جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مری طرح کوئی سوچے تو باولا ہو جائے

کلام: سراج عالم زخمی1 مارچ، 20211,281قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مرے خدا تری رحمت کا آسرا ہو جائے
مرے خلاف بھلے میرا ہم نوا ہو جائے
میں ایک غم میں ہزاروں سراغ ڈھونڈتا ہوں
مری طرح کوئی سوچے تو باولا ہو جائے
وہ ایک سنگ سیہ ہے مگر کمال کا ہے
کوئی جو لمس بھی پا لے تو پارسا ہو جائے
تری ہواؤں کا طوفان تند و تیز سہی
مرے قریب سے گذرے تو پھر ہوا ہو جائے
ذرا سی شہہ جو ملی ہے تو ہوگیا مغرور
کچھ اور ہاتھ جو لگ جائے تو خدا ہو جائے
ہزار بار سنبھلتے سنبھلتے سنبھلے ہیں
کبھی جو پھر سے وہ مل جائے حادثہ ہو جائے
ہزار بات وہ بولیں تو کوئی بات نہیں
میں ایک بات جو کہہ دوں تو انتہا ہو جائے
یہ اس کا پیار مری جان لے کے چھوڑے گا
اسے کہو کہ ذرا دیر تو خفا ہو جائے
خیال ہجر کا لمحہ بھی اک عذاب سا ہے
ترے بغیر تو جینا ہی بد دعا ہو جائے
سراجؔ کچھ تو غزل میں جمال یار بھی ہو
اب اتنے غم نہ جتاؤ کہ مرثیہ ہو جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Mo Mubarak Rain
2 مارچ، 2021
اب اتنے نہ جتاؤ کہ مرثیہ ہوجائے بارك الله فى علمك و نفع بك الإسلام والمسلمين آمين

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مری طرح کوئی سوچے تو باولا ہو جائے - دی فری لانسر | دی فری لانسر