جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

عجیب شخص ہوں دل میں اتر بھی سکتا ہوں

کلام: سراج عالم زخمی8 مارچ، 20211,984قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
معاملہ ہے وفا کا تو کر بھی سکتا ہوں
مگر یہ خوف کہ خود سے مکر بھی سکتا ہوں
نہ غور سے مجھے دیکھو، ذرا خیال رہے
عجیب شخص ہوں دل میں اتر بھی سکتا ہوں
میں نفرتوں میں رہا ہوں اسی کا خوگر ہوں
تمھارے پیار کی شدت سے ڈر بھی سکتا ہوں
جفائیں آج ہی کر ڈالو، کل پہ مت ٹالو
غریب فرد ہوں فاقوں سے مر بھی سکتا ہوں
حدیں بنا کے وہ کہتے ہیں میں دیوانہ ہوں
اگر یہ سچ ہے تو حد سے گذر بھی سکتا ہوں
مرے ہی خواب نہ دیکھو کہ خواب میں اک دن
کبھی جو موڈ بنا تو ٹھہر بھی سکتا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

عجیب شخص ہوں دل میں اتر بھی سکتا ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر