جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کیا عجب لوگ ہیں زخموں کو دوا کہتے ہیں

کلام: رشدی ندا7 جون، 20211,864قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آنکھ کو جھیل تو اشکوں کو گھٹا کہتے ہیں
کیا عجب لوگ ہیں زخموں کو دوا کہتے ہیں
عشق بھی ہم نے کیا ہے تو عبادت کی طرح
ہم تعلق کو بھی نیکی کا صلہ کہتے ہیں
کتنے مجبور ہیں حالات کے مارے ہوئے لوگ
اپنی بربادی کو قسمت کا لکھا کہتے ہیں
اب اسی شہر میں جل جاتے ہیں انساں اکثر
پتھروں کو بھی جہاں لوگ خدا کہتے ہیں
لے اڑے سر سے ردائیں بھی مرے شہر کے لوگ
کتنے معصوم ہیں آندھی کو ہوا کہتے ہیں
کوئی بیتاب اگر ہو تو تڑپ جاؤں میں
کوئی بتلائے یہ کیا ہے اسے کیا کہتے ہیں
شکوہ ظلم بھلا کیسے زباں پر آئے
آپ جب عرض تمنا کو گلہ کہتے ہیں
ایک گمنام سی لڑکی جو غزل کہنے لگی
ان دنوں لوگ اسے رشدیٰ ندا کہتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کیا عجب لوگ ہیں زخموں کو دوا کہتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر