نیک اعمال سے لوگوں کو دور کرنے کے لیے شیطان مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔انھی میں سے ایک حربہ بندے کے دل میں ریاکاری کا خوف بھر دینا ہے۔بعض لوگ اس شبہے کی بنا پر نیک عمل سے دور ہو جاتے ہیں کہ کہیں میں یہ عمل ریاکاری کے لیے تو نہیں کر رہا۔بالآخر شیطان جو معصیت اور شہوت کے راستے سے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا تھا خوف الہی کا ڈر دکھا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
اس کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ بعض مقررین حضرات شعوری یا غیر شعوری طور پر لوگوں کے دلوں میں ایسے وسوسے پیدا کر دیتے ہیں۔مثلًا: جیسے ہی رمضان شروع ہوتا ہے اور مسجد میں نئے مصلی بڑھنے لگتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے،
یہی حال قربانی کا بھی ہے۔قربانی کے موسم میں بعض حضرات لوگوں پر گوشت خوری کا الزام لگاتے ہیں اور یہ طعنہ دیتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ لوگ رضائے الہی کے لیے نہیں بلکہ ریاکاری وگوشت خوری کے لیے قربانی کر رہے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ آپ انھیں قربانی کا اصل مقصد یاد دلائیں،
میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اکثر وبیشتر لوگ رضائے الہی کے لیے ہی قربانی کرتے ہیں۔گوشت کھانے کی اللہ نے اجازت دی ہے اس لیے کھاتے ہیں۔اگر پورا کا پورا صدقہ کرنے کا حکم ہوتا تو کوئی ایک بوٹی نہ کھاتا۔جیسے کہ زکات کا جو مال نکلتا ہے اسے پورا کا پورا اللہ کے راستے میں دے دیتے ہیں،
اگر لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جائے کہ قربانی کوئی نیکی کا کام نہیں تو کوئی قربانی کرنے والا نہیں ملے گا۔
آج سے تقریبا پندرہ سال پہلے بنگال ومضافات میں بعض علما کی طرف سے یہ غلط پرچار شروع ہوا تھا کہ ایک گائے میں سات لوگوں کی شرکت صرف مسافروں کے لیے جائز ہے،
بعض علاقوں کے بارے یہ خبر ملی تھی کہ یکّا دُکّا بعض لوگ جو پورے ایک جانور کی قربانی کر سکتے تھے کیے تھے،
اگر گوشت خوری ہی ان کا مقصد ہوتا تو آخر کس چیز نے انھیں قربانی کرنے سے باز رکھا تھا؟
کتنے لوگ سال بھر ایک کیلو گوشت خرید نہیں پاتے،
اس لیے برائے مہربانی لوگوں کی نیتوں پر شک نہ کریں۔ہاں انھیں قربانی کے اصل مقصد کی ضرور تبلیغ کریں۔تقوی پر ابھاریں لیکن ریاکاری کا الزام نہ لگائیں۔
اسی طرح لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ کو کسی بھی نیک کام کے کرتے وقت یہ لگتا ہے کہ یہ کام میں ریاکاری کے لیے کر رہا ہوں تو اپنی نیت حتی الامکان درست کرنے کی کوشش کریں،
آپ کے دل میں یہ خوف آنا کہ”کہیں میں یہ کام ریاکاری کے لیے تو نہیں کر رہا ہوں“ ایمان کی علامت ہے۔لیکن اگر اس خوف سے آپ نے اس نیک کام کو ہی ترک کر دیا تو یہ شیطان کی جیت ہے۔اس خوف سے کبھی کسی نیک کام سے پیچھے نہ ہٹیں۔ہاں ریاکاری کے وسوسے کو دل سے نکالنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے اعمال کرنے کی خوب کوشش کریں جنھیں عموما اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔مثلا: تنہائی میں اللہ کے سامنے رونا،
جب بہ کثرت آپ ایسے خفیہ نیک اعمال کریں گے تو ان شاء اللہ شیطان آپ سے مایوس ہو جائے گا اور رسوا ہو کر دور بھاگ جائے گا۔






