جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

راہ مشکل ہے پائمال بھی ہے

کلام: عبدالکریم شاد25 مئی، 20212,025قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عشق کا مرحلہ محال بھی ہے
راہ مشکل ہے پائمال بھی ہے
کچھ مرے آئنے میں بال بھی ہے
کچھ مکدر ترا جمال بھی ہے
وہ ستم گر ہے خوش خصال بھی ہے
’’کچھ خوشی بھی ہے کچھ ملال بھی ہے‘‘
کیا کہیں اس فراق کی بابت
سنگ ہے زینۂ وصال بھی ہے
مستقل جل رہی ہے سینے میں
آگ جو نور کی مثال بھی ہے
ذہن و دل میں بلا کا ہے آشوب
اور کچھ کچھ ترا خیال بھی ہے
پاؤں اٹھتے نہیں تھکاوٹ سے
اور منزل کا احتمال بھی ہے
یوں تو آزاد ہے پرندۂ جاں
چار سو زندگی کا جال بھی ہے
کون سمجھائے ان پرندوں کو
دانے دانے میں ایک جال بھی ہے
ہائے مزدور کی سحر اے شاد!
جسم بیدار ہے نڈھال بھی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

راہ مشکل ہے پائمال بھی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر