وہ نار انتظار کا مجھے عذاب دے گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مری وفاؤں کا مجھے وہ یوں حساب دے گیا
مرے سمندروں کو چھین کر سراب دے گیا
تجھے خبر ہے تیرا باپ کتنا بے وقوف تھا
کہ جھرّیاں خرید کر تجھے شباب دے گیا
انا پرست میں بھی تھا مگر یہ عشق ہی تو تھا
کہ تجھ کو خار کے بجائے میں گلاب دے گیا
وصال اور کمال کا یہ سلسلہ رکا ہوا
وہ نار انتظار کا مجھے عذاب دے گیا
کتاب زیست کے سنہرے باب کو مٹا دیا
مجھے طویل ہجرتوں کا اک نصاب دے گیا
میں عشق کی زبان میں کہوں تو کیا کہوں اسے
مرا سکون چھین کر جو اضطراب دے گیا
’’ترا علاج کاشف! اب سوائے صبر کچھ نہیں‘‘
مرے پتے پہ عندلیب یہ جواب دے گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





