جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کوئی نگاہ بھی اپنا مقام چاہتی ہے

کلام: محمد وسیم مخلصؔ24 جنوری، 20211,507قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تری نظر میں محبت دوام چاہتی ہے
ادب کے باب میں کچھ احترام چاہتی ہے
شکستہ پائی شکست جنوں نہ بن جائے
یہ ہم رکابی مسلسل قیام چاہتی ہے
میں اس امید کو پیرایۂ حسیں کیا دوں
جو التفات کرم پیش گام چاہتی ہے
میری انا ہی میری آرزو کی قاتل ہے
کہ تشنگی بھی بصد اہتمام چاہتی ہے
خیال خام کے اس بے کراں سمندر میں
کوئی نگاہ بھی اپنا مقام چاہتی ہے
نسیم صبح تیری زلف چوم کر گزری
سو داد مستیٔ روش خرام چاہتی ہے
ہر ایک جرم ٹھہر جائے وجہ دار و رسن
یہ خلق بھی کوئی ایسا نظام چاہتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کوئی نگاہ بھی اپنا مقام چاہتی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر