جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں

کلام: سراج عالم زخمی17 فروری، 20211,590قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کہاں تلک تری یادوں سے تخلیہ کر لیں
ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں
نہ اشک آنکھ میں آئے نہ آنکھ بہہ نکلے
تو کیوں نہ جانب پہلو ہی آج وا کر لیں
ہزار رنگ قباؤں پہ ڈال رکھے ہیں
عجیب خبط ہے دامن کو پارسا کر لیں
بڑے غرور سے کی ہے ضمیر نے توبہ
جو تو ملے کبھی تنہا تو پھر خطا کر لیں
مرے لیے تو یہ دنیا سراب جیسی ہے
اب اس پہ خاک نہ ڈالیں تو اور کیا کر لیں
نہ دل رہے، نہ محبت رہے، نہ درد رہے
چلو اکیلے میں مل کر یہ فیصلہ کر لیں
انھی کا نام ہے دل کی ہر ایک دھڑکن پر
وہ چاہتے ہیں کہ سانسیں بھی اب بتا کر لیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہم اپنے آپ کو بھولے ہیں اور کیا کر لیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر