بے بسی آئی ہے ساری حصہ دہقان میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
فصل نفرت کی اگائی جس نے ہندوستان میں
ہم قصیدے لکھ نہیں سکتے ہیں اس کی شان میں
رفتہ رفتہ باد صر صر نے سبھی جھلسا دیے
گل کوئی پہلے کے جیسااب کہاں گلدان میں
واسطہ اردو سے کوئی ہے نہ ہے تہذیب سے
آ گئے ہیں کیسے کیسے لوگ ادبستان میں
ان کا صدقہ ہی میسر ہو مرے اشعار کو
خوبیاں ہیں جو کلام حضرت حسان میں
زندہ جاوید ازل سے ہیں فقیران جہاں
کھو گئے جبکہ امیر وقت قبرستان میں
آ گیا جس وقت اس کا حجرہ دل میں خیال
مشک و عنبر سی مہک محسوس کی لوبان میں
تھا امیر شہر کو گھیرے مصاحب کا ہجوم
مرگئی گھٹ کے صدا لاچار کی ایوان میں
آپ میری زندگی میں آ گئے تو یوں لگا
مل گئیں شبنم کی بوندیں گویا ریگستان میں
جوں نہیں کیوں رینگتی ہے باغباں کے کان پر
بلبل بے داد ہے نالہ کناں بستان میں
فصل تو ساری کی ساری قرض میں جاتی رہی
بے بسی آئی ہے ساری حصہ دہقان میں
ہم نئے شعراء سمجھتے تھے جنھیں ان کے خمارؔ
ہیں کئی اشعار شامل میر کے دیوان میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ع
عبد الرحیم بنارسی
11 فروری، 2021سبحان الله بہت خوب





