جو چپ رہتا ہے زیادہ بولتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ملاقاتوں کا لمحہ بولتا ہے
خموشی میں ارادہ بولتا ہے
نگاہوں کی بھی اپنی اک زباں ہے
نگاہوں کا اشارہ بولتا ہے
میں کیا ہوں کون ہوں مجھ سے نہ پوچھو
مری باتوں میں لہجہ بولتا ہے
ہزاروں لفظ سچائی کے پہنو
وہی سچ ہے جو چہرہ بولتا ہے
خموشی پر مری نالاں ہے دنیا
جو بولوں تو زمانہ بولتا ہے
جو کل تک مانگتا تھا بھیک سب سے
وہ خود کو شاہزادہ بولتا ہے
بہت طوفان ہے دل کی تہوں میں
یہ آنکھوں کا کنارا بولتا ہے
سبھی اہل زباں چپ ہیں و لیکن
لہو کا ایک قطرہ بولتا ہے
کوئی قیمت نہیں اب فکر و فن کی
حقیقت ہے کہ پیسہ بولتا ہے
اسے ڈسنے لگی ہے خود کلامی
جو چپ رہتا ہے زیادہ بولتا ہے
ابھی تک مجھ میں کوئی جی رہا ہے
ابھی دل کا پرندہ بولتا ہے
غزل ہے ایک دیوانوں کی بستی
یہاں ہر ایک مصرعہ بولتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





