اگر میں عشق نہ کرتا تو رہبری کرتا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اسے قضا نے نہیں مفلسی نے مارا ہے
وہ بھوک سے جو نہ مرتا تو خود کشی کرتا
پرانے دور میں صحرائی ہو گیا مجنوں
ہمارے دور میں ہوتا تو شاعری کرتا
بہت سے ننھے چراغوں کا بوجھ تھا مجھ پر
بھلا میں کیسے ہواؤں سے دشمنی کرتا
منافقت سے کوئی ربط ہی نہ تھا مجھ کو
وگرنہ کھل کے میں دنیا سے دوستی کرتا
میں در بدر ہوں محبت کی راہ میں ورنہ
اگر میں عشق نہ کرتا تو رہبری کرتا
اسے نہ پانے کا دکھ ہے مگر یہ سچ ہے سراج
وہ مل بھی جاتا تو مجھ کو اداس ہی کرتا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





