وہ مسرتوں کے موسم وہ نشاط کا زمانہ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ تو دشت ہے نہ صحرا نہ یہاں کوئی دوانہ
یہ دیارعشق ہی ہے یا کوئی خراب خانہ
مری منزل تمنا کوئی در نہ آستانہ
مرے لب پہ عمر بھر ہو تری مدح کا ترانہ
تجھے کیا سناؤں ہم دم میں کلام دل کہ تیرا
نہ شعور دل نوازی نہ مزاج عاشقانہ
ذرا کھل کے گفتگو کر یہ لحاظ کس لیے ہے
یہ ہے محفل رفیقاں یہ ہے بزم دوستانہ
وہ اسی لیے تھے شاداں کہ رفیق سوز و غم تھے
انھیں کب تھا زندگی سے کوئی ربط دل برانہ
وہی دے رہے ہیں ہم کو ابھی درس آدمیت
کہ گزر رہے ہیں جن کے شب و روز مجرمانہ
انھی حسرتوں میں دیکھو کہیں چھپ کے رہ رہے ہیں
وہ مسرتوں کے موسم وہ نشاط کا زمانہ
ہمیں یاد ہے ابھی تک وہ بہار نو محبت
وہ کبھی ترا تغافل وہ کبھی ترا بہانہ
مری بستی وفا پر ہے عذاب بے نوائی
سو لٹا ہوا ہے دیکھو یہاں ہر شعور خانہ
کبھی غم کی ہجرتوں سے جو قرار ہم کو آتا
تو ہمیں بھی مل ہی جاتا کوئی در کوئی ٹھکانہ
ترے دل کے طاقچوں پر جو چراغ جل رہے ہیں
ہیں حریف راہ شب وہ، ہیں نقیب شمع خانہ
وہ اسی لیے جہاں میں ابھی منفرد ہیں فائز
کہ جنوں کو ان کے حاصل ہے ادائے عارفانہ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
س
سعد
5 مارچ، 2021فائز صاحب بہت ہی اعلی درجے کا کلام ہے آپ کا. مبارک





