جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

استاذ گرامی مولانا محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ

کلام: شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی24 فروری، 20211,465قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
استاذ گرامی مولانا محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ
(۱۹۳۸-۲۰۰۹ء)
طرز ’’طالبؔ‘‘ رہی تحقیق میں آزادانہ
راس آئی نہ روش ’’ندوۂ‘‘ تقلیدانہ
ان کا انداز رہا درس میں تحقیقانہ
ان کا مقصود رہا منہج سلفیّانہ
ساتھ چھوڑا ہے رہ حق میں جو آسانی نے
راستہ گھیر لیا ان کا پریشانی نے
بحث و تمحیص میں اک جرأت رندانہ تھی
طرزِ تدریس بھی اوروں سے جداگانہ تھی
ان کی تحریر بھی تحقیق کا پیمانہ تھی
اصل میں علم و براہین کا دردانہ تھی
جو بھی بہتان تراشی کے مسائل دیکھیں
ان کی تردید میں حضرتؔ کے رسائل دیکھیں
سامنے جب کبھی احکام و مسائل آئے
نقد سنت کے لیے ان میں دلائل آئے
ان میں تقلید و تعصب کے خصائل آئے
ان کی تردید و تعاقب میں رسائل آئے
خود بھی وہ بسط دلائل کے بہت عادی تھے
دوسروں سے بھی اسی طرز کے فریادی تھے
رب کی جانب سے عجیب ہمت و طاقت پائی
محو تدریس تھے، تصنیف کی عادت پائی
دفع باطل کی بہر طور قیادت پائی
منہج علم نبوّت کی سعادت پائی
جور تقلید و تعصب میں، وہ یاد آتے تھے
حق کی تائید وہ انصاف سے فرماتے تھے
جرحؔ و تعدیلؔ ہے تمحیص رواۃ اخبار
اس سے وابستہ ہے سنت کا حقیقی معیار
کنز نبوی کی حفاظت کے لیے ہے در کار
اس کی خاطر جیے اصحاب حدیث مختار
نقد و تمحیص براہین کی ارزانی ہے
ان کی تحریر میں سنت کی ثنا خوانی ہے
دہر میں علم نبوت کی زبوں حالی تھی
مسند درس بہت دور تلک خالی تھی
بحث و تحقیق کی تقلید میں پامالی تھی
تنگ نظری تھی، تعصب کی جواں سالی تھی
ان کی تحقیق نے تقلید کا رخ موڑا ہے
اور دلائل سے تعصب کا صنم توڑا ہے
ان کا مسلک جو تھا وہ مسلک حنفیّہؔ تھا
یعنی تقلید کا پابند تھا خلفیّہ تھا
ان کو محبوب نہیں جلوۂ ندویّہؔ تھا
آرزوؤں کا محل جامعہ سلفیّہؔ تھا
سنت احمد مرسل رواں جذبات میں ہے
علم و دانش کا سراپا جو ہے ’’لمحات‘‘ میں ہے
نصّ ’’لمحات‘‘ کی تبییض جو درکار ہوئی
حکم حاکم سے طبیعت میری تیار ہوئی
اپنی تعطیل میں ہرکام سے بے زار ہوئی
خطّ باریک سے پھر برسر پیکار ہوئی
جہد اوّل ہے یہ ’’لمحات‘‘ کی تیاری میں
وہ جو شہ کار ہے مسلک کی وفا داری میں
صدیوں تقلید و تعصب کی رہی بد مستی
دور تہذیب و تمدّن میں بھی ایسی پستی
ان کی تحریر میں حق کی رہی بالادستی
مسند علم پہ فائز رہی ان کی ہستی
دام تقلید سے مصلحؔ وہ سدا تھے بے زار
دنیا کہتی تھی تبھی وہ ہیں رئیسؔ الأحرار
مصلحؔ نوشہروی( ۱۱؍۱۰؍۲۰۱۵ء، نئی دہلی)
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

استاذ گرامی مولانا محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر