کچھ اشارے تری نیت کا پتا دیتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لوگ اس طرح محبت کا صلہ دیتے ہیں
صبح ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتے ہیں
جس کی ٹھوکر میں سنبھلنے کا سبق ہوتا ہے
راہ سے لوگ اسی پتھر کو ہٹا دیتے ہیں
کبھی جب قید کا احساس سوا ہوتا ہے
ہم ذرا دیر کو زنجیر ہلا دیتے ہیں
دیکھ اے داور محشر! تری دنیا والے
کیسے ناکردہ گناہوں کی سزا دیتے ہیں
حسن والے! ترا پردہ ہے سراسر دھوکا
کچھ اشارے تری نیت کا پتا دیتے ہیں
ہمیں فطرت سے تو انکار نہیں ہے لیکن
شوق دل کو ترے جلوے بھی ہوا دیتے ہیں
پیٹ بھر جائے تو خوشیوں کا نوالہ بے کار
بھوک اچھی ہو تو پھر غم بھی مزا دیتے ہیں
بھول جائیں گے ہمیں پھولوں پہ چلنے والے
پھر بھی ہم راہ سے کانٹوں کو ہٹا دیتے ہیں
ان سے اب اتنا تعلق مرا باقی ہے کہ وہ
ریت پر لکھ کے مرا نام مٹا دیتے ہیں
شاد! ہم رہتے ہیں خاموش سمندر کی طرح
لوگ دریا کی طرح شور مچا دیتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





