک انسان کو تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے روٹی،
لیکن بات جب حقیقی زندگی اور بھرپور زندگی جینے کی ہو تو ایک انسان کی ضرورتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں،
زندگی انفرادی ہو کہ اجتماعی،
اپنے آپ سے لڑنے کے اس ہنر کا خاصہ و خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کے اپنے نفس میں ایک عدالت قائم ہے جہاں اسے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا پڑتا ہے اور انفرادی یا معاشرتی زندگی کے مختلف میدان و معاملات میں خود کے صحیح کردار کو متعین کرنے کے سلسلے میں فیصلے لینے پڑتے ہیں۔
ایک عام انسان کے لیے یہ فیصلہ بہت آسان ہوتا ہے۔
جو من میں سمایا وہی کر گزرا۔
جدھر سینگ سمائے دوڑ پڑا۔
دل نے جو چاہا وہی مقصودِ نظر بن گیا۔
دماغ نے جو سجھایا وہی عین تقاضہ حکمت قرار پایا۔
لیکن ایک باشعور انسان اور ایمانی زندگی جینے والے مسلمان کے لیے فیصلہ لینے کا یہ معاملہ بسا اوقات کسی معرکہ سے کم نہیں ہوتا۔
طرح طرح کے خیالات،
نفع و نقصان کے الگ الگ زاویے۔
صحیح و غلط کے ان گنت پیمانے۔
سماج میں ایک ہی حقیقت سے متعلق پائے جانے والے متعدد و متضاد تصورات،
دل و دماغ کے دو متضاد رخ اور ان کی باہم کشمکش۔۔۔۔
مفادات کا جنگل۔۔۔
مصلحتوں کا چنگل۔۔۔
سب سے بڑھ کر انسان کا خود غرض نفس۔۔۔
ان سب کے بیچ شرعا و عقلا ایک صحیح موقف کی تلاش و جستجو اور اس کے ادراک کے ساتھ ہی اس کو مضبوطی سے تھام لینے اور اس پر ڈٹے رہنے کا فریضہ نبھانا واقعتا ایک معرکہ ہے۔
اس چکر میں نہ جانے ایک انسان پر کیا کچھ گزرتی ہے اور کن کن وادیوں سے ہوکر اسے گزرنا پڑتا ہے۔ایسے میں اکثر منزل کی جستجو سے زیادہ سفر مشکل ہوجاتا ہے۔
تاہم اسی دورانِ سفر انسان کو خود سے اور خود کے وقتی اور مادی مفادات سے لڑنے کا ہنر آنا چاہیے۔
یہیں سے ایک انسان کے عظیم انسان بننے کا سفر شروع ہوتا ہے،
شرعا اور عقلا طے پائے صحیح اور غلط کے پیمانے پر کھرا اترنے کے لیے خود سے لڑنا اور خود کے مفادات سے جنگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
کتنے ایسے جی دار ہیں جو اپنے مد مقابل کو منٹوں میں چت کردیتے ہیں،
کبھی حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں۔۔۔
کبھی دل ہار جاتے ہیں۔۔۔۔۔
کبھی خود سے آنکھیں چرالیتے ہیں۔۔۔
کبھی اپنے ضمیر کو تھپکی دے کر سلادیتے ہیں۔۔۔
کبھی سماج کے خود ساختہ اصولوں اور پیمانوں کے چکر میں خود چکر کھانے لگتے ہیں۔۔۔
اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ خود سے لڑنے کا حوصلہ نہیں جٹا پاتے مگر جیتنے کی آرزو بھی شدید ہوتی ہے تو ایسے میں نفس ایک نئی راہ دکھلاتا ہے۔انسان پھر جیت کا ایک نیا پیمانہ طے کرلیتا ہے،
حق وہی جو میری زبانِ حق ترجمان سے نکلے
عدل وہی جو میرے حکیمانہ فرمان پر پورا اترے
اور اس نئے خودساختہ پیمانے یا سانچے کی مدد سے خود کو کامیاب بھی قرار دے لیتا ہے گویا۔ع
رِند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
یہ زندگی کا ایک کڑوا سچ ہے کہ ہم اکثر ایسے ہی خودساختہ پیمانوں کے بل پر "جیتتے" ہیں اور جیت کے اسی دھوکے میں جیتے اور مسلسل ہارتے چلے جاتے ہیں۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود کی غلطیوں کا وکیل اور دوسروں کی غلطیوں کا جج ہوتا ہے۔ایسے میں ایک انسان کے لیے خود کو اپنے آپ سے لڑنے کا ہنر سکھلانا شیرخوار بچے سے دودھ چھڑانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے مگر ایک کامیاب اور حقیقت پسندانہ زندگی جینے کے لیے یہ پہل ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت اور جہاد کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا: (ابدأ بنفسك فجاهدها) آغاز اپنے نفس سے کرو،
انسانی زندگی میں یہ فن اور ہنر بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔انسان کی خود سے جیت دوسروں کے دل و دماغ کو جیتنے کی پہلی سیڑھی اور معرکہ حیات میں انتہائی کارآمد ہتھیار ہے جس سے ہر انسان کو لیس ہونا چاہیے۔
اپنے آپ سے لڑنے کا بھی اپنا ایک مزہ ہے،
یہی حقیقی زندگی ہے،






