جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مری حسرتوں کو لباس دے

کلام: رشدی ندا10 مئی، 20211,674قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گہ آشنائے امید کر، گہ رمز گرمیٔ آس دے
کوئی زندگی کا پتہ بتا، مری حسرتوں کو لباس دے
مری ذات پر نگہ کرم، مرے کارساز ہو دم بہ دم
نہ غریق یاس و قنوط کر، نہ مقام خوف و ہراس دے
میں ہوں ایک ذرّۂ ناتواں، تری ذات رحمت بیکراں
تو ہی پتھروں کو گہر کرے، تو ہی مٹیوں کو کپاس دے
کبھی میرے دل سے نہ مٹ سکے، جو لبوں پہ آ کے نہ بجھ سکے
تری چاہتوں کی تلاش میں، وہی شوق دے وہی پیاس دے
وہ جو سن سکے مری خامشی، جو سمجھ سکے مری بے کلی
جو نفس نفس مجھے پڑھ سکے، کوئی ایسا حرف شناس دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مری حسرتوں کو لباس دے - دی فری لانسر | دی فری لانسر