جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آج پھر ارض فلسطین لہو تھوکتی ہے

کلام: رشدی ندا21 مئی، 20211,873قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غم کے ٹھہرے ہوئے دریا کو روانی دے دے
مرے اللہ مری آنکھ میں پانی دے دے
قصۂ درد بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے؟
کوئی دلکش مرے ماضی سے کہانی دے دے
دل یہ موسیٰ کی طرح تجھ سے دعا کرتا ہے
مجھ کو ہارون سا اک طرز بیانی دے دے
دل کے شب زاد اندھیروں میں اگادے سورج
ڈوبتی آنکھ کو اک شام سہانی دے دے
آج پھر ارض فلسطین لہو تھوکتی ہے
وقت کی گود کو فاروق کا ثانی دے دے
اب بچانا ہے تو خود قبلۂ اول ہم کو
کوئی پیغام فرشتوں کی زبانی دے دے
ایک مدت سے بھٹکتے ہیں جگر میں نالے
اب تو آہوں کو مرے نقل مکانی دے دے
اب ضرورت ہے کہ تاعرش ندا جائے خدا
جذبۂ امت مسلم کو جوانی دے دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آج پھر ارض فلسطین لہو تھوکتی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر