مری حسرتوں کو لباس دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گہ آشنائے امید کر، گہ رمز گرمیٔ آس دے
کوئی زندگی کا پتہ بتا، مری حسرتوں کو لباس دے
مری ذات پر نگہ کرم، مرے کارساز ہو دم بہ دم
نہ غریق یاس و قنوط کر، نہ مقام خوف و ہراس دے
میں ہوں ایک ذرّۂ ناتواں، تری ذات رحمت بیکراں
تو ہی پتھروں کو گہر کرے، تو ہی مٹیوں کو کپاس دے
کبھی میرے دل سے نہ مٹ سکے، جو لبوں پہ آ کے نہ بجھ سکے
تری چاہتوں کی تلاش میں، وہی شوق دے وہی پیاس دے
وہ جو سن سکے مری خامشی، جو سمجھ سکے مری بے کلی
جو نفس نفس مجھے پڑھ سکے، کوئی ایسا حرف شناس دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





