جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مچل رہا ہے ورق پر عبارتوں کا لہو

کلام: ہدایت اللہ خان شمسی26 جنوری، 20211,962قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تڑپ تڑپ کے پکارے شہادتوں کا لہو
نہ ہونے پائے زمیں پر صداقتوں کا لہو
جہاں میں ناچ رہی ہیں قطاریں لاشوں کی
مچل رہا ہے ورق پر عبارتوں کا لہو
اٹھو کہ ظلم کے ہاتھوں کو ہے قلم کرنا
جو پی رہے ہیں ابھی تک شرافتوں کا لہو
پڑھے نماز تو بدلے میں دولتیں مانگے
کرے یہ آج کا زاہد عبادتوں کا لہو
شب سیاہ سے نکلو کرن کی صورت اب
چراغ بن کے کرو پھر سے ظلمتوں کا لہو
گلوں کا قتل ہوا تو اٹھے گا حشر یہاں
صبا نہ کر تو گلستاں میں نکہتوں کا لہو
کیا ہے خوب نئی بدعتوں کے خنجر سے
جہاں پرست مسلماں نے سنتوں کا لہو
خدا نے جن کو نوازا ہے فضل سے شمسیؔ
قدم قدم پہ کریں وہ قرابتوں کا لہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مچل رہا ہے ورق پر عبارتوں کا لہو - دی فری لانسر | دی فری لانسر