جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ساعت انتظار

کلام: کاشف شکیل7 جون، 20212,036قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی دور زندگی سے ہے
جانِ جاں بس تری کمی سے ہے
وقت کے رخ پہ طنزیہ مسکان
عشقِ ناداں کی بے بسی سے ہے
آسماں پر جو دھند چھائی ہے
مہ جبیں! تیری بے رخی سے ہے
چاند تارے بھی مجھ سے پوچھتے ہیں
عشق تجھ کو بھی کیا اسی سے ہے
آنکھیں کیا دل بچھا‌ دیا ہے وہاں
تیرا گزران جس گلی سے ہے
جب سے تو اس وطن سے نکلا ہے
آنکھ کا رشتہ بس نمی سے ہے
ساعتِ انتظارِ ساعت خیز
ختم بس تیری واپسی سے ہے
دل سے کیا بحث کیجیے کاشف!
سارا شکوہ تو دلبری سے ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

H
Hidayatullah ishaati
8 جون، 2021
Masha Allah very nice

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ساعت انتظار - دی فری لانسر | دی فری لانسر