جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کوئی شے راہ اعتدال بھی ہے

کلام: سحر محمود5 جون، 20212,143قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہجر میں لذت وصال بھی ہے
رونے والے تجھے خیال بھی ہے؟
بد نظر بھی ہے پائمال بھی ہے
اس سے بڑھ کر کوئی زوال بھی ہے
خوش نظر بھی ہے خوش خصال بھی ہے
خوبیوں کی یہی مثال بھی ہے
پاس اگر مال اور منال بھی ہے
پوچھ لے کوئی کچھ مجال بھی ہے
آج ہم سب یہ بھول بیٹھے ہیں
کوئی شے راہ اعتدال بھی ہے
با کمال آپ جس کو کہتے ہیں
واقعی کیا وہ با کمال بھی ہے
دو ہی کیفیتیں حیات میں ہیں
"کچھ خوشی بھی ہے کچھ ملال بھی ہے"
کیوں نہ مانوں میں دل کی سب باتیں
ہم نوا بھی وہ، ہم خیال بھی ہے
مال میں مسئلوں کا حل ہے مگر
مال ہی باعث جدال بھی ہے
ساری دنیا کی لذتوں میں سحر
منفرد لذت وصال بھی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کوئی شے راہ اعتدال بھی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر