میں نے سب رشتے جہاں سے توڑ ڈالے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میری روداد الم پر دل ہنسا بھی
اور شرمندہ نہیں اس پر ذرا بھی
بجھ گیا ہے دل تو اب یہ سوچتا ہوں
تھا کئی طوفاں کا حامل یہ دیا بھی
جنگ جاری ہے محبت اور انا میں
جھیلنی ہے دل کو اب اس کی سزا بھی
الجھنیں بھی زیست کی سلجھا رہا ہوں
اور ہاتھ آتا نہیں کوئی سرا بھی
میں نے سب رشتے جہاں سے توڑ ڈالے
سخت مشکل ہے خودی کا مرحلہ بھی
درد میں کام آرہا ہوں میں سبھی کے
اور مسیحائی سے ہوں نا آشنا بھی
یوں تو ناواقف ہوں فن شاعری سے
شاعری لیکن ہے میرا مشغلہ بھی
کیا بتاؤں رات کس کا ذکر نکلا
کتنی باتیں کر گیا مجھ سے خدا بھی
کچھ نہیں اک کھیل ہے دنیا بھی مخلصؔ
کچھ دنوں تو میں وہاں جاکر رہا بھی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





