خون میں ہے فلسطین ڈوبا ہوا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کیسی حالت ہوئی اور کیا کیا ہوا
ہر کوئی ہے کورونا سے سہما ہوا
مفلسی میں نہ کوئی کسی کا ہوا
’’تجربہ زندگی میں اک ایسا ہوا‘‘
بھیج دے رب! کسی کو مدد کے لیے
خون میں ہے فلسطین ڈوبا ہوا
کس سے رکّھوں وفا کی توقع یہاں
تھا جو اپنا وہ پل میں پرایا ہوا
کیا ہوا ہے صنم، کچھ بتانا مجھے
آج چہرہ ہے کیوں تیرا اترا ہوا
زخم دے کر جگر کو مرے، نازنیں!
پوچھتے ہو کہ اظہرؔ بتا کیا ہوا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





