تہنیت نامہ برائے نکاح کاشف شکیل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حیات نو مبارک ہو تمھیں اے دوست اے ہم دم
تمھارے گلشن دل میں ہوائے نو بہار آئے
تمھاری خواب گاہوں پر ہجوم رنگ و نکہت ہو
تمھاری راہ الفت میں حسیں ہر رہ گزار آئے
تمھاری قربت جسم و نظر کو ہو سحر حاصل
تمھارے ہاتھ میں تا عمر اک دست حنائی ہو
تمھارا مسکن شاد و مسرت وہ چمن ٹھہرے
جہاں خوشبوئے باد گل فشاں جنت سے آئی ہو
تبسم ہو سر رخسار الفت، لب بہ لب عشرت
منور ہو سرور و کیف سے یہ زندگی پیہم
نگاہ وشوخئ رخسار پہ ہو جان و دل قرباں
صداہائے غرور و ناز میں ہو نغمگی پیہم
تمھیں نا آشنائی ہو الم انگیز لمحوں سے
تمھارا دامن عشرت کبھی اشکوں سے تر نہ ہو
تمھاری آرزو اور شوق ہم آغوش منزل ہوں
تمھاری چشم ہائے خواب محتاج سحر نہ ہو
تمھاری خلوتوں پر ہو نقاب و پردۂ عالم
تمھاری جلوتوں پر بارش تسکین جنت ہو
تمھارے خواب کو گردوں سے شرف ہم کلامی ہو
تمھاری جستجو کے پاؤں میں گرد محبت ہو
بہت مشکل ہے جب ایفاء عہد پاک دامانی
خدا اس رشتہ نو کو حیا کا پیرہن بخشے
خدا اس آبروئے عشق کو حسن رفاقت کو
منقش بام و در بخشے، مثقف انجمن بخشے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
T
Tanveer ansari
17 مارچ، 2021Mashallah bhai





