ستم تو یہ ہے کہ اب میں ہی پیش و پس میں نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہیں ہے شئے کوئی جو میری دسترس میں نہیں
عجب ہے کھیل مگر میں ہی اپنے بس میں نہیں
تو اپنے دل سے غلط فہمیاں نکال سبھی
مری دعاؤں میں تو ہے مری ہوس میں نہیں
جو آکے بانٹ لے مجھ سے تری جدائی کا دکھ
یہ حوصلہ تو کسی بھی خدا ترس میں نہیں
میں جانتا ہوں مرے دوست بے گھری کا غذاب
نکال دینا تجھے دل سے میرے بس میں نہیں
وہ مطمئن تو نہیں اپنی بے وفائی سے
ستم تو یہ ہے کہ اب میں ہی پیش و پس میں نہیں
گلوں کو چھیڑ کے مخلصؔ بہت میں پچھتایا
حسِ مزاح ذرا سی بھی خار و خس میں نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





